Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

برما میں مسلمانوں کا قتل عام اور پس پردہ حقائق (امیر افضل اعوان)

برما میں مسلمانوں کا قتل عام اور پس پردہ حقائق

امیر افضل اعوان (شمارہ 609)

عالمی منظر نامہ پر نظر ڈالی جائے تو دنیا کی آبادی کے تیسرے حصہ پر مشتمل مسلمان یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے طفیل آج نہ صرف اپنی شناخت کھوتے نظر آرہے ہیں بلکہ انہیں فرقہ واریت، علاقائی تقسیم اور رنگ و نسل کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں تقسیم در تقسیم کرنے کا سلسلہ پوری طرح جاری نظر آتا ہے، دنیا میں مسلمان یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا شکار ہو کر اپنی عظمت رفتہ سے یکسر محروم ہوتے اور اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی نظر ڈالی جائے مسلمان پابہ ذوال نظر آتے ہیں ، کشمیر و فلسطین تو پہلے ہی امت مسلمہ کے رستے ہوئے زخم تھے مگرا ب ان زخموں میں افغانستان، عراق، فلپائن، اریٹریا ، یمن، لیبیا، مراکش اور صومالیہ کے علاوہ ترکی ، مصر، شام اور پاکستان و بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کا بھی اضافہ ہوچکا ہے بالخصوص برما میں مسلمانوں کا قتل عام امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے، برما کے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم ایسی دل خراش داستان ہے کہ جس کا لفظ لفظ لہو میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے، یہاں خواتین ، معمر افراد اور بچوں سمیت بے گناہ و پرامن مسلمانوں کو جانوروں سے بھی زیادہ بے رحمی اور جابرانہ انداز سے موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ ایک طویل عرصہ سے دراز ہے مگر افسوس کہ اس صورت حال پر عالمی طاقتیں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے خون مسلم کی ندیاں بہتے دیکھ رہی ہیں۔

برما کا صوبہ اراکان ایک تاریخی اہمیت کا حامل علاقہ تھا کہ جہاں اسلام خلیفہ ہارون الرشیدؒ کے دور میں پھیلا اور 1420ء میں یہاں باقاعدہ مسلم سلطنت کا قیام عمل میں لایا گیااور یہاں شاہ  سلیمان پہلے بادشاہ بنے، یہاں ساڑھے تین سو سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی اور آخری بادشاہ شجاع الملک مغلوں سے تھے، 1784ء میں انگریزوں نے اس سلطنت اور 1852ء میں پورے برما پر قبضہ کیااور اس ریاست کی الگ شناخت ختم کرکے اسے برما کا ایک صوبہ بنادیااور برما کو اراکان سمیت ہندوستان میں شامل کرلیا، تقسیم ہندوستان کے فیصلہ کے بعد انگریزوں نے برما کو انڈیا سے الگ کیا تو اس کا ایک حصہ مشرقی پاکستان میں شامل کرتے ہوئے باقی علاقہ برما کا حصہ بنادیا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب اراکان ایک الگ سلطنت کی حیثیت رکھتا تھا تو اس وقت ہمسایہ ملک برما مسلمانوں سے خاص بغض رکھتا تھااور اس علاقہ کی برما میں شمولیت کے بعد بدھا کے پیروکار کھل کر سامنے آگئے اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی، اس حوالہ سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اراکان کے مسلمانوں نے برما کیساتھ شامل ہونے کی بجائے مشرقی پاکستان کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا جس کا بدھ بھکشوئوں کو شدید رنج تھا۔

برطانیہ سے آزادی کے بعد 1962ء میں فوج نے اقتدار سنبھالا تو مسلمانوں کو باغی قرار دے کر ان کیخلاف آپریشن شروع کردیا جو کہ 20سال یعنی 1982ء تک جاری رہا، کم و بیش 1 لاکھ مسلمان شہید اور تقریباً 20 لاکھ مسلمان بنگلا دیش، بھارت اور پاکستان کی طرف ہجرت کرگئے، برما کی فوجی حکومت نے 1982ء کے سیٹزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے 8 لاکھ افراد اور برما میں موجود دوسرے دس لاکھ چینی و بنگالی مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا جس وجہ سے وہاں رکنے والوں پر عرصہ حیات مزید تنگ ہوگیا، روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک تاریخ 1997ء میں بھی رقم کی گئی جب 16 مارچ 1997ء کو دن دیہاڑے بے لگام بودھ اراکان یا راکھین صوبے کے شہر’’مندالے‘‘ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانے لگے، گھروں، مسجدوں اور مذہبی کتابوں کو نذرِ آتش کردیا گیا، دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا جس کے بعد مسلمانوں نے دوسرے شہروں میں پناہ لی، 15 مئی سے 12 جولائی 2001ء  کے دوران بھی ظلم و جبر کی تاریخ لکھی گئی اور بودھوئوں نے ایک مسجد پر حملہ کرکے عبادت میں مصروف نمازیوں کو قتل کر دیا اور اس فساد کے نتیجے میں 11 مساجد شہید، 400 سے زائد گھروں کو نذرِآتش اور کم و بیش 200 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

