Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مصنوعی زندگیاں (نشتر قلم۔زبیر طیب)

مصنوعی زندگیاں

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 576)

اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ معاشرے میں آج کل دکھاوے اور جھوٹ کی ایسی فصل کھڑی ہو چکی ہے کہ الامان والحفیظ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو جھوٹ سے نفرت کی توفیق عطا فرمائیں اور دکھاوے کی زندگی سے محفوظ رکھیں۔ آمین

ضرورتاً جھوٹ بولنے کی عادت

آج کل کے جدید دور میں یہ ایک فیشن بن گیا ہے۔ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ضرورتاً جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے سامنے اگر ان کی سچائی آ گئی تو سبکی ہو گی۔ ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے ’’رامیٹریل‘‘ فراہم کرتے ہیں۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے میٹریل کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ ہی یہ جھوٹ ہے۔ جو چوربازاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، غیر معیاری جان لیوا اشیا کا فروغ، کامیابی کے حصول کے مختصر راستے، آمدنی کے غلط ذرایع کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتا ہے۔ یہ منفی رویے سب کے سب سکہ رائج الوقت ہیں۔

جھوٹ کو ہمیشہ چھپنے کے راستے مل جاتے ہیں۔ یہ حسین چہروں، امارت، قیمتی کپڑوں، بڑی گاڑیوں اور بیش بہا چیزوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ جھوٹ خودشناسی کے جوہر سے محروم کردیتا ہے۔یہ سوال بارہا ذہن میں اٹھتا رہا کہ آخر لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ جھوٹ اور سچ کے درمیان الجھی زندگی کی کہانی آگے چل کر کون سا موڑ اختیار کرے گی۔ جھوٹ کی گہری کھائی میں گرنے سے پہلے ہم سچ کا دامن کیوں نہیں تھام لیتے؟سچائی آزادی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ  انسان گمان میں مبتلا ہوکر خوش ہوتا ہے۔ جس سے اس کی زندگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔ اگر انسانی زندگی جھوٹی شان سے محروم ہوجائے تو وہ سپاٹ، اداس اور بدحال دکھائی دینے لگتی ہے۔ لہٰذا زندگی کی رونقیں اور تمام تر خوبصورتی جھوٹی شان، دکھاوے اور منافقت کے اردگرد گھومتی ہیں۔ اس لیے انسان سچائی سے نفرت کرتا ہے۔ کیونکہ سچ کے آئینے میں وہ اپنا اصلی روپ نہیں دیکھنا چاہتا۔

زندگی کی تمام تر پیچیدگیاں جھوٹ کی مرہون منت ہیں۔ یہ وہ معمہ ہے، جس کے سرے کہیں نہ کہیں جھوٹ اور غلط بیانی سے جا ملتے ہیں۔ سچے اور کھرے لوگ قابل قبول نہیں ہوتے۔ نہ انھیں محفلوں میں بلایا جاتا ہے۔ اور نہ ہی ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ لہٰذا دکھ تکلیف اور مصائب کو سوچ کر سچ کے بجائے انسان مصلحت پسند بن جاتا ہے۔ جن معاشروں میں دہرا معیار پایا جاتا ہے وہاں جھوٹ دھرنا مار کر سانس لیتے خلیوں میں بیٹھ جاتا ہے۔ پھر ورثے کی صورت نسل در نسل گردش کرنے لگتا ہے۔

اپنے بارے میں سچ بولئے

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتا ہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔لیکن ایک نام نہاد اسٹیٹس کو قائم رکھنے کے لئے ہم یہ چھوٹا سا جھوٹ بھی بولنے سے نہیں ہچکچاتے۔ کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں یار دیکھو اسے ’’کافی ‘‘جیسی ’’سٹائلش‘‘ چیز پسند نہیں۔

 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو ساگ  اور اس پر مکھن رکھ کر کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا دلیہ کب چکھا تھا؟ بھینس کی بوہلی کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ بوہلی کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔

انگریزی کی ملمع سازی

 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتا ہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتا ہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے  ’’اَن بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اب ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنا ہے۔ ہم پر ایک جنون سوار ہے۔ موبائل سے لے کر قیمتی گاڑی تک اور پیزا سے لے کر امپورٹڈ بسکٹ تک کے اسپیشل نام ازبر ہونا ضروری ہیں۔ ورنہ کسی کے ہاں سبکی ہو گئی تو؟ یہی جنون ہم سے ہماری اصل زندگی چھینتا چلا جا رہا ہے۔ سچ بتائیے گا کہ کیا مونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے پیزا کا ’’چکن فتیجہ ‘‘ کوئی اہمیت رکھتا ہے؟ کیا چلی ساس ، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟ گڑ کی ڈلی سے بہتر کس چاکلیٹ میں ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کسی فائیو سٹار ہوٹل  کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟ سرسوں کے تیل سے زیادہ سر کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ جاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟ مکئی کی روٹی اور ساگ کے سامنے جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی آپ فرق معلوم کر لیں گے۔

لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں یہ چیزیں پسند نہیں۔ کیونکہ اب ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہاں کے لوگوں کو یہ سب پسند نہیں۔ اسے بیک ورڈ کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ دوسروں کی پسند کا دھیان رکھنے کی دوڑ میں ہم ان چیزوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں جن کے کبھی ہم دیوانے ہوا کرتے تھے۔ اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑ رہا ہے۔

سچ بتائیے ہم نے کتنی ہی محنت سے اپنے ذائقے بدل لیے۔ اپنے رویے تبدیل کر لئے، اب ہم معمولی سی بات کو بیان کرنے کے لئے تھوڑا گھما کر بیان کر تے ہیں۔ نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔ لیکن یہ سب کر کے ہم اس جھوٹے معاشرے میں ایڈجسٹ ضرور ہو جاتے ہیں۔ پھر بے شک ہماری قیمیض کی بغلیں پھٹی ہوں ، پیروں میں قینچی چپل ہو ، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ’’رائل فیملی ‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے امیر رشتے دار ضرور رکھے ہوئیہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنے رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جا سکے۔ خود وہ کیا ہیں؟ یہ انہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔

مصنوعی زندگی چھوڑئیے

اپنی زندگی کو زیادہ باوقار اور پر اثر بنانا خود ہمارے اختیار میں ہے۔ جب ہم آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے بھلائی اور سلامتی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ اظہار محض رسمی ہوتا ہے، محض بناوٹی ہوتا ہے، اس کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا۔ ہر روز ہمارے پاس ایسے ہی کئی مواقع ہوتے ہیں لیکن ہم اکثر بناوٹ سے کام لیتے ہیں، لیکن اگر ہم چاہیں تو دوسروں کیلئے خیر خواہی کا سچا اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم بظاہر کسی کی بات سن رہے ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہم اس شخص کی بات پر ذرا بھی توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔ ہم اس کی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہم تو صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے اندر اپنی انا کا شور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہمیں باہر کی کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم باتوں کا جواب مسکراہٹ سے دے رہے ہوتے ہیں مگر یہ مسکراہٹ مصنوعی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کی تعریف کی زحمت ہی نہیں کرتے اور اگر کریں بھی تو دل سے نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کوئی وعدہ کر رہے ہوں گے مشورہ دے رہے ہوں گے یا رہنمائی کر رہے ہوں گے اور یہ سب کچھ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہمارے مہربانی اور شفت کے جملے جعلی ہوتے ہیں۔ شکر ہے کہ الفاظ بے جان اور نمائشی ہوتے ہیں اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا یا غلطی کی معافی مانگ لینا محض دکھاوا ہوتا ہے۔ اس تضاد جھوٹ اور کھوکھلے پن سے ہم سب سے زیادہ اپنا نقصان ہی کرتے ہیں۔ ہمارے اندر نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ ہمارا ذہنی سکون ختم ہونے لگتا ہے۔ ہم دوسروں سے جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن ہم خود سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ہماری باڈی لینگوئج جھوٹ میں ہمارا ساتھ نہیں دیتی۔

خدارا مصنوعی زندگی چھوڑئیے۔ جھوٹ بولنے اور نہ ہی گھما پھرا کر بات کرنے کی ضرورت بالکل نہیں۔ آپ نے گھر کا راشن ایک چھوٹے سے سٹور سے لیا ہو یا کسی بڑے مارٹ سے کسی کو حقیقت بتانے میں کوئی حرج نہیں۔ آپ نے اپنا سوٹ کسی برانڈ سے لیا ہے یا عام دوکان سے اس کو پوچھنے پر واضح کر دینے سے آپ کے سٹیسٹس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ آپ نے صبح اٹھ کر انڈہ پراٹھا کھایا ہے یا جیم سلائس کسی کو ٹھیک بتانے سے آپ پینڈو نہیں بن جائیں گے۔کافی کی جگہ  چائے پینے سے آپ کا مذاق نہیں اڑے گا۔ کسی کی تعریف کو دل چاہ رہا ہو تو دل سے کر لیجئے اس سے آپ کے اندر کی اچھائی میں کمی واقع نہیں ہو جائے گی۔آپ سائیکل کو پنکچر لگاتے ہیں یا کپڑوں کا بزنس کرتے ہیں سچ بات بتانے میں کوئی عار نہ سمجھئے۔آپ کے گھر گاڑی ہے یا سائیکل کسی کو بتانے سے آپ کا شمار غرباء مساکین میں نہیں ہو جائے گا۔ یہ سب کرنے سے ہاں اتنا ضرور ہو گا کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا۔ آپ کا قلب سکون محسوس کرے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online