Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

مرد…عورت…نوکری (نشتر قلم۔زبیر طیب)

مرد…عورت…نوکری

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 613)

ایک وقت تھا مرد کو شرم آتی تھی کہ اس کی بیوی نوکری کرے اسے فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اور بیوی کو بھی بہت مان ہوتا تھا کہ شوہراس کے گھر کا خرچہ چلا رہا ہے۔ مرد سارا دن محنت مزدوری کر کے دو پیسے گھر لے آتااور عورت بڑی سلیقہ شعاری کے ساتھ گھر کا نظم و نسق انہی دو پیسوں میں چلانے کا ہنر جانتی تھی۔

 لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ سوچ بدلی۔ مہنگائی کے معاشرے پر اثرات پڑے اور کچھ مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے اپنی بیٹیوں کو گھر سے کمانے کیلئے نکالا۔ بعض لوگوں کی مجبوری تھی کیونکہ ان کا بیٹا کوئی نہیں تھا وہاں بیٹی کو ہی بیٹا بنا کر گھر سے باہر دھکیل دیا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ گھر سے باہر کی دنیا بڑی بھیانک ہوتی ہے خصوصاً ایک عورت کے لئے۔لیکن والدین نے آنکھیں موند لیں ۔ کسی نے مجبوری کی خاطر چپ سادھ لی تو کسی نے شوقیہ کانوں میں انگلیاں گھسیڑ لیں۔ اور یوں ہمارا معاشرہ بھی عورتوں کی ملازمت میں خود کفیل ہوتا چلا گیا۔صبح صبح بسوں ، لاری اڈوں ، ویگنوں اور رکشوں میں مردوں سے زیادہ عورتوں کی وہ تعداد آپ کو نظر آئے گی جو ملازمت کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک علاقے سے دوسرے علاقے یا ایک بسا اوقات ایک ملک سے دوسرے ملک جا رہی ہوتی ہیں۔ اب تو خادم اعلیٰ صاحب نے اور بھی آسانی پیدا کر دی۔ ’’ پنک موٹر سائیکل‘‘ کے نام سے ایک تحریک چلائی گئی۔ پنگ رنگ کے موٹر سائیکل سستے داموں لڑکیوں کو پہنچائے گئے اور اب لڑکیاں جا بجا انہی پنک سکوٹروں میں بالوں کو لہراتی ہوئی سکول ، کالج اور آفس جاتی آپ کو اکثر نظر آتی ہوں گی۔یوں عورت گھر سے نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ چلنے لگی۔ مرد کا مان ختم ہونے لگا اور عورت کے اندر ہماری کی بجائے میں ، میری بڑھ گئی اور مرد پر انحصار کم ہوتا چلا گیا۔

پہلے تولڑکیوں کے رشتے طے کرتے ہوئے یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ دولہا کماؤ پوت ہو۔ ایک عرصے سے ایسا ہی چلا آرہا ہے۔ لیکن حقوق نسواں کے میدان میں آتے ہی خواتین نے بھی کماؤ پوت بننا شروع کردیا۔ وہ بھی معاشی ترقی میں مردوں کے شانہ بہ شانہ نظر آنے لگیں۔ اس تبدیلی کے بعد رشتوں ناتوں میں بھی تبدیلیوں کا عمل شروع ہوا تھا جو ناخوب بہ تدریج وہی خوب ہوا۔ رشتے طے کرتے ہوئے دیگر بہت سی خواہشات کے ساتھ یہ خواہش بھی جاگنے لگی اور کی جانے لگی کہ لڑکی برسر روزگار ہو۔ معاشیات کا دور ہے۔کون ہوگا جو اس معاشی ترقی میں پیچھے رہ جانا چاہتا ہو۔ ہر فرد زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ بے حساب ترقی ۔ وہ آسمان کو چھونا چاہتا ہے۔اب وہ دن گئے کہ لوگ روزانہ دو  وقت کی روٹی جتنا کماتے اور پھر گھر بیٹھ کر حقہ پی کر سکون سے ٹانگیں پسار لیتے تھے کہ آج کا راشن پانی کا بندوبست ہو گیا کل کی کل دیکھیں گے۔

 اب تو ایک گھر میں دس دس بھی کمانے والے تو بھی کم پڑ جاتی ہے۔ایسے میں اگر خاندان کی معاشی گاڑی کو محض ایک پہیے سے گھسیٹنے کی کوشش کی جائے تو لامحالہ وہ رفتار نہیں ہوسکتی جو دو پہیوں یا چار پہیوں کے گھسیٹنے سے ممکن ہے۔ لہٰذا یہ خواہش بجا نظر آنے لگی کہ اب خواتین کو بھی کماؤپوت ہی ہونا چاہیے۔لڑکیوں کے آگے بڑھنے کا اثر یہ ہوا کہ شادی کیلئے ان لڑکیوں کی مانگ بڑھ گئی جو نوکریاں کرتی ہیں اور نقصان گھر میں بیٹھنے والی لڑکی کا ہوا وہ بے چاری گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہونے لگی۔

