Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

غزو ۃ الہند کا چمکتا ستارہ… سید سعد شہیدؒؒ.1 (بل احیاء۔ حبیب الحق)

غزو ۃ الہند کا چمکتا ستارہ… سید سعد شہیدؒؒ.1

حبیب الحق (شمارہ 617)

اللہ تعالیٰ نے اسلام کی فطرت میں ایسی لچک رکھی ہے کہ کوئی اس کو مٹا نہیں سکتا۔ دینِ اسلام کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے دیوانے کھڑے فرمادیتا ہے کہ جو خود تو مٹ جاتے ہیں لیکن اسلام کی سربلندی کے لئے کفر کی شان وشوکت کو بھی مٹا کر رکھ دیتے ہیں۔ انہیں فدائیانِ اسلام کے بارے میں شاعر نے کہا:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبا دینگے

اسلام کے شیروں کو مت چھیڑنا ورنہ

یہ مٹتے مٹاتے دینا کو مٹا دینگے

آج کے کالم میں اسلام کے جس شیر کا تذکرہ کیا جائے گا، اس کا نام ہے سید سعد علی شہیدؒ ہے۔

۲۷اگست ۲۰۱۷؁ کو راقم کو مرکز کی طرف سے حکم ہوا کہ کل یعنی ۲۸ اگست کو حیدر آباد پہنچ کر سعد شہیدؒ کی شہادت کی اطلاع ان کے والدین کو دوں… چنانچہ ایک ۴ رکنی وفد بنایا گیا۔ جس میں صوبہ سندھ کے منتظم استاد زبیر فاروقی صاحب، حیدر آباد کے منتظم قاری عبدالرحمن صاحب اور کراچی سے شعبہ احیائِ سنت کے منتظم بھائی محمد اسلم صاحب اور راقم شامل تھے۔

اگلے دن ۲۸ اگست کو مذکورہ وفد سید سعد علی شہیدؒ کے گھر پہنچا۔ شہید کا والد اور دیگر عزیز واقارب ہماری آمد کے منتظر تھے۔

شہید کے والد اور دیگر مجمع میں سے علیک سلیک کے بعد راقم نے جہاد اور شہادت کے موضوع پر مختصر بیان کیا اور سعد شہیدؒ کے کارنامے اور شہادت کی اطلاع دی اور ساتھ ہی سعد شہیدؒ کے والد محترم سید محمد اقبال صاحب کو مبارک باد دی۔

شہید کے والد صاحب فرمانے لگے کہ اس مبارک باد کا مستحق میں نہیں بلکہ میرے شیخ حضرت امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب  حفظہ اللہ تعالیٰ ہیں کہ جن کی تربیت کی وجہ سے میرا بیٹا اتنے بڑے مرتبے پر فائز ہوا ہے اور ساتھ ہی مٹھائی کا ڈبہ ہمارے سامنے کردیا کہ آج میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے شہید کا باپ بنایا۔

ہم نے بھائی محمد اقبال صاحب سے شہید کی والدہ محترمہ کے بارے میں دریافت کیا کہ ان کی کیا کیفیت ہے تو فرمانے لگے، میرا تو پھر بھی حوصلہ پست ہوجاتا ہے لیکن وہ بہت بلند ہمت اور حوصلے والی خاتون ہے۔

سعد شہیدؒ کی شہادت کی خبر سنتے ہی فوراً مصلے پر کھڑی ہوئی اور ۲ رکعت شکرانے کے ادا کئے… سعد شہیدؒ کی والدہ محترمہ کی بلند ہمتی اور حوصلے کی تصدیق قاری عبدالرحمن صاحب نے بھی کی۔

قاری صاحب کہنے لگے کہ میں اپنی اہلیہ کو بھی اپنے ساتھ سعدؒ کے گھر لے کر گیا کہ وہ شہید کی والدہ کو تسلی دیں اور شہادت کے فضائل سنائیں… لیکن جب اہلیہ شہید کی والدہ سے ملی تو منظر ہی کچھ اور تھا کہنے لگی کہ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرا بیٹا شہید ہوگیا ہے اور یہ مجھے تسلی دے رہی ہیں۔

راقم نے سعد شہیدؒ کی ولدہ کو پیغام پہنچایا کہ اپنے تاثرات قلمبند کرکے دے دیں جو انہوں نے خوشی خوشی راقم کو پہنچائے۔ بہت ہی ایمان افروز تاثرات ہیں، جنہیں آگے چل کر شاملِ مضمون کرینگے۔ ان شاء اللہ

مغرب کے بعد ہم نے شہید کے والد محترم سے رخصت چاہی تو وہ فرمانے لگے کہ سعدؒ نے وصییت کی تھی کہ جو بھی میری شہادت کی خبر لے کر آئے تو بغیر کھانے کے ان کو مت جانے دینا۔ اس لئے شہید کی والدہ خود آپ حضرات کے لئے کھانا تیار کررہی ہیں۔ شہید کی وصیت کے سامنے ہم مجبور تھے۔ اس لئے رکنا پڑا۔

