Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

صیہونی ریاست کی ایک اور سازش (محمد فیض اللہ جاوید)

صیہونی ریاست کی ایک اور سازش

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 617)

فلسطین میں سنہ 1948ء میں نام نہاد یہودی ریاست کے قیام کے بعد سے آج تک کئی عشروں پر محیط عرصے کے دوران قابض صہیونی ریاست نے فلسطین کا مذہبی، تہذیبی، ثقافتی، تمدنی حتیٰ کہ جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے اور فلسطین پر صہیونی، یہودی، توراتی اور تلمودی چھاپ کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

فلسطینی شہروں کو یہودیانے، دنیا بھر سے سبز باغ دکھا کر صہیونیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی گھناؤنی مہم کے ساتھ ساتھ متوازی انداز میں ایک دوسری مہم بھی جاری ہے۔ اس متوازی مہم کے تحت فلسطین کے تاریخی مقامات، شہروں، شاہراہ، اہم تاریخی عمارتوں، مقدس مقامات، حتیٰ کہ پانی کے چشموں تک کے نام بدلنے کی مکروہ مہم جاری ہے۔اس مکروہ اور گھناؤنی مہم کا اصل مقصد فلسطین پر یہودیت اور صہیونیت کی چھاپ قائم کرنا اور فلسطین کی اسلامی اور عرب تہذیب وتمدن، تشخص اور ثقافت کا نام ونشان مٹانا ہے۔

شہروں کے نام اور اہم مقامات کے عبرانی، یہودی، توراتی اور تلمودی ناموں میں تبدیل کرنے کی مہم سرکاری، ابلاغی، سیاسی حتیٰ کہ اسکولوں میں بھی جاری ہے۔ صہیونی ریاست اپنے تدریسی نصاب میں فلسطینی شہروں، تاریخی مقامات، پرانی تاریخی عمارتوں اور دیگر ثقافتی اور تہذیبی علامتوں کو عبرانی ناموں سے لکھا گیا ہے۔

فلسطینی میڈیا نے حال ہی میں صہیونی ریاست کی اس مکروہ اور گھناؤنی جغرافیائی مہم پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا کہ صہیونی ریاست کس طرح شہروں کے نقشے اور نام بدل رہی ہے۔

جنین

غرب اردن کے شمالی شہر جنین کا کل رقبہ 583 مربع کلو میٹر اور آبادی 3 لاکھ 3 ہزار 565 ہے۔ اس میں فلسطینی بستیوں کی تعداد 94 ہے جوکہ 56 افراد فی مربع میٹر آباد ہیں۔ جنین گورنری میں 15 یہودی کالونیاں قائم ہیں جو شہر کے کل 4.4 رقبے پرہیں۔ ان میں 7 بڑی کالونیاں، 6 فوجی کیمپ، کئی چھوٹی کالونیاں اور ایک صنعتی زون شامل ہے۔

طوباس

طوباس گورنری دریائے اردن کے مغربی کنارے میں واقع ہیجس کا رقبہ 402 مربع کلو میٹر اور آبادی 62 ہزار 627 ہے۔ اس شہر میں کل 24 یہودی کالونیاں قائم ہیں جو شہر کے 9.2 کلو میٹر علاقے پر قابض ہیں۔ ان میں 20 اہم اسرائیلی مراکز ہیں جو 4.2 مربع کلو میٹر پرتعمیر کیے گئے ہیں۔ آٹھ بڑی یہودی کالونیاں، متعدد فوجی کیمپ اور ایک چھوٹی کالونی قائم ہے۔

نابلس

غرب اردن کے شمالی شہروں میں نابلس اہم ترین اور بڑا شہر ہے جس کا رقبہ 605 مربع کلو میٹر اور سنہ 2014ء کے اعدادو شمار کے مطابق آبادی 3 لاکھ 72 ہزار 621 نفوس پر مشتمل ہے۔ فلسطینی آبادی شہر کے 72 فی صد علاقے پر آباد ہے اور فی کلو میٹر 49.2 افراد آباد ہیں۔

 