ہمارے ہاں اس قسم کے تمام تر افکارات ظاہر ہے کہ دیسی نہیں ہیں مغرب سے درآمد کیے گئے ہیں۔ اس درآمدگی کے بعد ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ خود مغرب میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور وہاں کیا کہا جا رہا ہے۔ معروف انگریزی جریدے فوربس کے ایک شمارے میں اس حوالے سے ایک دلچسپ مضمون پر نظر پڑی۔ مضمون کا عنوان ہے:’’ ملازمت پیشہ خواتین سے شادی مت کرو۔‘‘

مضمون کی ابتدا ہی مصنف اس نصیحت سے کرتا ہے کہ

’’ خوب صورت یا بدصورت لمبی یا کوتاہ قامت، کالی یا گوری، موٹی یا دبلی غرض کسی بھی عورت سے شادی کرلینا لیکن کبھی کسی ملازمت پیشہ خاتون سے شادی مت کرنا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بہت سارے معاشرتی سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین سے شادی کے بعد آپ کی شادی شدید قسم کے خطرات سے دوچار رہتی ہے۔مصنف مزید لکھتا ہے کہ ہر فرد واقف ہے کہ شادی شدہ زندگی کے اپنے تناؤ ہیں لیکن جدید مطالعات بتاتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘‘

مصنف کچھ حوالہ جات سے مزید آگے لکھتا ہے:

’’بے شمار مطالعات اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان سے شادی کرنا خود کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ ملازمت چھوڑ دیں اور گھر بیٹھ کر بچوں کو سنبھالیں تو یہ بہت ناخوش رہتی ہیں (جرنل آف میرج اینڈ فیملی 2003)۔ یہ اس وقت بھی خوش نہیں ہوتیں جب یہ آپ سے زیادہ پیسے کمانے لگ جائیں۔ (سوشل فورسز 2006) نیز اگر یہ آپ سے زیادہ آمدنی کی حامل ہوجائیں تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آتی (جرنل آف میرج اینڈ فیملی 2001) اس کا زیادہ امکان ہے کہ آپ بیمار پڑجائیں (امریکن جرنل اوف سوشیالوجی) یہاں تک کہ آپ کا گھر بھی گندا رہتا ہے (انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ)۔‘‘

کچھ آگے چل کر مزید لکھتا ہے کہ:

’’ شادی پر اثرانداز ہونے والا ایک امر یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو یا منگیتر کو دفتر کے کسی صاحب کے ساتھ دیکھ لیا اور غلط فہمیوں یا صحیح فہمیوں میں مبتلا ہوگئے۔ یا خود خاتون ہی کو 12,8 گھنٹے کسی اور صاحب اور صاحبان کے ساتھ گزار کر اپنے شوہر سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی والا کوئی فرد مل گیا۔ نوئر کا خیال ہے کہ ان عوامل کی بنا پر بھی ملازمت پیشہ یا کارپوریٹ خواتین میں شرح طلاق بڑھ جاتی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ مصنف کا تعلق جو کہ ظاہر ہے کہ امریکا سے ہے اور وہ جس معاشرے کی بات کر رہا ہے وہ ایک مکمل مغربی معاشرہ ہی ہے۔

