Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

گمنام مگر بلند مقام شخصیت…مولانا مامون اقبالؒ (محمدعمرفاروق)

گمنام مگر بلند مقام شخصیت…مولانا مامون اقبالؒ

محمدعمرفاروق (شمارہ 613)

غالباًسنہ ۲۰۰۸ء کی بات ہے، جب پہلی مرتبہ ان کی زیارت کاشرف حاصل ہوا درجہ ثالثہ کی درسگاہ تھی،اصول الشاشی کاسبق تھاپست قدبھرا اور گھٹا ہواجسم باوقار اور پراطمینان چہرہ شادابی و مسکراہٹ سے جھلملاتی صورت آنکھوں میں حیاکی جھلک اور بصیرت کانورنمایاںلباس اونچے درجے کے لوگوں کے معیار کاکپڑوں پردھبہ اور نہ ہی کہیں سلوٹ گویا ہر ہر اداسے نزاکت اور نستعلیقی عیاں اور چھلک رہی تھی سبق کے بعد رفقا درس نے بتایا کہ یہ مدرسہ کے کہنہ مشق استاذ مولانا مامون اقبال صاحب ہیں ۔

آج استاذصاحب کا تذکرہ کرنے بیٹھا ہوں ،تویادوں کاایک طوفان ہے جس نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے ، سمجھ نہیں آرہا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے ، استادجی کے انتقال کوتقریباپانچ ماہ ہونے کو ہیں،کئی دفعہ ارادہ کیا کہ لکھوں، مگر حادثہ اتناسخت و دل گیر ہے کہ لکھنے کا یارانہیں ہوا، اب  بھی دل آپ کامرثیہ لکھنے پر قطعا آمادہ نہیں مگر  صرف یہ سوچ کر قلم تھام کر بیٹھ گیا ہوں کہ ایسی عظیم شخصیت کہ جس کی ذات گوناگوں  اوصاف و کمالات کامجموعہ ہو، اسے گمنامی کے پردوں میں مستور رکھنا یہ صرف  اس ذات کیساتھ ہی نہیں بلکہ اہل علم کیساتھ بھی زیادتی متصور ہوتی ہے، اس لئے کہ یہی روشنی کے وہ مینار ہیں،جو کاروان علم کی رہبری و رہنمائی کا کام دیتے ہیں اور جن کے حالات متلاشیانِ علم کے دم خم میں اضافہ کا باعث ہوتے ہیں ۔

ایسے علماء جو رسوخ فی العلم کی شان رکھتے ہوں ، اب خال خال ہی ملتے ہیں ،قحط الرجال کے اس دورمیں  حضرت استاذ صاحب واقعی قدماء کی روایت کے ایک روشن چراغ تھے، سبق  کی تقریر نہایت سہل اورانتہائی شستہ ہوتی تھی،علمی تبحر اور پختگی اس پر مستزاد، مشکل و مغلق مباحث کو انتہائی سہل انداز میں طلبہ کی زبان میں حلوہ بنا کر پیش فرمانا ،یہ آپ کاخاصہ تھا  ، سب سے پہلی کتاب جو ان سے پڑھنے کا موقع ملا وہ اصول الشاشی تھی، اصول الشاشی اپنے فن میں پڑھائی جانے والی پہلی اور ابتدائی کتاب ہے، جس سے مناسبت پیداہونا ذرا مشکل ہوتاہے مگر استادصاحب کا انداز بیان ایسا دلنشین اور جامع ہوتا تھاکہ سمجھنے میں کچھ دشواری پیش نہیں آئی ، اس کے بعد اور بھی کئی اہم اور بڑی بڑی کتب پڑھنے کاموقع ملا، علمی پختگی، کتاب پرمکمل دسترس اور مباحث کا آسان حل ان کے درس کی خوبی تھی، جس کا مشاہدہ تقریباہر کتاب میں ہوا ،یہی وجہ تھی کہ ہرسال آپ کے درس میں مغلق اور اہم کتب کے اسباق رہے ۔

