Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

جنت کی شہزادی اور جہیز (ابو طلحہ عثمان)

جنت کی شہزادی اور جہیز

ابو طلحہ عثمان (شمارہ 613)

مولانا محمد منظور نعمانی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ معارف الحدیث ج۴ میں رقمطراز ہیں:

’’ سیدنا حضرت علی ؓ، رسول اللہ ﷺ کے تکفل میں تھے، ان کا کوئی علیحدہ گھر نہ تھا، اس لیے آپ نے ان کا گھر بسانے کے لئے کچھ ضروری گھریلو سامان عنایت فرمایا، جس میں ایک چادر، ایک مشکیزہ ، چمڑے کا ایک گدا جس میں اِذخر گھاس بھری تھی… یہ سامان مروجہ جہیز کی قسم سے نہ تھا۔اس لئے جہیز کا ثبوت نہ اَزواجِ مطہرات کے کسی نکاح میں ہے، نہ دیگر بناتِ طاہرات کے نکاح کے موقع پر آپ نے کچھ دیا ہے اور نہ اہل عرب میں اس کا رِواج تھا‘‘…

سید سلمان احمد لکھتے ہیں:

’’سیدنا حضرت علی ؓ نے سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ اپنی ذرہ پانچ سو درھم میں فروخت کی ( اور رقم بارگاہِ رسالت میں پیش کر دی) نبی پاک ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کو بازار بھیجا۔ ان درہموں میں سے کچھ اُن کو دیے۔ تاکہ سیدہ فاطمہ کے گھر کے لئے ضروری سامان خرید لائیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صوابدید پر سامان خریدا گیا۔

ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی، ایک منقش پلنگ، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، ایک مشکیزہ ، مٹی کے دو گھڑے، ایک چکی، ایک پیالہ، دو چادریں، دو بازو بند چاندی کے، ایک جائے نماز اور کچھ خوشبو… یہ تھا سرور کائنات کی پیاری بیٹی کا جہیز جو مہر کی رقم میں خریدا گیا تھا‘‘ ( کتاب اہل بیت تالیف مولانا سلمان احمد۔ص۹۳۔ مطبوعہ۱۴۰۶ھ)

اس کتاب کی تقاریظ علامہ مولانا عبد العلیم فاروقی، مولنا سید جاوید حسین شاہ اور ڈاکٹر علامہ خالد محمود کی طرف سے لکھی گئی ہیں۔

سیرۃ وتاریخ کی دیگر کتابوں میں بھی جہیز سیدہ فاطمہؓ کے بارے میں کم و بیش اسی قسم کی عبارات موجود ہیں۔ سیرۃ مصطفیﷺ، مولفہ علامہ محمد ادریس کاندھلوی میں بھی یہی لکھا گیا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے ہاتھ ۴۸۰ درہم میں زرہ بیچی اور تمام درہم لا کر آنحضرت ﷺ کے سامنے ڈال دیے۔ فرمایا اس میں سے خوشبو اور کپڑوں کا انتظام کر لو۔ (بحوالہ زُرقانی)

آگے جہیز کی تفصیل میں وہی ایک لحاف، چمڑے کا گدا، ایک مشکیزہ، دو چکیاں، دو مٹی کے گھڑے ( مسند احمد) لکھا گیا ہے۔

بندہ کے ایک چھوٹے سے قلم برداشتہ مقالہ ’’ شادی جنت کی ایک شہزادی کی‘‘ مطبوعہ الخیر جس کا مقصد ایرانی ہندی رسموں میں جکڑے معاشرے کی اصلاح پر توجہ دلانے کے سوا کچھ نہیں۔ بعض اہل علم و فضل حضرات نے نقد فرمایا ہے کہ بندہ نے نبی پاک ﷺ کے جہیز دینے کا اِنکار کیا ہے۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا۔ میں ان اہل علم حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے اس فقرے پر گرفت کی ہے کہ’’ جہیز ہونے والے دولہا کے ذمہ ہے‘‘…

میرا مقصد فقط وہی ہے جو سیرۃ و حدیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔ آج ہزاروں کی تعداد سے بھی آگے جو اسلام کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی بناء پر اسلام کے نظام عفت و عصمت سے استفادہ نہیں کر پا رہیں، ان کی شادی کی رکاوٹوں کے حل کی طرف عوام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کو متوجہ کرنا مقصود ہے۔ ’’ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت ‘‘ تبلیغ والے بھائی کہتے ہیں شادی کی شین کے نقطے اُڑا دو۔ شادی سادی ہو جائے۔ اور ضروری اور اہم تر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلہ شدی میراث یا ترکہ میں بہنوں، بیٹیوں کو حصہ دیا جائے۔ نہ کہ جہیز کے نام پر انہیں محروم رکھا جائے۔

نوٹ: خیال رہے کہ ہمارے یہاں پنجاب میں مورث کی وفات پر میراث اور ترکے پر بیٹے قابض ہو جاتے ہیں اور انہیں بہنوں، بیٹیوں کو حصہ دینے پر متوجہ کیا جائے تو جواب ملتا ہے ’’ وہ اپنا حصہ جہیز کی صورت لے چکی ہیں‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online