Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

آخری عشرہ، اعتکاف اور لیلۃ القدر (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

 آخری عشرہ، اعتکاف اور لیلۃ القدر

سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 598)

ماہ رمضان بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان المبارک کے تینوں عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں۔

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ (صحیح ابن خزیمۃ)

یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)

ایک دوسری حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں  کو بھی جگاتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف بھی ہے۔ اعتکاف کی حقیقت خالق ارض و سماء اور مالک الملک کے دربار عالی میں پڑ جانے کا نام ہے۔ اعتکاف، عاجزی و مسکنت اور تضرع و عبادت سے اللہ کی رضا و خوشنوی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار اور اللہ کی کبریائی اور اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔

حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری)

حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو اپنے پاس بلا لیا۔ (بخاری)

حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان شریف میں دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپﷺکا انتقال ہوا اس سال آپﷺنے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری)

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ (صحیح بخاری)

حضرت ا بوسعید خدریؓکی روایت میں تفصیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپﷺکے پاس آئے اور کہا کہ آپﷺکو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اورہم نے بھی کیا۔

پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپﷺکو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا:

جو میرے ساتھ اعتکاف کررہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے۔ مجھے شب قدر دکھائی گئی جسے بعد میں بھلادیا گیا۔ یاد رکھو! لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے۔ (صحیح بخاری)

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ امت کو ملا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورۃ نازل فرمائی، ارشاد ہوا:

’’ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔‘‘ (سورۃ القدر)

ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے:

’’قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ (سورۃ الدخان)

چنانچہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم وبیش تراسی سال) کی عبادت سے زیادہ ہے نیز، اسی رات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو یکبارگی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی23 سالہ مدت میں حسبِ ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔

لیلۃ القدر کامطلب قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام لیلۃ القدر رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمارآیات و احادیث سے ثابت ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری)

حضرت انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا،اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

اس رات کو رمضان اور خاص کر اس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے۔ پھر احادیث کی روشنی میں شب قدر کے آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی

ترجمہ: اے اللہ! تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے،لہٰذا مجھے معاف کردے۔ (سنن ترمذی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online