Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

ماہ صیام… اَرضِ فلسطین (محمد فیض اللہ جاوید)

ماہ صیام… اَرضِ فلسطین

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 598)

جس طرح ارض فلسطین کو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک نسبت خاص ہے، اسی طرح ماہ صیام کو بھی ارض فلسطین سے کئی نسبتیں حاصل ہیں۔ ماہ صیام کی مناسبت سے خوش گوار واقعات کیساتھ تاریخ کا ایک ایسا المناک واقعہ بھی اس ماہ کیساتھ جڑا ہے جب آج سے 23 سال قبل ایک یہودی دہشت گرد گولڈچائن نے نماز فجر کے وقت مسجد میں گھس کرنماز میں مصروف فلسطینیوں کا اندوہناک قتل عام کیا تھا۔ رمضان المبارک کے حوالے سے اس واقعے کو آج تئیس سال ہوچکے ہیں۔

ارض فلسطین کو بجا طورپر انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس ارض پاک کو یہ نام بلا وجہ نہیں ملا بلکہ یہاں کی مٹی میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور بنی اسرائیل کے دسیوں عظیم المرتبت پیغمبر آسودہ خاک ہیں۔ انہی بزرگ ہستیوں کی نسبت سے یہ اسلام کے پُرانوار مقدس مقامات سے بھی بھرپور ہے مگر درندہ صفت صہیونیوں کی وحشت وبربریت کا نشانہ جہاں فلسطینی قوم ہے وہیں یہ مقدس مقامات بھی ان کا خاص نشانہ ہیں۔

فلسطینی نمازیوں کا قاتل کون؟

باروکھ گولڈ چائن نے جب مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کا قتل عام کیا تو اس وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔ اس کا شمار یہودیوں کی ایک شدت پسند مذہبی جماعت کاخ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ سنہ 1980ء کو امریکا سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم کریات اربعکالونی میں آباد ہوا۔

جب ایک یہودی مذہبی پیشوا،موشے لیفنگر نے اس سے پوچھا کہ آیا اسے مسجد میں نمازیوں کا قتل عام کرنے پر کوئی افسوس یا شرمندگی ہے تو اس کا جواب تھا کہ مجھے مکھی یا مچھر کو مارنے پر جتنی شرمندگی ہوتی ہے، عربوں اور مسلمانوں کو قتل کرکے اتنی شرمندگی اور افسوس بھی نہیں ہوا۔

فلسطینی نمازیوں کے قتل گولڈ چائن کو یہودیوں میں ایک مقدس ہستی کا درجہ حاصل ہے۔ یہودیوں نے اس مجرم کا مزار بنا رکھا ہے اور اس کی سیکیورٹی پر یہودی فوجیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

فلسطین کے ان گنت مقدس مقامات میں خطہ ارضی میں حرمین شریفین کے بعد فلسطین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں مسلمانوں کا پہلا قبلہ وکعبہ موجود ہے۔ قبلہ اول کے خلاف سال ہا سال سے جاری یہودی و نصارایٰ کی سازشوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کے دوسرے مقدس ترین مقامات بھی خطرے میں ہیں۔ انہی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع تاریخی جامع مسجد ابراہیمی جسے حرم ابراہیمی بھی کہا جاتا ہے، فلسطین میں قبلہ اول کے بعد دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ فلسطین میں یہودی اور صہیونی سرطان کے سرائیت کرنے کے بعد فطری طورپر وہاں کے دوسرے مقدس مقامات کی طرح مسجد ابراہیمی بھی صہیونیوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں کا شکار ہے۔

فلسطین میں سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران صہیونی غاصب افواج نے غرب اردن کے شہرالخلیل پرغاصبانہ قبضہ کیا تو یہ مسجد بھی صہیونیوں کے نرغے میں آگئی تھی۔ اس کے بعد اس مسجد کو تقسیم یا مسلمانوں سے چھین لینے کے لیے خوفناک سازشیں جاری رہیں۔ یہاں تک کہ سنہ 1994ء کا وہ منحوس اور مکروہ وقت بھی آن پہنچا جب ایک انتہا پسند یہودی دہشت گرد گولڈ چائن نے مسجد میں گھس کرنماز میں کھڑے فرزندان توحید پراندھا دھند گولیاں برسائیں۔ یہودی درندے کی وحشیانہ فائرنگ سے 29 نمازی حالت سجدہ میں جام شہادت نوش کرگئے جب کہ 150 شدید زخمی ہوئے۔ یہودی دہشت گرد باروکھ گولڈ چائن نے نہتے نمازیوں پر500 گولیاں برسائی تھیں۔ تاریخ انسانی کی اس بدترین بربریت کے بعد صہیونیوں نے اگلی چال یہ چلی کہ مسجد ابراہیمی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کردیا جائے۔ یوں اس مسجد کے آدھے سے زاید حصے کو یہودیوں نے غصب کرلیا اور اسے یہودی انتہا پسندوں کی عبادت کے لیے مختص کرتے ہوئے اس میں فلسطینیوں کے داخلے پرپابندی عاید کردی۔

