Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

وقار احمد ریاض شہیدؒ (بل احیاء۔ عبد اللہ ندیم)

وقار احمد ریاض شہیدؒ

عبد اللہ ندیم (شمارہ 576)

وقار احمد ریاض، کوٹلی شاہ جہانیاں ( لالا موسیٰ) سے تعلق رکھنے والے تھے۔ 28 مارچ 2014؁ء کو کھٹوعہ کیمپ وادی کشمیر میں شہید ہوئے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کی قربانی کو امت مسلمہ کی بیداری اور کشمیر کی آزادی کا سبب بنائے۔ آمین

شہدائے اسلام نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر امت مسلمہ کو کافروں کے ظلم و ستم سے نجات کا طریقہ اور خلافت اسلامیہ کی داغ بیل ڈال دی ہے ۔ اہل کفر مختلف حربوں سے امت کو ظلم و ستم کا شکار کرتے ہیں اور اسلام کی سربلندی کے لئے اٹھنے والی تحریکوں میں نفاق ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اہل ایمان اگر تھوڑی سی استقامت کا مظاہرہ کریں تو کفر کے تمام جال انہی کے اوپر واپس پلٹے جا سکتے ہیں۔ یہی شہدائے اسلام کا طرز عمل ہے اور یہی سبق بھی۔ اہل کفر کی دن رات کی محنت اس وقت رائیگاںچلی جاتی ہے جب بھی کوئی گم نام شہید اپنے معسکر سے نکل کر کفر کے ایوانوں میں داخل ہو کر ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیتا ہے ۔

جہاد ایک ایسا فریضہ ہے جو اہل دنیا کے لئے ظلم و ستم ، غلامی جیسی لعنت سے چھٹکارا اور امن کی راہیں متعین کرتا ہے۔ جہادکی بدولت غلامی کی زندگی بسر کرنے والی اَقوام آزادی سے زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔ ایمان کی بہاریں چہار سو عالم اپنا ایمانی رنگ بکھیرتی ہیں اور آزادی و ایمان کے نغمے گونجتے ہیں ۔ آج دنیا میں جو بھی فساد کی صورت نظر آ رہی ہے یہ امت مسلمہ کے افراد کا جہاد سے فرار کا نتیجہ ہے۔ آج پوری دنیا میں دین مبین کے ماننے والوں پر جو بیت رہی ہے اس کی ذمہ داری بھی کسی دوسری قوم پر نہیں ڈالی جا سکتی اس کی ذمہ دار بھی یہ امت ہی ہے کیونکہ انہوں نے دین کو معیار نہیں بنایا اور دنیا کو معیار بنا کر اسی کی طلب میں لگ کر اپنی اور آنے والی نسلوں کے لئے اس دنیا کو جہنم بنا دیا ہے۔ آج وقت ہے کہ پوری امت مسلمہ متحد ہو کر کفر کا مقابلہ کرے اور ایک جسم کی مانند کفر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے یہی شہدائے اسلام کا پیغام ہے اور ان لوگوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کے تحفظ وآزادی کے لئے قربانی پیش کی۔

ذیل میں بھائی وقار احمد ریاض کا وصیت نامہ آپ کی خدمت میں پیش ہے کہ شاید کوئی اہل ایمان اس کو پڑھ کر اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائے اور امت مسلمہ کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیشہ آپ سب کو خیر وعافیت سے رکھے۔ آمین

آج آپ جو باتیں سن رہے ہیں وہ میرے منہ کی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دل سے نکلا ہوا پیغام ہے جو شاید میری زبان زندگی میں کبھی نہ کہہ پاتی لیکن اس قلم نے اتنی جسارت کی کہ اس پیغام کو آپ تک پہنچانے کے لئے اس نے میرا ساتھ دیا۔ میرا پیغام وہی ہے جو امت مسلمہ کے ہر شہید کا پیغام ہے۔

