Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام اورعالمی میڈیا (امیر افضل اعوان)

بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام اورعالمی میڈیا

امیر افضل اعوان (شمارہ 605)

قیام پاکستان سے پہلے سے برصغیر میں اہل ایمان کی جان و مال کی کوئی ضمانت نہ تھی اور غیر مسلم طبقات ان پر ترقی و خوشحالی کا ہر در بند کرکے انہیں جانوروں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبو رکئے ہوئے تھے، یہاں نہ ان کی عزت و آبرو کا کوئی تصور موجود تھا اور نہ ہی معاشرہ میں کوئی مقام و مرتبہ حاصل تھا، انہیں نہ تو ریاستی مشینری میں کوئی داخلہ کی اجازت دی جاتی تھی اور نہ ہی کسی سرکاری عہدہ کے لائق گردانا جاتا تھا، صورت حال اس قدر ابتر ہوچکی تھی کہ انہیں تو کسی معمولی سرکاری ملازمت کا بھی اہل نہیں سمجھا جاتا تھا، ماضی کی ان کرب ناک و تلخ حقیقتوں کا یہ تذکرہ اگر کسی کو بھولی بسری کوئی داستان یا محض قصہ کہا نی محسوس ہوتو اسے چاہیے کہ ہندوستان کے زمینی حقائق سے مطابقت رکھنے والے ان حالات کا جائزہ لے جو انڈین و عالمی میڈیا اقوام عالم کے سامنے لانے سے گریزاں ہے اور یہ کیفیت مقبوضہ کشمیر میں بھی موجود ہے، کشمیرسے تو ظلم و بربریت کی داستانیں کسی نہ کسی طرح منظر عام پر آجاتی ہیں مگر ہندوستان میں مکمل ہندو اجارہ داری اور مسلم تعصب کے سبب مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو چھپادیا جاتا ہے، پرتشدد کارروائیوں پر اٹھنے والی ان کی آواز پر ہی پہرے نہیں بلکہ ان کی کرب ناک چیخوں کو بھی آہنی زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں، ہندوستان میں آج بھی گائوں سے قصبہ اور قصبہ سے شہر تک مسلم آبادیوں کو آگ لگا کر تماشا دیکھنے کا چلن آج بھی عام ہے اور مسلم آہوں، سسکیوں پر بے حسی کی چادر اوڑھنے کی روایت بھی روز اول کی طرح پروان چڑھتی جارہی ہے جب کہ اس گھمبیر صورت حال پر اقوام عالم خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔

 بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام اور انہیں مذہبی پابندیوں میں جکڑے رکھنا کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، پہلے پہل عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی آڑ میں انہیں زیر دام لایا جاتا ہے، اس کے بعد عام ایام میں بھی گائے کا گوشت رکھنے کا الزام لگا کر تختہ مشق بنایا جاتا رہا اور آج یہ سلسلہ تمام حدود سے آگے بڑھ چکا ہے، بھارتی سیاستدانوں کی طرف سے گزشتہ دنوں پنجگانہ نماز کے لئے مساجد سے بلند ہونے والی اذان کا نشانہ بنا کر اس پر پابندی کی مہم بھی شروع کی گئی جس پر خون مسلم کھول اٹھا تو ایک مرتبہ پھر ایک نئے انداز میں مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا امتحان لیا جانے لگا اور مسلمان نوجوانوں کو سرعام ذلیل و رسوا کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بیہیمانہ تشدد کا روایت چل پڑی، جب اس بھی ہندئوں کو حقیقی تسکین میسر نہ آسکی تو مسلمانوں کو بلا وجہ موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ دراز ہوگیا۔یہ ہے سیکولر بھارت کا اصل گھنائونا چہرہ جسے پاکستان اور پاکستانی قوم سے چھپایا جا رہا ہے، بھارت میں گائو رکھشا کے نام مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا، اب مختلف حیلے بہانوں سے نمایاں اور معروف نوجوان مسلمان ان کا نشانہ ہیں، بھارت صرف پاکستان کا نہیں بھارتی مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے، سفاک مودی منظم انداز سے مسلمانوں کی نسل کشی کروا رہا ہے وہ ہمار ے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا، اب تمام عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر سے آنیوالے چناب کا گلا گھونٹ چکا ہے جس میں پانی کی منہ زور لہروں کی بجائے اب ریت اڑتی ہے، بھارت ہمارا نرخرہ دبائے ہوئے ہے۔

پانامہ لیکس پر سپریم کوٹ سے نااہل ہونے والے ہمارے سابق وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان میں بھارت سے دوستی کے معاملے میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، بھارت سے موجودہ حالات میں دوستی کے رشتے بھوٹان جیسے تو ہو سکتے ہیں، آپ کو برابری کی سطح پر پروقار دوستی کے خیال سے دستبردار ہونا پڑیگا۔

 پاکستان کی سلامتی کو آج بھی حقیقی خطرہ بین الاقوامی سرحد کے اس پار اکھنڈ بھارت کے پجاریوں سے ہے جنہوں نے 70 سال گزرنے کے باوجود آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، مرحوم مشرقی پاکستان کے بعد ڈیورنڈ لائن کے آر پار آزاد پختونستان کے شوشے اور علیحدگی پسند عذاب کس کا نازل کردہ تھا، آج بلوچستان میں نفرتوں کی آگ کو بھڑکا کر کون شعلہ جوالا بنا رہا ہے، نئی دہلی سے جنیوا تک سازشوں کے جال کون بچھا رہا ہے، بلوچستان کے معدنی وسائل پر کس کی حریص نگاہیں جمی ہوئی ہیں اور کسی کو معلوم ہو یا نہ ہو ہمارے پاسبانوں اور نگہبانوں کو بخوبی اپنے دوستوں اور دشمنوں کا علم ہے۔

 نریندر مودی کے گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کی کہانی بھارت کے چپے چپے پر دہرائی جا رہی ہے، ووٹ بنک کی ہولناک سیاست کے پس منظر میں مسلمانوں کو بھارتی سماج میں اچھوتوں بدتر مقام پر پہنچا دیا ہے۔اس وقت پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت کیوں اور کیسے کے نازک سوال پر ہمارے اندرونی ریاستی ڈھانچے میں بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ ہمارے اداروں میں اس حساس معاملے پر مطابقت اور ہم آہنگی کے بجائے وسیع خلیج اور تضاد پایا جاتا ہے،  بیرونی سرمایہ کاری اور نجی سفارتی شعبوں کی کوششوں اور کاوشوں کے باوجود بنیادی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جس میں بنیادی کردار مخصوص بھارتی رویے کا ہے جو بوجوہ تبدیل نہیں ہوسکتا کہ ووٹ کا کھیل اور جمہوری ناٹک امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر کھڑا ہے جس کا سب سے بڑا مظہر نریندر مودی جیسے خوں آشام انتہا پسند کا وزیراعظم بن جانا ہے، نریندر مودی کی دیوانگی کا مقابلہ کرنے کے لئے جواں سال راہول کو بھی شعلہ بیانی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، اصل دکھ تو یہ کہ بھارت میں وقت کے ساتھ ادارے مضبوط اور مستحکم اور ہمارے ہاں کمزور سے کمزور تر ہوتے گئے ہیں، کیا المیہ ہے ہمارا حکمران ٹولہ اپنے سارے ریاستی اداروں کے ساتھ دست و گریبان ہے جس سے انصاف کی سب سے بڑی عدالت کو بھی کوئی مفر نہیں، بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اپنے اداروں کی نسل کشی پر تلے ہوئے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online