Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

کذاب کی تہمت اور موم بتی مافیا (نشتر قلم۔زبیر طیب)

کذاب کی تہمت اور موم بتی مافیا

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 617)

مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ ایسی کہانیوں اور واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کسی بھی قدآور شخصیات کے اثر کو دبانے کے لئے یا کسی ہردلعزیز شخصیات کے کردار پر گندے چھینٹے ڈالنے کے لیے اور تاریخ مسلم کا کردار مسخ کرنے کے لیے ایک سے ایک نئی مزے دار اور چٹخارے دار اسٹوریاں گھڑی گئیں۔تاریخ مسخ کی گئی اور کیا کیا عجیب و غریب واہیات باتیں گھڑی گئیں۔ لیکن سچ چھپائے نہیں چھپتا۔ ہمارے زمانے میں ان سٹوریوں کو ایک نئے ڈھنگ سے لانچ کیا جاتا ہے اور پھر ان کہانیوں کو مرچ مصالحہ لگوانے کے لیے کسی ذرائع ابلاغ کے ادارے یا کسی انٹرنیشنل ادارے یا میڈیا گروپ کو بھیج دیا جاتا ہے اور بس پھر بیٹھ کر تیل دیکھی جاتی ہے اور  افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تیل کی دھار پر پھسلتے مسلمانوں خصوصاً پاکستانی قوم کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں مغربی میڈیا کی خبروں پر ایمان ایسے لایا جاتا ہے جیسے وہ نعوذ باللہ آسمان سے اتری ہوئی خبر ہو۔ اغیار پھر ایسے سنہری موقعے سے کیونکہ فائدہ نہ اٹھائیں ۔ایسی سازشی تھیوریز پر من و عن ایمان لے آنے اور پھر اس کو عوام پاکستان میں پھیلانے کا کام مشہور و معروف موم بتی مافیا کر رہا ہوتا ہے۔ وہ موم بتی مافیا کہ جس کو آیات قران اور نبی محمد ﷺ کا فرمان تو بہت چبھتا ہے مگر بی بی سی ٹائپ کے انٹرنیشنل جھوٹوں پر ایمان لے آنا ان کے دین کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ وہ موم بتی مافیا جو سی آئی اے اور را کے راتب پر دم ہلاتا ہوا دین اسلام اور مملکت لا الہ الا اللہ پاکستان کا ہی دشمن بنا بیٹھا ہے۔ یہی لوگ اغیار کی طرف سے پھینکی گئی چند ہڈیوں کو پالینے کے لیے نبیﷺ تک کی شان میں گستاخیوں پر اتر آتے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے ہمارا نظریاتی دشمن ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے قابل ہوتا ہے۔

ان کے لیے کبھی آلہ کار شرمین عبید چنائے ہوتی ہے جو بزعم خود لبرل، سیکولر، آزاد خیال، روشن خیال(درحقیقت تاریک خیال) کہلاتی ہے اور چوڑھے انگریزوں کے ساتھ جپھیاں مارتی رہے اور جنسی آزادی کی خاطر موویز بنا کر آسکر کا ننگا ایوارڈ لے چکی ہو مگر جب انہی نظریات کا حامل کوئی شخص اس کی بہن کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج دے تو آگ بگولہ ہوجائے۔کبھی پاکستان کو عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے بدنام کرنا ہو تو سوات کی ملالہ کا گھڑا گھڑایا ڈرامہ اسٹیج پر نظر آتا ہے اور پھر وہی ملالہ آکسفورڈ داد عیش دیتی نظر آتی ہے۔کبھی حسین حقانی اور شاہد عزیز اپنی کتابوں اور کالموں کے ذریعے تیرو تفنگ کے سے لیس ہوکرپاکستان کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔ یہ موم بتی مافیا جو قرآن اور اس کے قوانین پر تو اعتراض اٹھاتا ہوگا مگر ایک کرائے کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی کتاب اور اس میں پاکستان کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے پر ایمان لانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