مسجد ابراہیمی میں فلسطینی نمازیوں کا ایک اندازے میں قتل عام اب بھی بدستور جاری ہے۔ فلسطینی اعدادو شمار کے مطابق 63 فلسطینی مسجد ابراہیمی کے اطراف میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

صہیونی یلغار

فلسطین میں یہودیوں کے غاصبانہ تسلط کے قیام کے بعد مسجد ابراہیمی مسجد انتہا پسند صہیونیوں کی ریشہ دوانیوں کے نشانے پرہے۔ مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر الحاج منذر رفیق ابو الفیلات کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کے بعد مسجد ابراہیمی اور اس میں نماز کے لیے آنے والے فلسطینی بار ہا صہیونیوں کے  حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سنہ 1970ء میں شدت پسند یہودی موشے ڈایان کے مسجد میں داخلے کے بعد اس کے نیچے غار کو بند کردیا گیا۔ سنہ 1976ء میں یہودیوں شرپسندوں نے مسجد میں گھس کر قرآن کریم کے کئی نسخے نذرآتش کیے جس کے بعد فلسطین  سمیت پوری اسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی روز تک اسرائیل اور یہودیوں کی سازشوں کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے۔

سنہ 1994ء مسجد ابراہیمی کے حوالے سے نہایت المناک سال ہے کیونکہ اسی برس باروکھ گولڈچائن نامی ایک یہودی دہشت گرد نے مسجد میں نماز فجر کی ادائی میں مصروف نمازیوں کوگولیوں سے بھون ڈالا جس کے نتیجے میں 29 نمازی شہید اور دسیوں زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل صہیونی حکام نے سنہ 1987ء میں مسجد کے تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر الیکٹرانک آلات، کیمرے اور جاسوسی کے دیگر آلات نصب کرکے اس پرقبضہ مضبوط کرنے کی سازش کی تھی۔

مسجد کی تقسیم

مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کے سفاکانہ قتل عام کے بعد صہیونی حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے شمغار کمیٹی کے نام سے ایک کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن نے قاتل یہودی کے خلاف کارروائی کے بجائے مسجد ابراہیمی کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ فلسطینی مسلمانوں پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ شمغار کمیشن نے مسجد کا 60 فی صد حصہ یہودیوں کو اور 44 فی صد فلسطینیوں کو دیا تاکہ مسجد پر یہودیوں کی بالا دستی قائم رکھی جاسکے۔ کمیشن کے فیصلے کے تحت مسجد کے یعقوبیہ، الیوسفیہ، العنبر، سدنہ ہال اور لائبریری یہودیوں کو دے دیئے گئے اور صرف الاسحاقیہ کا مقام فلسطینیوں کو دیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد فلسطینی شہری صبح تین بجے سے رات نو بجے تک اپنے حصے کی مسجد میں عبادت کرسکتے ہیں۔ تاہم یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر پوری مسجد یہودیوں کے قبضے میں ہوتی ہے۔مقامی فلسطینی شہریوں  کہنا ہے کہ جب سے اسرائیل نے مسجد ابراہیمی پرقبضہ کیا ہے اس کے بعد سے آج تک اس مسجد میں مسلمانوں کو نماز مغرب کی اذان کی اجازت نہیں دی گئی۔ عید کے ایام میں اگرچہ یہ مسجد مسلمانوں کے لیے کھولی جاتی ہے مگراذان کی پابندی برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ میں مسجد میں 155 بار اذان ہونی چاہیے مگر اسرائیلی انتظامیہ کی ناروا پابندیوں کے باعث 50 سے 70 بار ہی اذان دی جاسکتی ہے۔ باقی نمازوں کے لیے اذانوں کی اجازت نہیں ہوتی۔ جب بھی مسجد میں اذان دینا ہوتی ہے تو اسرائیلی انتظامیہ سے اس کی باضابطہ اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ یہودی فوجیوں کی مرضی ہوتی ہے چاہے وہ اجازت دیں چاہے نہ دیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online