حضرت استاد صاحب صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے آدمی تھے،یاد ہے کہ ایک دفعہ  استاد صاحب نے بندہ سے فرمایا کہ میری  اصل خواہش اور تمنا میدان جہاد کی زندگی ہے پھر بتایا کہ جب مدرسہ سے فراغت ہوئی تو حضرت الشیخ سے اصرار کیساتھ عملی شعبہ میں انسلاک کی درخواست کی تھی مگر ترتیب  تدریس کی بن گئی ،  ایک موقعہ پر طلبہ کی ایک جماعت سے استاد صاحب کو سخت رنج پہنچا ، ایک دن دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی حاضر خدمت تھا، انتہائی غمگین اور دلگیر لہجہ میں فرمانے لگے کہ اب اس زندگی سے دل اُکتا گیا ہے، اب صرف یہی خواہش ہے کہ اللہ تعالی محاذ پربلا لے اور شہادت کی نعمت سے سرفراز فرمادے ، اس گفتگو کے دوران میں مسلسل استاد صاحب کے چہرے کو تک رہا تھا کہ جو واقعتا اس مسافر کی طرح دکھائی دے رہاتھا جو سفر کی طوالت سے تھک چکا ہو اور منزل پر پہنچنے کے لئے بے تاب ہو۔

استاد صاحب کی ایک خصوصیت جامعہ کے قوانین کی پاسداری اور مکمل پابندی تھی ،آپ کی یہی صفت تھی جس کی وجہ سے بعض طلبہ اور کچھ دیگر حضرات کو آپ سے شکوہ رہتا ، جن لوگوں نے استادصاحب کو انتہائی قریب سے دیکھا وہ جانتے ہیں کہ آپ بے حد شفیق اورانتہائی  نرم طبیعت کہ مالک تھے ، قانون پرعملدرآمد کروانے کیلئے اگرچہ طلبہ سے کچھ سختی کا اظہارفرماتے ،جو ایک ناظم تعلیمات کے لئے ضروری بھی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ  کادل طلبہ کی محبت سے لبریز تھا ، آپ ہمیشہ ان کی علمی و عملی ترقی کے لئے فکرمند رہتے ، مجھے یا د ہے کہ چند طلبہ کی طرف سے ان کو انتہائی  سخت تکلیف پہنچی ،ایک نجی نشست میں آپ نے اس موضوع پربات فرمائی جس میں اپنے دکھ کا اظہار ضرور کیالیکن ان طلبہ کے بارے میں ذرا سا بھی سخت  جملہ صادر نہیں فرمایا مگراس کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ آپ  جامعہ کے قوانین  میں کسی   طرح کی لچک کے روادر نہیں تھے، ان کی یہی خوبی  بعض لوگوں کو گراں گزرتی تھی  مگرآپ کی زندگی گواہ ہے کہ آپ مسکر ا کر سب باتیں اور رویے برداشت فرماجاتے مگرا پنی اس خو میں تبدیلی نہ آنے دیتے ۔

ایک اچھے مدرس کیساتھ ساتھ آپ ایک مثالی  منتظم بھی تھے ، آپ کا ہر کام سلیقہ اور حسن ترتیب لئے ہوتا تھا ، امتحانات کے دنوں میں آپ کی محنت دیدنی ہوتی، خاموشی سے سب کام اکیلے ہی نمٹاتے، پرچے بنانا ،ان  کے لئے نصاب حاصل کرنا، پھر متعلقہ استاد تک اسے پہنچانا ، پرچوں کو  وصول کرکے انہیں چھپوانا ، پھررول نمبر تقسیم کرنا ، بروقت امتحان حال کے تقاضے پورے کرکے اسے تیار کرنا ،امتحان کے بعد جوابی کاپیاں جمع کرنا، انہیں لفافوں میں پیک کرکے محفوظ طریقے سے متعلقہ استاذ کے حوالے کرنا ، اورباربار یاد دہانی کے بعدا نہیں وصول کرکے نتیجہ مرتب کرنا اور بروقت نتائج کے اعلان کی تقریب منعقد کروانا ،وہ احباب جنہیں استاد صاحب کاقرب حاصل رہا وہ جانتے ہیں کہ اس دورانیہ میں باوجود اس کہ آپ نظم اوقات کے بہت پابندتھے،آپ اپنی دیگر مصروفیات یہاں تک کہ  آرام بھی بھول جایا کرتے تھے ۔

