Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

غزہ پر اسرائیلی جارحیت طاقت کا توازن اوربلیک میلنگ! (محمد فیض اللہ جاوید)

غزہ پر اسرائیلی جارحیت طاقت کا توازن اوربلیک میلنگ!

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 621)

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صہیونی دشمن نے اپنی روایتی دشمنی اور جنگی جنون کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ پر کئی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے زمینی اور فضائی دونوں افواج کی طرف سے کیے گئے۔پچھلے دنوں کی نسبت تازہ صہیونی جارحیت شدید اور زیادہ پرخطر ثابت ہوئی ہے۔ یہ جارحیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی دھڑے بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور تحریک فتح مصر کی زیرنگرانی ایک مصالحتی معاہدے پر متفق ہوئی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد فلسطینی  عوامی، سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسلحہ اور مسلح جدو جہد بھی زیربحث ہے۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے غزہ کی پٹی پر طاقت کا استعمال کررہی ہے۔دو روز قبل غزہ کی پٹی میں چار مقامات پر اسرائیلی جنگی طیاروں اور ٹینکوں نے بم باری کی۔ جمعرات کے روز کی گئی ان کارروائیوں میں تین فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فلسطین کی میدانی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کے ہر راکٹ کے جواب میں ڈیٹرینس ظاہر کرنے کی پالیسی پر نہیں بلکہ فلسطینی مزاحمتی قوتوں کو بلیک میل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی اور محصورین غزہ کو دی جانے والی اجتماعی سزا بھی صہیونی ریاست کی فلسطینی قوم بالخصوص اہالیان غزہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔

غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے بیت حانون پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی ایک رصد گاہ پر بم باری کے دو گھنٹے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے دیگر مقامات پر بھی فضائی اور زمینی حملے کیے۔ جمعرات کو صہیونی فوج نے مجموعی طور پرچار مقامات پر نشانہ بنایا۔دفاعی امور کے ماہر ہشام المغاری نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صہیونی ریاست یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ہر راکٹ حملے کے جواب میں زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ فلسطینیوں کو نشانہ بنائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی طرف سے ڈیٹرنس کے استعمال کے باوجود  میدانی صورت حال میں زیادہ شدت اور کشیدگی کا امکان نہیں۔ فی الوقت دونوں فریقین اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتیں محاذ جنگ پر اپنی موجودگی کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی  ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی صورت حال میں کشیدگی پیدا کرکے فلسطینی مصالحت کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ یہ فلسطینی سیاسی قیادت کے لیے بھی ایک آزمائش ہے۔ فلسطینی قوم کی نمائندہ قوتوں کوکشیدگی کم کرنے کے سد ذرائع کے ساتھ متفقہ موقف اپنانا ہوگا۔

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ریاست کی تازہ جارحیت کی ذمہ داری صہیونی فوج پرعائد کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والی رپورٹس میں غزہ میں سرنگ پر حملے کے رد عمل میں اسلامی جہاد نے 10 سے12 راکٹ سرائیل پر فائر کیے ہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ اسلامی جہاد کی طرف سے ردعمل ختم ہوگیا ہے۔

تجزیہ نگار المغاری کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست گذشتہ چار برسوں کے دوران طاقت کے توازن کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے، کیونکہ سنہ 2006ء کی لبنان جنگ اور سنہ 2008ء اور 2014ء کی غزہ پر مسلط کی گئی جنگوں کے دوران صہیونی ریاست کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

المغاری نے تمام فلسطینی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ حکمت اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین اور اسرائیل دونوں کی موجودہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات کریں۔

عسکری تجزیہ نگار بریگیڈیئر یوسف شرقاوی کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج غزہ کی پٹی پر آگ برسا کر فلسطینی مزاحمتی قوتوں کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں پر اپنا خوف اور رعب بٹھا کر انہیں مفت کی جنگ بندی کو مزید طول دینے پر مجبور کرسکے۔مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سرنگ میں ایک درجن مجاہدین کی شہادت کے بعد صہیونی ریاست نے ہرقتل کا بدلہ پوری قوت سے لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔فلسطین کی آزادی پسند قوتوں کومرعوب کرنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتا رہا ہے۔

٭…٭…٭

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے شعبہ اطلاعات کے سربراہ  ریاض الاشقر نے بتایا کہ عمرقید کی سزائیں پانے والے فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں اور فوجیوں پر سنگ باری کرنے،  یہودیوں کو قتل اور زخمی کرنے کے الزامات عاید کیے گئے اور انہی الزامات کے تحت انہیں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ عمر قید کی سزائیں پانے والے سات فلسطینیوں کے بعد صہیونی ریاست کی جیلوں میں عمر قید کے سز یافتہ قیدیوں کی تعداد 509 ہوگئی ہے۔ ان میں دسیوں اسیران سنہ 1993ء میں اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطینی ایل او کے درمیان طے پائے اوسلو سمجھوتے سے پہلے سے پابند سلاسل ہیں۔

نومبر میں عمر قید کی سزاؤں کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں مین 23 سالہ نصر فیصل محمد بدوی اور اس کا بھائی 33 سالہ اکرم شامل ہیں۔ انہیں ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کے الزام میں عمر قید اور 60 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

زخمی فلسطینی 23 سالہ مالک احمد حامد کو دو لاکھ 80 ہزار شیکل جرمانہ، دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جنین کے43 سالہ اسیر محمد احمد کامل زکارنہ دو بار عمرقید اور 40 سال اضافی قید اور 3 لاکھ شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

تین فلسطینی خالد محمد مخامرہ، 22  اور 23 سالہ یونس عایش زین کو چار بار عمر قید، 60 سال اضافی قید اوعر 52 لاکھ 40 ہزار شیکل جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں۔

اسرائیلی حکومت کی یہ کھلے عام بدمعاشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اب ناقابل برداشت حد تک جا چکی ہے۔ لیکن عالمی برادری اسے پھر بھی پال پوس کر مسلسل بڑا کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے قاتلوں کو یوں کھلے عالم انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے دیکھ کر کسی مسلمان حکمران کا دل بھی نہیں دو لفظ نہیں کہتا۔ کاش امت مسلمہ کو ایسا حکمران نصیب ہو جائے جو عالم اسلام کی تڑپ رکھے۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online