اب کی بار پیش خدمت ہے سی آئی اے پراپیگنڈا اینڈ فلم انڈسٹری کی جانب سے اک نئیغلاظت انڈیلی گئی ہے۔ شیخ اسامہ شہیدؒ جب تک زندہ رہے اسلام کے ماتھے کا جھومر رہے اور کفر کی آنکھ کا کانٹا۔ جب شہید ہوئے تو امت مسلمہ کی ہرآنکھ اشکبار ہوئی۔ دلوں میں عظمت کے زمزمے بلند ہوئے۔ امت کے بزرگان دین نے عظیم خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا مشن آج بھی قائم و دائم ہے۔ آج بھی کفر ان کے نام سے لرزہ براندم ہے۔ جب کفر نے یہ دیکھا کہ وہ شیخ  ؒ کی عظمت کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکے۔ آج بھی شیخ اسلام کے سچے ہیرو اور سچے نمائندے ہیں تو انہوںنے غلیظ پروپیگنڈہ شائع کر دیا۔کہا جا رہا ہے کہ 18000 کے قریب دستاویز سی آئی اے نے شائع کی ہیں جس میں شیخ  ؒ کے بچوں ، پوتے پوتیوں کی تصویروں سے لے کر ایران سے تعلقات، فلموں ڈراموں کی فائلوں اور مزید بھی واہیات بکواسات کی ہیں۔ بے شک حضرت شیخ   ؒ ان تمام الزامات سے بری ہیں۔ بے شک حضرت شیخ  ؒ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہمارے سچے ہیرو ہیں۔

قصہ مختصر سی آئی اے نے اپنی تازہ ٹویٹس کے ذریعے ہمارے موم بتی مافیا کو اک نیا ذریعہ معاش فراہم کیا کہ ہم نے اپنی ویب سائٹ پر اسامہ بن لادن کے فلیٹ سے ملنے والی ویڈیوز، آڈیوز اور ڈاکومینٹس کو اپلوڈ کیا ہے۔ سی آئی اے کی ویب سائٹ پر یہ چیزیں اپلوڈ ہونے کے لمحات سے لے کر مختلف ویب سائٹ، لبرلز ، سوشل میڈیا پر اور دیگر موم بتی مافیا ایک طوفان بدتمیزی بپا کیے ہوئے ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک روسی مشیر کے اسامہ بن لادن کے ہیلری کلنٹن سے وائٹ ہاؤس میں ملنے کے متنازع بیانات کو لے کر شور مچایا گیا مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف بعد میں پتا چلا کہ وہ تصویر 2004 کی ہے جس میں بھارتی موسیقار سبھاشیش ہیلری سے ہاتھ ملا رہا ہے جس کی ایڈیٹنگ کرکے اس میں اسامہ بن لادن کی تصویر کو فٹ کیا گیا ہے۔حضرت شیخ  ؒ کیا تھے ؟ اور ان کا مقام کیا تھا؟ یہ روز روشن کی طرح ہر صالح مومن کے دل پر عیاں ہے۔ سی آئی اے کی جانب سے شائع کی گئیں ان بکواسات کا جواب دینے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان خبروں کی کوئی اہمیت لیکن اصل مسئلہ یہ موم بتی مافیا ہے جو اسلام اور پاکستان کا روز اول سے دشمن ہے۔

