Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

مسجد اور نماز (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

مسجد اور نماز

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 613)

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’اللہ کی مساجد کو صرف وہ شخص آباد کرتا ہے جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے، نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا، ہوسکتا ہے ایسا گروہ نجات پاجائے۔‘‘ (القرآن)

اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے بلکہ مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و منبع مسجد ہی تھی۔ اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ حضور اکرمﷺنے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری مسجد ’’مسجدنبوی‘‘ بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات کی شروعات کیں۔

اسی مسجدِ نبوی سے علم و عرفان، تہذیب و تمدن، اتحاد ویگانگت، اجتماعیت، مساوات واخوّت کے جذبات پروان چڑھے اور معاشرہ روز بروز منور ہوتا چلا گیا۔ پھر ایک غیر فانی اسلامی تہذیب وجود میں آئی کہ اس کے نقوش رہتی دنیا تک باقی رہیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی سب سے پہلے جس کام پر اپنی توجہ مرکوز فرمائی وہ مسجد ومدرسہ کا قیام تھا۔ یہاں دو یتیموں کا ایک پلاٹ تھا، ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر آمادہ تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمین شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال ہوجائے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا معاوضہ وہ پلاٹ قبول نہیں فرمایا۔ دس دینار قیمت طے پائی اور آپ نے جضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس جگہ پر مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کیلئے استعمال ہوئے اور اس طرح سادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔

مسجد سے متصل ایک چبوترہ بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہ تھا۔ اب رسول اللہﷺنے معاشرہ کے مسائل کی طرف توجہ فرمائی، اسی مسجد کے سنگریزوں پر بیٹھ کر تمام مسائل کو قرآن کریم کی روشنی میں حل فرمایا۔ آپﷺکی تمام اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں یہیں سے انجام پاتی تھیں۔

سینکڑوں کے حساب سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اس چھوٹی سی بستی میں منتقل ہونے کے نتیجہ میں آبادی کے مسائل تھے اور ان نو وارد افراد کو معاشرہ میں ضم کرنے کے مسائل تھے۔ اس مسئلہ کو مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کر مؤاخات کی شکل میں حل کیا گیا۔ نئی مملکت کے تمام سیاسی مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے اس مسجد نے پارلیمنٹ ہاؤس کا کردار ادا کیا۔ عدالتی فیصلوں کے لئے اسی مسجد نے سپریم کورٹ کا کردار ادا کیا۔ ہر قسم کی تعلیمی کاروائیاں اسی مسجد سے سرانجام پانے لگیں۔ تمام رفاہی کاموں کا مرکز یہی مسجد قرار پائی۔ تجارت وزراعت کے مسائل کے لئے یہی کامرس چیمبر اور یہی ایگریکلچر ہاؤس قرار دیا گیا۔ دفاعی اقدامات اور جنگی حکمت عملی کے لئے بھی یہی مسجد بطور مرکز استعمال ہونے لگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کسی علاقے میں جہاد کیلئے لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسی مسجد سے اس کی تشکیل کی جاتی اور ایک موقع پر مجاہدین نے جہاد کی تربیت کا مرحلہ بھی اس مسجد کے صحن میں مکمل کیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے اور عید کے روز مسجد نبوی کے صحن میں وہ نیزہ بازی کی مشق کررہے تھے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹ میں کھڑے ہوکر دیکھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ومدرسہ کو مسلم معاشرہ کا محور بنا دیا تھا اور مسجد ومدرسہ کا کردار زندگی کے ہر شعبہ پر محیط تھا، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے صدیوں کے الجھے ہوئے تمام مسائل حل ہوگئے اور مدینہ منورہ کا معاشرہ دنیا کے لئے ایک عظیم الشان مثال بن گیا۔

حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مسجد مسلمان کی زندگی کی تکون (TRIANGLE) میں قاعدہ (BASE) کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان کی گھریلو اور معاشی زندگی اس کے دو بازو ہیں، جبکہ مسجد اس کے لئے بیس اور بنیاد ہے۔ مسلمان کی زندگی مسجد کے ساتھ اس طرح مربوط ہوتی ہے کی اس کی ہر سرگرمی کی ابتدا اور انتہا مسجد پر ہوتی ہے۔

حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس شخص کو مسجد میں آتاجاتا دیکھو، اُس کے ایمان کی گواہی دو!