مدرسہ کی کوئی تقریب ہواور اس کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پرڈال دی جاتی تو  آپ اپنے ذاتی اور گھریلوتقاضے چھوڑ چھاڑ کر اس کے بنانے سنوارنے میں مگن ہوجاتے ،بالخصوص جب آخر سال میں مدرسہ کی اختتامی تقریب منعقد ہونا ہوتی، تواستاد صاحب کی محنت قابل دید ہوتی تھی ، آپ ساری توانائیاں اس پر صرف فرمادیتے ، انتظامات کاحسن  آپ کی محنت ، سلیقہ مندی اوراعلی انتظامی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کررہاہوتا تھا ، انعامات کا انتخاب ، ان کی دیدہ زیب پیکنگ، اسٹیج کا دلفریب منظر گویا تقریب کا ہر پہلو اپنے اندر حسن نظم لیے ہوتا ۔

ان گوناگوں خوبیوں اور اوصاف کے حامل ہونے کے باوجود آپ کی زندگی شہرت سے دورتھی ،آپ طبعی طور پر اس سے متنفرتھے ، نام و نمود کے مقامات سے ہمیشہ  دور بھاگتے ،شہرت  اور ناموری کہ جس کے حصول کے لئے لوگ طرح  طرح کے جتن کرتے ہیں، اگراستاد صاحب  اسے  حاصل کرنا چاہتے تو بہت جلداس میدان میں ایک نمایاں مقام پالیتے مگر اسباب شہرت ہونے کے باوجود آپ اس روحانی بیماری سے پاک تھے ، جامعہ میں بڑی بڑی تقاریب منعقد ہوتی، اس کا کلیہ انتظام آپ کے ہاتھ ہوتا ،مگر اکثر دیکھنے میں آیا کہ دوران تقریب آپ ایک نکر میں خاموشی سے یوں بیٹھے ہوتے جیسے آپ سارے انتظام کے روح رواں نہیں بلکہ کوئی نووارد مہمان ہیں،  اسٹیج پر بیانات کرنے سے کتراتے  تھے ، ایک اچھے مدرس کے لئے خطابت کرنا  کوئی مشکل کام نہیں ، پھر ایساکہنہ مشق مدرس کہ جب بولے تو الفاظ اس کے سامنے  ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں کہ جناب جہاں چاہیں ہمیں جڑ دیجئے ، اس کے لئے ایک عوامی مجمعے میں خطابت کے جوہر دکھانا کیا  مشکل ہے ، لیکن ان بڑے بڑے مجمعوں سے جو چیزآپ کو دور رکھتی وہ ناموری سے تنفر تھا ، جبکہ ان کے متعلقین میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ آپ ہرسال ملک کے اکناف و اطراف  میں انتہائی اہم مقامات پر دورات تفسیر پڑھایا کرتے تھے جو تدریس سے زیادہ جوش بیان کا رنگ لیے ہوتے تھے

بلاشبہ استاد صاحب گوناگوں خوبیوں اور مختلف اوصاف و کمالات کا مجموعہ تھے ،  جوانی میں آپ کی  رحلت جہاں آپ کے اہل خانہ کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے وہاں جامعہ کے لئے بھی ایک بڑادھچکا ہے ، دعاہے اللہ تعالی آپ کو غریق رحمت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی علیین مقام عطافرمائے ، اور آپ کے انتقال سے جو خلاپیدا ہوگیا ہے اسے پرُفرمائے ۔آمین

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online