اس شہر میں 47 یہودی کالونیاں قائم ہیں جو شہر کے 10 مربع کلو میٹر پرقابض ہیں۔ 11 بڑی کالونیاں، دو صنعتی زون، چھ فوجی کیمپ، 25 چھوٹی یہودی کالونیاں اور تین سروسز سینٹر قائم ہیں۔

طولکرم

طولکرم شہر کا رقبہ 246 مربع کلو میٹر اور آبادی1 لاکھ78 ہزار 774 نفوس ہے۔ اس شہر میں 40 صہیونی کالونیاں ہیں جو شہر کے 39 مربع کلو میٹر پرقائم ہیں۔طولکرم میں چھ اہم اسرائیلی مراکز 2.3 مربع کلو میٹر پربنائے گئے ہیں۔ ان میں تین بڑی کالونیاں، دو چھوٹی جب کہ متعدد فوجی کیمپ بھی شامل ہیں۔

سلفیت

غرب اردن کے شمالی شہروں میں سلفیت اہم شہر ہے جس کا رقبہ 204 مربع کلو میٹر اور آبادی 69 ہزار 179 افراد پر مشتمل ہے۔ اس شہر میں 16.8 مربع کلو میٹر رقبے پر 22 صہیونی کالونیاں قائم ہیں۔اس کے علاوہ 28 اہم سرائیلی مراکز ہیں جن کے لیے 15.9 مربع کلو میٹر کا رقبہ مختص ہے۔ 15 یہودی کالونیا، تین صنعتی علاقے، تین فوجی کیمپ، چھ چھوٹی کالونیاں اور ایک سروس سینٹر ہے۔

قلقیلیہ

غرب اردن کا جنوبی شہر قلقیلیہ کا رقبہ 166 مربع کلو میٹر اور سنہ 2014ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 1 لاکھ 8 ہزار 49 ہے۔ اس میں کل 36 یہودی کالونیاں اور مراکز ہیں جو 17.4 مربع کلو میٹر پرقائم ہیں۔

قلقیلیہ میں 19 اہم اسرائیلی مراکز کے لیے 9.4 مربع کلو میٹر کا رقبہ مختص ہے، ان میں  8 یہودی کالونیاں، تین صنعتی زون، تین فوجی کیمپ، چار چھوٹی کالونیاں اور ایک سروس سینٹر ہے۔

رام اللہ البیرہ

رام اللہ البیرہ گورنری کا رقبہ 855 مربع کلو میٹر اور آبادی سنہ 2014ء کے شماریاتی اندازوں کے مطابق 3 لاکھ 38 ہزار 383 ہے۔ اس شہر میں 86.6 مربع کلو میٹر پر 79 یہودی کالونیاں، فوجی کیمپ اور دیگرمراکز قائم ہیں۔ رام اللہ البیرہ میں 65 اہم اسرائیلی مقامات ہیں جن کے لیے 30.0 مربع کلو میٹر جگہ مختص ہے۔ نیز 29بڑی کالونیاں،10 فوجی کیمپ، 25 چھوٹی کالونیاں، اور ایک سیاٰحتی مرکز قائم ہے۔

اریحا

ایرحا گورنری کا رقبہ 593 مربع کلو میٹر اور آبادی 50 ہزار 762 نفوس ہے۔ اس میں 15.7 مربع کلومیٹر کے علاقے پر 16 یہودی کالونیاں قائم ہیں۔ ان میں 54 اہم اسرائیلی مقامات ہیں جو مجموعی طور پر 13.4 مربع کلو میٹر پرقائم ہیں۔ ان میں 15 یہودی کالونیاں، 27 فوجی کیمپ، 6 چھوٹی کالونیاں، چار سروس سینٹر اور ایک سیاحتی مرکز شامل ہے۔