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملہ میں صحابہ کا رخ مسجد کی طرف موڑا اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق مسجد سے مضبوط رہا وہ دنیا میں بھی کامیاب رہے اور جیسے جیسے مسلمانوں کا تعلق مسجد سے دور ہوتا گیا تو مسلمان ہر معاملہ میں کمزور ہوتا گیا، اب مسجد سے تعلق صرف نماز کی حد تک رہ گیا اور اگر اس کی بھی اوسط لگائی جائے کہ کتنے فیصد مسلمان نماز کے لیے مسجد آتے ہیں تو لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ ایک یا دو فیصد مسلمان پنج وقتہ نماز کے لیے مسجد کی طرف رخ کرتے ہیں حالانکہ نماز اللہ تعالیٰ کے لامحدود خزانوں سے لامحدود استفادے کا نام ہے۔

نبی کریمﷺاور نماز کا ایسا گہرا تعلق تھا جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ حضورﷺکے اسی فرمان سے اس تعلق اور رغبت کا اندازہ لگا لیں جس میں آپﷺنے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔ معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو جو انعام عطاء فرمایا وہ نماز ہی ہے۔ حضورﷺسے بڑھ کر نماز کی حقیقت کس کو معلوم ہوسکتی ہے؟ اس لئے حضورﷺسے بڑھ کر نماز کی قدر کرنے والا بھی کوئی نہیں، نماز کی پوری پوری لذت حضورﷺکو حاصل تھی، اسی لذت کی وجہ سے حضورﷺرات کا اکثر حصہ نماز میں گزار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے وصال کے وقت خاص طور پر نماز کی وصیت فرمائی اور اس کے اہتمام کی بار بار تاکید کی۔

 حضرت حذیفہؓ ارشاد فرماتے ہیں:

’’نبی کریمﷺ کو جب کوئی سخت امر پیش آتا تھا تو نماز کی طرف فوراً متوجہ ہوتے تھے۔‘‘

انسان قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہے اور نماز خود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اس لئے ہر پریشانی، تکلیف، مصیبت، حاجت، ضرورت خواہ دنیوی یا اخروی، کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہوجانا گویا اللہ کی رحمت کی طرف متوجہ ہوجانا ہے اور جب رحمت الٰہی مددگار ہو تو پھر کسی پریشانی کی کیا مجال ہے کہ وہ باقی رہ سکے۔

جس انسان کو دنیا میں دو نعمتیں پوری طرح مل جائیں اس کی دنیا و آخرت سدھر جاتی ہے، ایک تو یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ایسی توفیق میسر آجائے جو رب کے ہاں پسندیدہ ہو، دوسرے یہ کہ اس کی ضروریات زندگی کا ایسا انتظام ہوجائے کہ وہ رب کے سوا کسی کا محتاج نہ رہے، یہ دو وہ عظیم نعمتیں ہیں جو نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھتے وقت انسان اپنے رب سے مانگتا ہے اور ان کا اقرار کرتا ہے۔

’’ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔‘‘ اے رب! ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

اسی لئے حضورﷺ ہر سخت معاملے کے وقت فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتے۔

حضرت ابودرداءؓ بیان فرماتے ہیں:

’’جب تیز آندھی چلتی تو حضور اقدسﷺ فوراً مسجد تشریف لے جاتے اور جب تک آندھی رک نہ جاتی مسجد سے نکلتے تھے، اسی طرح سورج یا چاند گرہن ہوجاتا تو حضورﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے‘‘۔

حضورﷺ کو سخت سے سخت غم بھی پیش آئے اور بڑی سے بڑی خوشیاں بھی ملیں لیکن کسی موقع پر آپﷺنماز جیسے اہم فریضے اور پیاری عبادت سے غافل نہیں ہوئے۔

ہم میں ہر کوئی کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے لیکن ان مسائل اور پریشانیوں کے حل کا نبوی نسخہ ’’مسجد اور نماز‘‘ کی طرف آجانے کا استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں۔

خدارا! اگر اپنے مسائل اور پریشانیوں کا حل چاہتے ہو تو اپنا تعلق ’’مسجد‘‘ کے ساتھ جوڑ لو! اور اپنی ’’نماز‘‘ کی طرف توجہ دو! ان شاء اللہ تمام مسائل حل اور تمام پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online