میانمار کے ان مظلوموں پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رہا اور ایک بدھ لڑکی کے قبول اسلام پر اسے قتل کرنے کے بعد ا سکا الزام مسلمانوں پر عائد کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کے لئے 3 جون 2012ء کو بودھ بھکشوئوں نے زائرین کی ایک بس روکی اور اس میں سے عمرہ کی ادائیگی کرکے واپس آنے والے 10 مسلمان علماء کو باہر نکال کرموت کے گھاٹ اتارکر بس جلا دی، بودھوئوں نے مسلم اکثریتی علاقوں پر بھی دھاوا بول دیا، 2012ء میں ہی عین عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجہ میں عید کے روز ہونے والے فساد میں 50 مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،2013ء میں مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے میانمار کے دو صوبوں میں ایک سے زیادہ بچوں کی پیدائش پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے قتل عام کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا، 2013ء کے بعد سے اب تک بھی مسلمانوں کے قتل عام کا یہ سلسلہ مختلف اشکال کے ساتھ جاری رہا ، واضح رہے کہ برما میں قبل ازیں ٹیمپل میں ہونیوالے حملہ کو روہنگیائی مسلمانوں کے لئے نائن الیون قرار دیا جاتا ہے مگر یہاں گزشتہ دنوں فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ نے اس آگ و خون کے الائو پر تیل کا کام کیا اور روہنگیا کے لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی، حیرت کی بات ہے برما کی باقی ریاستوں اور شہروں میں بسنے والے مسلمان اقلیت کو برما کی شہریت کی سہولت میسر ہے لہٰذا انہوں نے بھی روہنگیائی مسلمانوں کی کسمپرسی اور ظلم و ستم پر آواز اٹھانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

برما کے ان مظلوم روہنگیائی مسلمانوں پر غیر انسانی ظلم و تشدد کا سلسلہ 25اگست 2017ء کو دوبارہ شروع ہوا اور ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کا بہانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر روہنگیائی مسلمانوں کو تختہ مشق بنالیا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، اس دورانیہ میں بدھا کے پیروکاروں اور برما کی فوج نے ان مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبہ اراکان کی کل آبادی 30لاکھ کے قریب اور اس کا 90%حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے مگر اس کے باوجود انہیں برما کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا، میانمار کی حکومتی دہشتگردی کے نتیجہ میں 7 لاکھ افراد پہلے ہی بھارت، بنگلہ دیش ، پاکستان اور ملیشیا میں خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، بوذی قبائل اور حکومتی جبر و ستم کے حالیہ پر تشدد واقعات کے نتیجہ میں علاقہ سے مزید لاکھوں کی تعداد میں مرد و زن ہجرت پر مجبور ہوئے،ان ظالمانہ کارروائیوں پر او آئی سی نے فوری و موثر ایکشن کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان نے بھی او آئی سی کی قرارداد کی حمایت کی،بظاہر پوپ فرانسس کی طرف سے بھی مذمتی بیان جاری کیا، اس کے علاوہ روس سمیت متعدد ممالک میں برما کیخلاف ان کے سفارت خانوں کے باہر احتجاج کیا گیا،جکارتہ میں تو برمی سفارت خانہ پر پیٹرول بم پھینک کر نفرت کا اظہار کیا گیامگر افسوس کہ برما کے ہمسایہ ممالک انسانیت کے اس قتل عام پر خاموش بیٹھے ہیں یہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیاء، انڈونیشیاسمیت دیگر ہمسایہ ممالک بھی اس صورت حال پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں مگر ترک صدر طیب اردگان نے میانمار کی حکومت کو مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

 پس پردہ حقائق جو بھی ہوں مگر مسلمانوں کے اس قتل عام کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے عبارت کیا گیا ہے اور ہمارے پیارے نبی  ﷺ نے تو مسلمانوں کو ایک جسم کی ماند قرار دیا ہے، اس حوالہ سے حدیث مبارکہ میں مرقوم ہے ’’نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا کہ ایک دوسرے پر مہربانی کرنے اور دوستی و شفقت میں مومنوں کو ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جسم کے ایک حصہ کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہو جاتا ہے‘‘صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث970، ذرا غور فرمائیے کہ رسول کریم  ﷺ نے تو ایک مسلمان کی تکلیف کو پوری امت کی تکلیف سے عبارت کیا جب کہ موجودہ دور میں ہمیں اس بات سے کوئی خاص غرض ہی نظر نہیں آتی کہ دوسرے مسلمان کس حال میں ہیں۔

 اسلام میں حکمرانوں کے کردار کی بھی بڑی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے مگر افسوس کہ یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے طفیل آج عالم اسلام میں حق گوئی کا فقدان موجود ہے بالخصوص مسلم ممالک کے حکمران حقیقی کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں، میانمار کی حالیہ صورت حال اور مسلمانوں کے قتل عام پر بھی بے حسی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے، اسلام میں حاکم کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے ہر چیز کھول ، کھول کر بیان کردی گئی ہے، اس حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ’’ وہ لوگ اگر ہم انھیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے‘‘ سورۃ الحج، آیت41، قرآن پاک کی اس آیت مبار کہ میں اسلامی طرز حکومت کے خدوخال اور حکومت چلانے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، اسلام میں ریاست کا قیام مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے مگر افسوس کہ ہمارے حکمران وہ کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں جو ہونا چاہیے، بلاشبہ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران اور امت مسلمہ دشمنانان اسلام کی ریشہ دورانیوں کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوجائے اور بلاجواز باہمی اختلافات کاخاتمہ ممکن بناتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوجائے ورنہ اغیار کے یہ بڑھتے ہوئے قدم ہمارے گھروں تک پہنچ چکے ہیں اور اگر ہم اب بھی بیدار نہ ہوئے تو سوچئے کہ ہم کس منہ سے اپنے خالق و مالک اور اپنے پیارے رسول  ﷺ کا سامنا کریں گے ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online