Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

اللہ کاشیر…طلحہ رشیدؒ (سعدجلیل)

اللہ کاشیر…طلحہ رشیدؒ

سعدجلیل (شمارہ 618)

انتہائی ہنس مکھ ،ملنساراورزندہ دل شیر… کشمیرکی دھرتی کواپنے لہوسے سیراب کرگیا…وہ جب کبھی جہادکے موضوع پرتقریرکرنے کے بعد ملتا…تواکثروہ غمگین ہوجاتا…گہری سوچوں میں ڈوب جاتا…اس کی سردآہوں کی مہک ابھی تک تازہ ہے…وہ کہتا:آہ!ہم توبس گفتارکے غازی ہیں …ہمارے پاس کردارنہیں…اسے امیرشریعت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ سے عشق تھا…وہ اکثران کی باتیں کرتارہتا…ایک بارملتان میں ان کے مرقدپرحاضری کے لیے اپنے ساتھ لے گیا…وہ دین کادیوانہ تھانا…بس دیوانوں سے محبت کرتاتھا…وہ جب دل کے سوزکے نغمے چھیڑتا…تواس کی باتیں سن کرواقعی اندازہ ہورہاہوتا…کہ اس کی فکرمیںقاسمی پروازاورایوبی جذبہ ہے…وہ اپنے خاندان کاتعارف کراتاتویہ بتاتا…ہمارے آباؤاجدادمیں سے بھی اکثرمجاہدتھے اورمیں بھی امت مسلمہ کامحافظ بنوں گا…وہ اپنے بچپن کی یادوںمیں کھوجاتاتوبتاتاکہ میری والدہ نے مجھے یہ کتاب ’’مجاہدتم کہاں ہو؟‘‘…مکمل پڑھ کرسنائی تھی…اسے اپنے والدین سے بے پناہ محبت تھی …وہ کہتارہتاکہ میرے والدین کے لیے خصوصی دعاکیاکرو…وہ کشمیرکے مظلوم مسلمانوں کے لیے بسمل کی طرح تڑپتا…وہ کبھی کشمیرمیں جانے اورکچھ کرگزرنے کے منصوبے بناتااورپھران پربات کرتا…وہ جب درجہ ثالثہ کاطالب علم تھا…اک دن عربی ادب کی کتاب’’نفحۃ العرب‘‘کے سبق میں شجاعت کے موضوع پرقصے پڑھتے ہوئے…بے قابوہوگیا…یااللہ!میں بھی اسی طرح بہادربن کراسلام کے لیے کوئی کارنامہ سرانجام دوں گا…دوران سبق اس نے بہرام بادشاہ کے بارے پڑھا…کہ اس نے شیرپرسوارہوکراس کی پسلیاں توڑدیں تھیں…یہ واقعہ پڑھتے ہوئے وہ درسگاہ میںپرجوش ہوگیا…استاذ کی موجودگی میں خود پر قابو رکھااوردانتوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر بیٹھا … اورپھربتانے لگاکہ میں بھی بہادر بنوں گا…وہ شیرتھا…اللہ کاشیر…اسے نماز تہجدسے عشق تھا…اورامت مسلمہ کی مظلومیت پراس کی آنکھیں پُرنم ہو جاتیں … جامعہ کی لائبریری(کتب خانہ ) آج بھی وہ مناظریادکرتی ہوگی…جب وہاں پرتنہائی ملتے ہی وہ رونے لگ جاتا…ایک باراسی دوران میں پہنچاتودیکھا …اس کی آنکھیں سرخ انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں…وہ سسک رہاتھا…پوچھاتوکہنے لگا:یار!ہم یہاں ہیں اور  امت مسلمہ کتنی مظلومیت میں ہے…وہ شہادت کامتلاشی تھا…ایک بارکافی دیروہ شہادت کاتذکرہ کرتارہا…میں نے سوچاشایداسے حوروں سے ملنے کی جلدی ہے…تومیں نے بھی کہہ دیا…انشاء اللہ!آپ کی حوریں بھی آپ کومل جائیں گی…وہ یہ سن کرخاموش ہوگیا…اورکسی سوچ میں گُم ہوکرسامنے فضامیں گھورنے لگا…اس کے لب ہلے تومیں اپنے کہے پربہت شرمندہ ہوا…وہ کہنے لگا:مجھے حورنہیں ،اپنے رب کادیدارچاہیے…اللہ کادیدار…سب سے عظیم نعمت…یہ کہتے ہوئے وہ آب دیدہ ہوچکاتھا…وہ فقط دیوانہ نہیں تھا…بل کہ دوسروں کی بات مان لیتایاپھراپنی بات منواکرچھوڑتا…وہ زمانہ طالب علمی میں اپنے گھرایک عجیب ضدکرنے لگا…اُس نے بتایا …کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا…امی جان!