آج پوری دنیا میں پیارے آقا مدنی ﷺ کی امت کا خون بہہ رہا ہے ۔ آج دنیائے کفر مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن آج مسلمان جبکہ ان کو متحد ہونا چاہیے آج ایک دوسرے کا گلا بھی یہ خود کاٹ رہے ہیں لیکن اس فتنہ و فساد کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے لوگوں کو چنا ہے جو دین کی عظمت کے لئے، قرآن کی عظمت کے لئے، نبی پاک ﷺ کی ناموس کے لئے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کی پرواہ کیے بغیر اس پاک راستہ یعنی جہاد میں نکلے ہیں۔ امت مسلمہ کے خون کو بچانے اور امت مسلمہ کو کافروں کے ظلم و ستم سے بچانے کا واحد راستہ جہاد ہے۔ کتنے ہی خوش(نصیب) ہیں وہ ماں باپ، بہن بھائی جن کا بیٹا جن کا بھائی اپنے رب کی رضا کے لئے اس راستہ میں نکلتا ہے اور وہ شہید ہو کر اپنے رب کا مہمان بن کر ہمیشہ کی زندگی جیتا ہے ۔ شہادت کوئی موت نہیں بلکہ شہادت تو مجاہد کا جام ہے، میٹھی زندگی ہے، جو بہت ہی خوش نصیب لوگوں کو ملتی ہے۔ یقیناً وہ ماں باپ بہت خوش قسمت ہیں جن کے بیٹے اللہ کی رضا کے لئے شہادت پا گئے ۔ قیامت کا دن جو یقیناً بہت سخت دن ہو گا اس دن جب دنیا اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے گی ۔اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے سروں پر ایسا تاج رکھیں گے جو نور ہی نور ہو گا۔ وہ کون لوگ ہوں گے؟ وہ لوگ رب کے پیارے شہداء کے ماں باپ ہوں گے۔

پیاری امی جان! پیارے ابو جان! اور میرے پیارے بہن بھائیو! میری شہادت کا پیغام سن کر غم نہ کرنا کیونکہ میری جدائی کے غم سے زیادہ آپ کو پیارے آقا ﷺ کی امت کا غم ہونا چاہیے۔ امید ہے کہ اتنے بڑے غم کے سامنے میری جدائی کا غم آپ کو نہیں رُلائے گا۔ اگر آپ کا رونا ضروری ہو تو مظلوم مسلمانوں کے غم میں رونا۔ اگر رونا ہو تو ان لٹتی ہوئی مظلوم ماؤں اور بہنوں کے غم میں رونا جو چیخ چیخ کر پکارتی ہیں کہ یا رب! ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج، جو ان ظالموں کے ظلم سے ہم کو نجات دلائے۔

اے میرے عزیزو!میں جانتا ہوں کہ میں آپ سب کے حقوق ادا نہیں کر سکتا اور شاید اس پُر فتن دور میں ادا کر بھی نہ سکتا۔ امید ہے کہ آپ سب مجھ کو خوش دِلی سے معاف فرما دیں گے اور اگر مجھ سے کوئی غلطی گستاخی ہو گئی ہو تو تہہ دل سے معافی کا طلبگار ہوں۔ پیاری امی جان اور ابو جان خصوصا آپ سے معافی کا خواستگار ہوں۔ پیاری امی جان آپ کی قربانی پر رشک کرتا ہوں کہ جب بھی میں نے اجازت چاہی آپ نے بخوشی مجھے الوداع کہا۔ پیاری امی جان میں نے جب بھی آپ سے شہادت کی دعا مانگنے کا کہا تو آپ کہتی کہ دعا تو بہت کرتی ہوں مگر پتہ نہیں قبول ہوتی ہے کہ نہیں۔ پیاری امی جان آج میرے رب نے آپ کے بیٹے کو قبول فرما لیا ہے اور آپ کی دعا کو بھی…

پیاری امی جان اب میری شہادت کی قبولیت کی دعا مانگنا۔ پیاری بہنو اور بھائیو، باتیں تو دل میں بہت ہیں لیکن معذرت کرتا ہوں آپ سب کو علیحدہ علیحدہ مخاطب کروں کیونکہ نہ اتنا وقت ہے اور نہ ہی کتاب لکھنے کا موڈ۔ بس آپ سے اپنے کیے کی معافی مانگتا ہوں اور دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ جب کبھی میری یاد آئے تو دو رکعت نفل پڑھ کر میرے لئے قبولیت کی دعا مانگنا۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے اور دنیا و آخرت کی تکالیف سے محفوظ رکھے۔ پیاری امی جان ، ابو جان اور بہن بھائیو! صرف مجھے ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کے مجاہدین کو اپنا بیٹا اور بھائی سمجھ کر ان کے لئے دعاگو رہنا۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

آپ کا بیٹا

وقار احمد ریاض

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online