ملازمت پیشہ خواتین کا اگر مغرب میں یہ حال ہے جہاں یہ سب باتیں معیوب بھی نہیں سمجھی جاتیں تو سوچیں کہ پاکستان و ہندوستان کے معاشرے میں اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہوں گے۔ بالفرض مان بھی جائیں کہ آج کے زمانے میں زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے عورت کا ملازمت اختیار کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے ورنہ ایک پر آسائش زندگی سے ایک کنبہ محروم ہو سکتا ہے تو پھر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا اور عورت کو گھر کے باہر بھی پروٹیکشن دیتا لیکن ہمارے معاشرے میں گھر سے باہر قدم رکھنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جانے لگا۔  ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مردبے شک بیوی کو نوکری کرنے دیتا ہے لیکن وہ ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی ملازمت پیشہ بیوی گھر کی ذمہ داری بھی پوری کرے یعنی 8 گھنٹے باہر ڈیوٹی اور باقی دن گھر ڈیوٹی بھی دے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ایک خاتون صبح آٹھ بجے ملازمت کے لئے نکلتی ہے۔ وہ اپنے بچوں اور شوہر کے لئے ناشتہ اور دوسرے لوازمات کیسے پورے کر پائے گی جب کہ اس نے خود ڈیوٹی کے لئے وقت پر نکلنا ہے؟ اس کے بعد وہ دو بجے واپس آ کر کچھ آرام کرے گی یا شوہر اور بچوں کے کھانے کا انتظام جو کچھ ہی دیر میں آنے والے ہوں گے؟ یا بسا اوقات آفس سے تاخیر ہو جائے تو اس دن اس  کے بچوں اور مرد کی روٹین کیا ہو گی؟رات کے کھانے میں وہ اپنے شوہر اور بیوی بچوں کو کیا سرو کرے گی جبکہ اس نے جلدی سو کر صبح جلد اٹھنے کے لئے ڈیوٹی پر بھی جانا ہو گا۔ یوں عورت کی زندگی ایک مشین سے زیادہ کچھ نہیں بن جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت پیشہ خاتون کا گھر انتہائی ڈسٹرب رہتا ہے، شوہر ناخوش اور بچے توجہ نہ ملنے کے باعث بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گھروں میں جھگڑے شروع ہوگئے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت جو پہلے مرد پر انحصار کرتی تھی جب کمانے لگی تو اتنی نڈر بھی ہوگئی کہ اس نے طلاق کا ڈر ہی نکال دیا۔ ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین اب عام ہیں جو نوکری بھی کرتی ہیں، خودمختار بھی ہیں اور طلاق یافتہ بھی ہیں۔ مردوں کا اس میں کافی قصور ہے وہ یہ سوچتا ہی نہیںکہ اس نے خود عورت کو کمانے کی اجازت دی ہے تو پھر اس کو کچھ ڈھیل بھی دے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عورت کمائے بھی ،گھر چلانے میں حصہ بھی ڈالے اور پھر گھر کے کام بھی کرے وہ بھی انسان ہے کوئی مشین تو نہیں اور پھر شک کرنا تو ان مردوں کی فطرت میں شامل ہو چکا ہے جن کی خواتین ملازمت پیشہ ہیں۔ ظاہر ہے ملازمت میں تاخیر تو کبھی تنہا سفر تو کبھی کسی سے میل جول بڑھانا انسان کی مجبوری ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خاوند شک کی ایسی چھری چلائے جس سے گھر کا سکون برباد ہو جائے۔اگر اتنی ہی اسے گھر کے کام کاج کی فکر ہے یا اپنے بچوں کا خیال ہے یا اپنی عورت کی عزت کا خطرہ ہے تو پھر وہ عورت کو اجازت ہی کیوں دیتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر ملازمت اختیار کرے۔کیوں وہ صرف اپنی آمدنی پر اکتفا نہیں کرتا؟

آج ہمارے اسلامی معاشرے میں عورتوں کا کام کرنا اب قطعاً معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ جو اس کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے پاگل تصور کیا جاتا ہے یا پھر جاہل دقیانوسی انسان جو زمانے کی رفتار کو سمجھ ہی نہیں پا رہا۔لیکن ہماری سوسائٹی اور خود عورتوں کو جو اس سے نقصانات ہوئے ہیں وہ ان محدود فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، جو ہمیں مغرب کی اس چکاچوند نے دکھائے ہیں۔ عورت جب خود ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج نہیں ہوتی ، اس لئے شوہر کی جانب سے خلاف مزاج بات پیش آنے پر برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے رشتۂ نکاح میں دراڑ آنے لگتی ہے اور طلاق تک نوبت آجاتی ہے، چنانچہ ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے طلاق کے واقعے ملازمت نہ کرنے والی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سامنے آتے ہیں۔جب عورت ملازمت کے لئے نکلتی ہے تو بسا اوقات شوہر عورت کے بارے میں شک وشبہات میں مبتلا ہوجاتاہے، یہ چیز اس کے سکون میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے نکاح کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔بچے ماں کی ممتا اور صحیح تربیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔خواتین کی ملازمت سے عورتوں کے جنسی استحصال کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔عورت کی ملازمت کی وجہ سے گھر خاص کرکچن کا نظم صحیح نہیں چلتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔

عورت خود کفیل، اپنا بینک بیلنس، اپنی گاڑی  اور اپنی عیش وعشرت کی زندگی وہ حسین سراب ہیں جو ہمیں ایک تاریک گڑھے میں دھکیل رہے ہیں مگر ہم جانتے بوجھتے ہوئے صرف نظر کر رہے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ وہ گھرانے جہاں عورت و مرد علیحدہ علیحدہ گاڑیوں میں صبح ملازمت کے لئے نکلتے اور شام ڈھلے واپس آتے ہیں بظاہر ان کے گھروں کی دیواریں اونچی اور خوبصورت مگر اندر سے بڑے بدنما اور کھوکھلے ہوتے ہیں۔ ان کے دل کوئی نکال کر دیکھے تو سیاہ پڑ چکے ہوتے ہیں ، آپس میں محبت اور آسائشوں کی فراوانی کا دکھاوا کرتے کرتے یہ لوگ بس ایک روبوٹ بنے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔ سچ پوچھیں تو آج بھی وہ گھرانے امن اور سکون کے خوشنما باغات ہیں جن کی دیواریں کچی مگر مکین بڑے پرسکون اور خوش ہوتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online