کہاں کہاں سے لوگوں کے بیٹے آتے ہیں اور جاکرشہادت کا تاج پہن لیتے ہیں…آخرمیں کب جاؤں گا…مجھے کب اجازت ملے گی…؟بات آگے چلی…مُفتی صاحب نے انہیں بُلوایا…اُن کو سامنے بھی وہی بات کی…اور پھر چھٹیوںمیں عملی میدان بھیجنے کی شرط پردوبارہ پڑھائی میں جُت گیا…جامعہ کے طالب علم بھائی عصمت اللہ ؒکی محاذِکشمیر پرشہادت اورافضل گوروؒ کی قربانی کے بعدوہ عملی میدان میںاُترا… امیر کی اجازت سے وہ پڑھائی کا سلسہ موقوف کرچُکا تھا…مجھے بتانے لگا کہ اب تو انشاء اللہ مقبوضہ کشمیر کے جنگلوں میں جاکرجہاد کے ساتھ اپنی پڑھائی کی تکمیل کروں گا…اس عرصہ میں کچھ مہربان دوست اسے طعنے دینے لگے…وہ کچھ پریشان سا ہوگیا…ایک دن کہنے لگا: ’’یار میں نے کسی عظیم مقصدکی خاطراپنے امیرکی اجازت سے پڑھائی کیا چھوڑی یہ لوگ مجھے تنگ کرنے لگے ہیں…میں نے کوئی گناہ یاجرم تو نہیں کیاہے…لوگ توپڑھائی چھوڑکرکاروباراوردنیاداری میںبھی پڑجاتے ہیں…انہیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا…کیاآج جہاد جیسا اہم فریضہ ہماری نظروں میں اتناغیراہم ہوچکاہے…ہرشخص اعتراض کررہاہے…‘‘کچھ ہی عرصہ گزرا کہ امیر کے حکم پر وہ ایک بار پھراپنے تعلیمی سلسلے میں جڑگیا… وفاق المدارس کے ایک امتحان کو دوران اپنا پرچہ بہت جلد مکمل کر لیا…کہنے لگا پرچہ جمع کرانے کا وقت ابھی باقی تھا…پرچے کے آخر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر عربی میں ایک مقالہـ(مضمون) لکھ دیا…وہ ایک درد ،کُڑھن اور مشن رکھتا تھا…یہی وجہ تھی کہ وہ خالص نظریاتی مجاہد تھا…اوروہ جہادی کاموں میں ہر قسمی قربانی کے لیے تیار ہوجاتا…ایک بار عیدالاضحی کے موقع پرہم دونوں اس کے محلہ میں ہی قربانی کی کھالیں جمع کر رہے تھے…نمازِ ظہر کو بعد ایک گھر سے کھال وصول کرنے گئے…اُن لوگوں نے کھال دینے سے پہلے ایک شرط رکھ دی…کہ ہمارے گھر سے جانور کی اوجھڑی اور آلائشیں وغیرہ اُٹھا کرباہر دور پھینک آؤ…مجھے بھی یہ شرط گراں نظر آنے لگی…اور وہ تو اسی وقت گھر سے نئے کپڑے پہنے اور سر پر عمامہ سجائے آیا تھا…مگر وہ آگے بڑھا اور مجھے کہا…چلویار خیرہے کوئی بات نہیں…یہ کام بھی کر لیتے ہیں…مجھے اس کی یہ ادا حیران کر گئی…واقعی وہ قربانی کاسچا جذبہ رکھتا تھا…یہ اس اللہ کے شیر کی زندگی کی چند جھلکیاں ہیں…اسے ایک بار میں نے کہا تھا کہ آپ تحریر بھی لکھا کرو…اس کا جواب تھا کہ میں شہید ہو جاؤں گا اور آپ لکھو گے…آہ!آٹھ سال پہلے کی یادوںکے دریچے کا یہ چرکابہت ہی کرب ناک واقع ہو رہا ہے…وہ تو اپنی یادوں کا ایک آلاؤدہکا گیا ہے…وہ چلا گیا …جہادِ کشمیر …تجھے مبارک ہو…عصمت اللہ شہید ؒکا لہوتیرے محاذ پر گرا…وہ درجہ خامسہ کے طالب علم تھے…وہ بھی ایک عظیم مجاہد کے بھانجے… اُن کے مبارک لہوسے جہادِ کشمیر…تُو اپنے جوبن پر آچکا تھا…اور اب …امیر المجاہدین کے بھانجے کا لہوگرا ہے…ایک مضبوط عالمِ دین کاخُون…قافلہ جہادکے ایک پُرجوش داعی اورخطیب کالاشہ…ایک حافظِ قرآن کی قربانی… ایک اللہ کے شیر کی شہادت…جہادِ کشمیر کو نئے دور کا آغاز مبارک ہو…صد مبارک!!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online