بیت المقدس گورنری

بیت المقدس گورنری کا رقبہ 345 مربع کلو میٹر اور سنہ 2014ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 4 لاکھ 11 ہزار 640 نفوس پر مشتمل ہے۔ القدس گورنری میں 38.7 کلو میٹر کے علاقے پر 51 یہودی کالونیاں اور مراکز قائم ہیں۔ ان کالونیوں میں 66 اہم مقامات ہیں جو 41,6 مربع کلومیٹر پر قائم ہیں۔ ان میں 26  بڑی یہودی کالونیاں،13 فوجی کیمپ، 16 چھوٹی کالونیاں، تین صنعتی زون، ایک سیاحتی مرکز اور سات سروسز سینٹر قائم ہیں۔

بیت لحم

بیت لحم کا کل رقبہ 659 مربع کلو میٹر اور آبادی 2 لاکھ 10 ہزار 484 نفوس بتائی گئی ہے۔ شہر میں 49.2 مربع کلو میٹر علاقے پر 72 یہودی کالونیاں اور دیگر اسرائیلی مراکز قائم ہیں۔ ان میں 34 مراکز کے لیے 13.3 مربع کلو میٹر جگہ مختص ہے۔

الخلیل

الخلیل گورنری غرب اردن کے جنوب میں واقع ہے جس کا رقبہ 997 مربع کلو میٹر اور آبادی سنہ 2014ء کی مردم شماری کے مطابق 6 لاکھ 64 ہزار 247 نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر میں 154 یہودی کالونیاں 152.1 مربع کلو میٹر کے علاقے پرقائم ہیں۔

شہروں کے اسلامی نام عبرانی میں بدلنے کی مہم

صہیونی ریاست نے اپنے قیام کے آغاز ہی سے فلسطین شہروں پر قبضے، توسیع پسندی اور آباد کاری کیساتھ تاریخی مقامات کے عربی، اسلامی اور تاریخی ناموں کو عبرانی ناموں میں بدلنے کی مذموم مہم شروع کی تھی۔اس گھناؤنی مہم کے در پردہ مقصد فلسطین کے اسلامی اور عرب تہذیب وتمدن پر جعلی سازی کے ذریعے عبرانیت کی چھاپ قائم کرنا تھی۔

سنہ 1948ء میں اس وقت کی اسرائیلی حکومت نے فلسطینی شہروں، شاہراؤں، تاریخی عمارتوں اور اہم تاریخی جگہوں کے عبرانی ناموں کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی نے فلسطینی شہروں کے عربی اور اسلامی ناموں کی جگہ نام نہاد توراتی، تلمودی اور عبرانی ناموں کی فہرستیں تیارکیں۔ ان فہرستوں کی روشنی میں شہروں کے نقشے کے ساتھ ساتھ ان کی شناخت اور نام بھی بدلنے جانے لگے۔

فلسطین پر قبضے کے ساتھ ساتھ جگہوں کے ناموں کو بدلنا فلسطینی تہذیب وتمدن، تاریخ اور ثقافت پر بدترین صہیونی حملہ ہے۔ اسکولوں کے لیے تیار کردہ تدریسی نصاب میں بھی فلسطینی شہروں اور اہم مقامات کے عبرانی اور جعلی نام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد جن علاقوں پرصہیونی ریاست نے اپنا تسلط قائم کیا ان پر بھی یہ یلغار مسلط کی گئی۔

سنہ 1967ء میں اسرائیل نے عالمی جغرافیائی  اصطلاحات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے دوران فلسطین کے تاریخی مقامات کے عبرنی اور اسلامی ناموں کی جگہ عبرانی ناموں کی فہرست پیش کی۔ مگر صہیونی حکومت اور فلسطین کو یہودیانے میں سرگرم سرکاری اور غیر سرکاری ادارے جگہوں کے ناموں کی تبدیلی کو قومی مشن قرار دیتے۔

فلسطین میں عبرانی ناموں کو ترویج دینے کے لیے صہیونی ریاست نے ابلاغی اداروں بالخصوص الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ حتیٰ غرب اردن کے ساتھ غزہ کی پٹی میں بھی اہم مقامات کے نام تبدیل کیے گئے۔ صہیونی لیڈروں نے پرانے عرب اور اسلامی ناموں کو فلسطین میں اپنی توسیع پسندی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا اور اس رکاوٹ کو ہٹانے کے لیے تمام مکروہ حربے استعمال کیے گئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online