Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

اِسلام کا معاشی نظام (محمد عبد اللہ ضیاء)

اِسلام کا معاشی نظام

محمد عبد اللہ ضیاء (شمارہ 576)

اِسلام کا معاشی نظم و ضبط اسلامی معاشرے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سب سے پہلی بات جو اسلامی معیشت کے حوالے سے یاد رکھنا ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ اسلام درحقیقت ایک معاشی نظام نہیں بلکہ اسلام ایک نظام زندگی ہے جس کا اہم شعبہ معیشت اور اقتصاد بھی ہے۔ علم الاقتصاد وہ علم ہے جس میں پیداوار اور اس کی تقسیم کے متعلق احوال سے بحث کی جائے ( مال کے حصول اور اس کے خرچ کی مناسب تدبیر کرنے کا فن ) علم معاشیات کہلاتا ہے۔

ہم جس چیز کو اکنامس کہتے ہیں، عرب میںاس کا ترجمہ ’’اقتصاد ‘‘ سے کیا جاتا ہے اور اردو میں اس کے معنی ہیں انسان اپنی ضرورت کو کفایت کے ساتھ پورا کرے ۔ اسلامی نظام میں معیشت کی بنیاد اس توازن پر ہے جو وہ خود معاشرے کے حقوق کے درمیان قائم کرتا ہے کیونکہ اسلام نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی طرح فرد کو اس حد تک کھلی چھٹی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرتا رہے اور جہاں سے مرضی کھائے اور جہاں مرضی ہو خرچ کرے اور نہ اشتراکی نظام کی طرح فرد کو اس قدر جکڑ دیتا ہے کہ اس کے لئے سانس لینے کی گنجائش بھی رہے بلکہ اسلام فرد کے حقوق اور آزادی کا احترام کرتا ہے مگر اس حد تک کہ اس سے معاشرے کے اجتماعی مفادات اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدودمیں زد نہ پڑے اور جب فرد اور معاشرے کے مفادات میں تضاد ہو گا تو اسلام اجتماعی حقوق اور اپنے اصولی ضوابط کو ترجیح دے گا مثال کے طور پر سرمایہ دارانہ نظام میں ایک عورت اگر اپنی عصمت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بناتی ہے تو حکومت کو اس سے کوئی بحث نہیں اور اس کا مقصد صرف اپنے ٹیکس کی وصولی ہے۔اس کے برعکس اشتراکی نظام میں ایک فرد کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ مشین کے پرزے کی طرح کام کرے اور اپنا راشن وصول کرے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں اور اسے اپنے دل کے احساسات اور دماغ کے تصورات کو زبان پر لانے کی اجازت نہیں نہ اس کی رائے ہے نہ اسے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر احتجاج کا حق ہے نہ ہڑتال نہ نظام حکومت میں کوئی تشکیل کا حق لیکن اسلام کہتا ہے کہ فرد معاشرے کی مشینری کا محض بے جان پرزہ نہیں بلکہ ملک کا ایک آزاد شہری ہے۔ ملک کے معاملات میں اس کا حصہ ہے اسلئے اسے اپنے خدشات کے اظہار کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے خلاف ہونے والی نا انصافی کے خلاف احتجاج کا حق رکھتا ہے۔

اسلام کے اقتصادی نظام میں معاش کے لئے حقوق میں مساوات شرط ہے مطلب یہ کہ اسلام اپنے اقتصادی اور معاشی نظام میں مساوات کا علمبردار ہے اور اسلام نے انسانی معیشت خصوصاً مسلمانوں کی معاشی زندگی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

’’وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا‘‘

’’ نہیں ہے زمین پر کوئی چلنے والا مگر اللہ تعالیٰ پر ہے اس کے رزق کا ذمہ ‘‘

معاش کے تین اہم شعبے ہیں:

(۱) تجارت ( ۲) زراعت (۳) صنعت و حرفت

تجارت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ؛

’’ احل اللہ البیع ‘‘ کہ اللہ نے خرید و فروخت کے جائز ذرائع کو حلال کیا ہے۔

اور الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ( کہ تجارت ہو باہمی رضامندی سے )

اور حدیث شریف میں ہے کہ سچا امانتدار تاجر نبیوں ، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔  ( ترمذی)

اور زراعت کے متعلق اللہ نے فرمایا :

ء انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون ‘‘ ( کہ کیا تم کاشت کرتے ہو یا ہم کاشت کرنے والے ہیں اور ( قد انشأ کم من الارض واستعمرکم فیھا ) کہ اللہ نے پیدا کیا اور زمین میں آباد کیا اور بسایا)

اس آیت کے ذیل میں علامہ ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ زمین کو آباد کرنا عمارت کے ذریعہ زراعت کے ذریعے اور باغبابی کے ذریعے واجب ہے۔

اور علامہ قرطبی نے زراعت کے شعبہ احیاء کو فرض قرار دیا ہے اور حدیث میں آیا ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ جو بھی مسلمان زراعت یا باغبانی کرتا ہے سو اس سے پرندہ یا انسان یا جانور کھاتا ہے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔

رئیس و مدرسین، امیر و مامور اور فقیر و غنی میں دولت ومعیشت فطرت کے قوانین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تقسیم فرما دی ہے۔

 اس لیے یہ کہنا برحق اور بجا ہے کہ اسلام کی نظر میں ’’رزق حلال اہم عبادت ہے‘‘ …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online