سید سعد شہیدؒ کو پلائو بہت زیادہ پسند ہوتا تھا، اس لئے شہید کی والدہ نے شہید کی پسند کی بناء پر قورمے کے ساتھ لذیذ پلائو بھی تیار کیا۔ کھانا نوش کرنے کے بعد جب ہم روانہ ہونے لگے تو شہید کے والد صاحب نے شرکاء وفد اور دیگر مہمانوں کو ایک ایک عدد کائونٹر تسبیح اور ایک ایک عدد عطر کی شیشی ہدیہ کی اور فرمانے لگے کہ یہ کائونٹر تسبیح سعد شہیدؒ نے اپنے ہاتھ سے خریدی تھی اور عطر کی ہمیں وصیت کی تھی کہ میری شہادت کی خبر دینے والوں کو اور دیگر عزیز واقارب کو میری طرف سے یہ ہدیہ کردینا۔

سعد شہید کے جذبۂ جہاد اور شوق شہادت اور والدین مکرمین کی بلند ہمتی اور حوصلے کو سلام کرتے ہوئے ہم کراچی لوٹ آئے۔

اس دوران بار بار یہ خواہش رہی کہ ایک بار پھر سعد شہید کے والد سے ملاقات ہو اور شہید کے حالات زندگی قلمبند کرکے قارئین کی نظر کروں لیکن کوئی صورت نہ بنی… بالآخر اللہ تعالیٰ نے راستہ نکال دیا۔ بندہ کو مرکز کی طرف سے حکم ملا کہ سندھ کا دورہ کرکے شہداء کرام کے گھروں کا سروے کروں اور شہداء کے گھروں کے حالات معلوم کروں۔

اسی بناء پر ایک بار پھر موقع ملا اور راقم ۱۳ اکتوبر کو دوبارہ سعد شہیدؒ کے گھر پہنچا اور شہید کے حالات زندگی معلوم کئے جو قارئین کرام کی نظر کرتے ہیں۔

شہید کے والد محترم سید محمد اقبال صاحب فرمانے لگے کہ سعدؒ جو مئی ۱۹۹۳؁ کو پیدا ہوا… فرمانے لگے کہ سعدؒ کی پیدائش کے دو ماہ بعد میں نے اور اہلیہ نے یہ نیت کی کہ سعد کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کرینگے۔ چونکہ اس وقت میں ایک جہادی تنظیم سے وابستہ تھا، اسی جہادی جذبے کے تحت ہم نے سعدؒ کو اللہ کے لئے وقف کرنے کی نیت کی۔

پانچ سال کی عمر میں ہم نے سعد کو اسکول میں داخل کیا۔ تین سال تک اسکول میں پڑھتا رہا۔ اس کے بعد جامع مفتاح العلوم میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے لئے داخل کرایا اور یہی پر آٹھویں کلاس تک عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناظرہ قرآن کریم بھی مکمل کیا۔

شہید کے والد محترم فرمانے لگے کہ ۲۰۰۹؁ء میں انٹر تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہم نے مکمل طور پر سعدؒ کو جماعت اور جہاد کے لئے وقف کردیا۔ اس دوران سعد نے جماعت کے ابتدائی نصاب (دورہ تریبہ، دورہ اساسیہ، دورہ تفسیر، اور مجاہدین کی خدمت) مکمل کرنے کے بعد معسکر کا رخ کیا۔ جہاں پر سعدؒ نے اچھی سی اچھی تربیت حاصل کی۔ تربیت حاصل کرنے کے بعد سعدؒ نے اپنا نام جیش محمدﷺ کے فدائی دستے میں لکھوایا اور ہمیشہ کے لئے جہاد سے وابستہ ہوگیا۔

جماعت کی طرف سے علاقہ میں تشکیل ہوئی تو چونکہ حیدر آباد ڈویژن کی نشریات میں تقسیم کرتا تھا، اس لئے سعد شہید نشریات کی ترسیل میں میرا ہاتھ بٹاتے۔ فرمانے لگے کہ سعد جب گھر آتے تو اپنی والدہ سے کہتے کہ امی میرا فدائی حملے کا نمبر آنے والا ہے… لیکن کچھ عرصہ بعد سعد پھر گھر آجاتا اور پھر والدہ سے کہتا کہ میرا نمبر آنے والا ے… آخر میں والدہ نے ناراض ہوکر کہا کہ کتنے عرصے سے میں سن رہی ہوں کہ تیرا نمبر آنے والا ہے لیکن ابھی تک نہیں آیا… تو میں نے ڈانٹ کر کہا کہ نمبر آنے کا مطلب جانتی ہو… ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی… یہ سن کر کہنے لگی کہ جدائی تو ہوجائے گی لیکن مجھے شہید کی ماں کا اعزاز تو مل جائے گا۔

دیکھا قارئین کرام! ایک ماں کا جذبۂ ایمانی… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان بیٹے کو سعد شہیدؒ جیسی ماں اور ہر ماں کو سعد شہیدؒ جیسا بیٹا نصیب کرے۔ آمین

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online