Bismillah

582

 ۲۶جمادی الاولیٰ تا ۲جمادی الثانی۱۴۳۸ھ    ۲۴فروری تا ۲ مارچ۲۰۱۷ء

2016؁ء کا کشمیر… ایک جائزہ رپورٹ (محمد فیض اللہ جاوید)

2016؁ء کا کشمیر… ایک جائزہ رپورٹ (آخری قسط)

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 576)

گزشتہ سے پیوستہ

اکتوبر 2016ء

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں اکتوبر میں 2 بچوں سمیت 17 کشمیریوں کو شہید کیا۔بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی مظاہرین پرپیلٹ گن اور آنسوگیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ایک ہزا ر2 سو76 کشمیری شدیدزخمی ہوئے جبکہ اس عرصے کے دوران1ہزار5سو48شہریوں کو جن میں بیشتر نوجوان اور حریت کارکن شامل تھے گرفتار کیاگیا۔12اکتوبر کو پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف دستاویز اقوام متحدہ میں پیش کی گئی۔کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے جاری تشدد اور کرفیو کے سو دن مکمل ہونے پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔اسی ماہ میں بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا گیا۔

نومبر 2016ء

نومبر کا مہینہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر حملوں کی نظر کیا ، جس کی وجہ سے پاکستانی عوام کی نظریں کشمیری عوام کی جد وجہد کی بجائے لائن آف کنٹرول کی جانب مرکوز ہو گئیں ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس ماہ میں ایک زیر حراست فرد سمیت چوبیس افراد شہید، تین سو باون زخمی ، دو سو دو افراد کو گرفتار، ایک سو اکیس گھروں کو تباہ کیا گیا ، جبکہ پندرہ خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ 22نومبر کو اقوام متحدہ میں غیر ملکی تسلط کے خلاف اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔ قرارداد میں حق خود ارادیت کو کشمیری عوام کا بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا تھا اور لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کے لیے کارروائیوں کی مذمت کی گئی ۔حریت قیادت نے بھارتی تسلط کے خلاف احتجاجی تحریک کو یکم دسمبر تک توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

دسمبر 2016ء

7دسمبرکو مقبوضہ کشمیر کے علاقے بیج بہاڑہ میں مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان طویل جھڑپ ہوئی جس میں تین بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی جبکہ اسی دوران چار مکانات بارودی مواد سے اڑائے گئے۔امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال سے سینکڑوں افراد مستقل طور پر معذور ہو گئے ہیں، جن میں سے متعدد افراد ایسے ہیں جن کی بینائی جا چکی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے 12 بور کی جو شاٹ گن استعمال کی تھیں وہ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے بالکل ناموزوں ہیں۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے پیر کو امریکہ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ وادی میں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج میں رکاوٹیں ڈالتی رہی ہیں۔

۳جولائی سے لے کر تادم تحریر تین سو سے زائد کشمیریوں کو شہید جبکہ5000سے زائد کو زخمی کیا گیا۔ان میں سے 2330کو پیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیا گیا ہے۔ 22نوجوانوں کو پیلٹ گن سے زخمی کر کے بینائی سے محروم کر دیا گیا 307نوجوانوں کو معمولی نوعیت کی آنکھو ں کی بینائی کا شکار کیا گیا، 6500 مکانات تباہ کیے گئے، 37 سکولوں کی عمارتیں تباہ کی گئیں۔ 9700 لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ، 608 لوگوں کو کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔

 2016تو گزر گیا ہے مگر اس سال کے دوران کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جو قہر ڈالے گئے ان کی مثال نسل انسانی میں کہیں نہیں ملتی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر میں جاری تشدد کو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق ، حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دلانے کے لیے ہرممکن کوشش بروئے کار لائی جائے۔

٭…٭…٭

گزشتہ سے پیوستہ

اکتوبر 2016ء

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں اکتوبر میں 2 بچوں سمیت 17 کشمیریوں کو شہید کیا۔بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی مظاہرین پرپیلٹ گن اور آنسوگیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ایک ہزا ر2 سو76 کشمیری شدیدزخمی ہوئے جبکہ اس عرصے کے دوران1ہزار5سو48شہریوں کو جن میں بیشتر نوجوان اور حریت کارکن شامل تھے گرفتار کیاگیا۔12اکتوبر کو پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف دستاویز اقوام متحدہ میں پیش کی گئی۔کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے جاری تشدد اور کرفیو کے سو دن مکمل ہونے پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔اسی ماہ میں بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا گیا۔

نومبر 2016ء

نومبر کا مہینہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر حملوں کی نظر کیا ، جس کی وجہ سے پاکستانی عوام کی نظریں کشمیری عوام کی جد وجہد کی بجائے لائن آف کنٹرول کی جانب مرکوز ہو گئیں ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس ماہ میں ایک زیر حراست فرد سمیت چوبیس افراد شہید، تین سو باون زخمی ، دو سو دو افراد کو گرفتار، ایک سو اکیس گھروں کو تباہ کیا گیا ، جبکہ پندرہ خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ 22نومبر کو اقوام متحدہ میں غیر ملکی تسلط کے خلاف اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔ قرارداد میں حق خود ارادیت کو کشمیری عوام کا بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا تھا اور لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کے لیے کارروائیوں کی مذمت کی گئی ۔حریت قیادت نے بھارتی تسلط کے خلاف احتجاجی تحریک کو یکم دسمبر تک توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

دسمبر 2016ء

7دسمبرکو مقبوضہ کشمیر کے علاقے بیج بہاڑہ میں مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان طویل جھڑپ ہوئی جس میں تین بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی جبکہ اسی دوران چار مکانات بارودی مواد سے اڑائے گئے۔امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال سے سینکڑوں افراد مستقل طور پر معذور ہو گئے ہیں، جن میں سے متعدد افراد ایسے ہیں جن کی بینائی جا چکی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے 12 بور کی جو شاٹ گن استعمال کی تھیں وہ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے بالکل ناموزوں ہیں۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے پیر کو امریکہ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ وادی میں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج میں رکاوٹیں ڈالتی رہی ہیں۔

۳جولائی سے لے کر تادم تحریر تین سو سے زائد کشمیریوں کو شہید جبکہ5000سے زائد کو زخمی کیا گیا۔ان میں سے 2330کو پیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیا گیا ہے۔ 22نوجوانوں کو پیلٹ گن سے زخمی کر کے بینائی سے محروم کر دیا گیا 307نوجوانوں کو معمولی نوعیت کی آنکھو ں کی بینائی کا شکار کیا گیا، 6500 مکانات تباہ کیے گئے، 37 سکولوں کی عمارتیں تباہ کی گئیں۔ 9700 لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ، 608 لوگوں کو کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔

 2016تو گزر گیا ہے مگر اس سال کے دوران کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جو قہر ڈالے گئے ان کی مثال نسل انسانی میں کہیں نہیں ملتی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر میں جاری تشدد کو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق ، حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دلانے کے لیے ہرممکن کوشش بروئے کار لائی جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online