سچ پوچھیں تو ہمارے وطن عزیز میں ایک ناسور کی طرح پلتے یہ موم بتی مافیا کے لوگ کسی غلاظت سے کم نہیں۔اس خبر کے شائع ہوتے ہی موم بتی مافیا نے حق نمک کو ادا کرتے ہوئے ماضی طرح سی آئی اے کے اس متنازع ترین بیان پر ایمان لاتے ہوئے اپنی توپوں کا رخ ایک بار سے پاکستان ، جہادی جماعتوں اور ان کی صالح قیادتوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ پاکستان میں موجود یہ موم بتی مافیا ایسا سانپ ہے جس کے پاس سوائے پاکستان اوردینی جماعتوں اور ان کی قیادت کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کرنے کے کوئی کام نہیں ہے۔ جن کی روزی روٹی پاکستان پر بھونکنے سے ان کے نصیب میں ہوتی ہو، جن کو لگثری گاڑیاں اور گھر نظریہ پاکستان پر زہریلے حملے کرنے سے میسر آتے ہیں۔ اسلامی شعار کا مذاق اڑانا اور اراکین و احکام اسلام پر طعن و تشنیع کرنا جن کا وطیرہ بن چکا ہے۔ قوم اپنے مقتدر اداروں سے سوال کرتی ہے کہ آکر کب تلک یہ موم بتی مافیا پاکستان کی نظریاتی سرحدیں کھوکھلی کرتا رہے گا، کب تلک یہ کفر کا آلہء کار بن کر اس اسلامی ریاست میں غیر اسلام کا پرچار کرتا رہے گا۔ سی آئی اے اور را کے یہ غیر اعلانیہ ایجنٹ کب تک ہمارے نظریہ اسلام و پاکستان کی دھجیاں بکھیرتے رہیں گے۔ نبی پاک ﷺ کی شان اقدس اور آپﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں بھی یہی ملعون گندی زبانیں دراز کرتے رہتے ہیں آخر کب تک ان کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ آخر کب تک؟

رہی بات حضرت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ  کی تو ان کا نام مبارک آتے ہی ذہن میں ایک ایسی شخصیت کا نام ابھرتا ہے،جنہیں امتِ مسلمہ اپنے ماتھے کا جھومر سمجھتی ہے،جبکہ کفر یہ دنیا کا ایک بڑا حصہ ان کے نام سے ہی خوفزدہ رہتی تھی اور آج بھی ہے۔ جبکہ مشرقی اور افریقی ممالک سمیت اسلامی دنیا میں بسنے  والے مسلمان ان کو اپنا عظیم ہیرو،مجاہد اور نجات دہندہ سمجھتی تھی،عالمِ اسلام میں ارب پتی خاندان سے تعلق رکھنے والے اس عرب شہزادہ کوخالد بن ولیدؓ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اورمحمد بن قاسمؒ کے جانشین کے طور پر یادکیا جاتا ہے جبکہ انسانی حقوق کے نام نہادعلمبردار اِن کو انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر جانتے ہیں۔

321 جی بی  پر مشتمل یہ ڈیٹا گروہ کذاب نے جار ی کیا ہے۔اس میں شیخ پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اگر شیخ کو یہ سب کرنا ہوتا تو اپنے محلات چھوڑ کر اس کیلیے دربدر کی ٹھوکر کھاتے؟ تورا بورا سے سوڈان اور یمن سے خراسان تک بے سروسامانی کے عالم میں غریبی جھیلنے کی ضرورت نہیں تھی۔

حضرت شیخ  ؒ جب تک زندہ رہے یہ لوگ( کفر) ان کی موت کے سب سے بڑے حریص رہے، جب وہ شہادت سے سرفراز  ہوئے تو سارا عالم کفر ہاتھوں میں شراب پکڑے اپنی گلیوں میں ناچنے لگا، کسی کو یقین نہ آئے تو 3 مئی2011 کو واشنگٹن کی گلیوں میں برپا غل غپاڑہ یوٹیوب سے دیکھ لے۔ اور اب انکی شہادت کے چھ سال بعد بھی عالمی طواغیت کو ان کے نظریے سے اتنی چڑ ہے کہ بے بنیاد اور جھوٹے پروپگینڈہ کے حملہ کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان کذاب و نامراد پر۔ آمین

رحمتہ اللہ علیہ رحمتہ واسعہ

بھرے گلشن میں جن پر انگلیاں اٹھیں وہی غنچے

فرشتوں کی کتابوں میں چمن کی آبرو ٹھہرے!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online