Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

تذکرہ ٔاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم (حنظلہ ضمیر)

تذکرہ ٔاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حنظلہ ضمیر (شمارہ 621)

الفاظ حروف کے مجموعہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کم کردیا جائے تو باقی حروف اپنے معنی کھودیتے ہیں، لیکن لفظ ’’محمد‘‘ کا ہر حرف بامقصد و بامعنی ہے…

اللہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور زندگی کی قسم کھانا، مستجاب الدعوات ہونا، پتھروں و حیوانوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اْنگلیوں سے پانی کا پھوٹ نکلنا، رعب سے مدد دیا جانا، بادل کا سایہ ہونا، کنکریوں کا تسبیح پڑھنا، ایسے علوم کا عطا ہونا جن کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دارِ آخرت میں ایسے بڑے درجے اور نیکیاں ہیں جو ماورائے عقل ہیں

عام طور پر نام کی صرف اس قدر ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ چند چیزوں میں باہم امتیاز قائم رہے، لیکن نام کی صحیح اور حقیقی غرض یہ نہیں۔ اسم کو اپنے مسمیٰ کی صفات، خواص اور حالات کا آئینہ ہونا چاہیے۔ افراد کے نام رکھنے میں تو اس کا لحاظ کم ہی رکھا جاتا ہے، لیکن ً انواع و اجناس کے نام عموماً اس مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ مثلاً انسان، مسلم، قوم ۔ جبکہ شاذو نادر طریقے پر افراد و اشخاص کے ناموں میں بھی اس کا لحاظ کرلیا جاتا ہے جیسے ’’مسیح‘‘ یہ اپنے مسمیٰ کے اوصاف اور خواص کو بیان کرتا ہے۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی ’’محمد‘‘ بھی اسی قبیل سے ہے، جو اپنے مسمیٰ کی صفات ، خواص اور حالات کا مکمل عکّاس ہے۔ ذیل میںاس کی ادنیٰ سی جھلک پیش کی جاتی ہے۔

  یوں تو لفظ’’محمد‘‘اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ لیکن اسم مفعول کبھی مبالغہ کے معنی بھی ادا کرتا ہے جیسا کہ ملا علی قاریؒ لفظ ’’محمد‘‘ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

’’الذی حمد مرۃ بعد مرۃ والذی حمد کرۃ بعد کرۃ۔‘‘ ’’محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے اور بے شمار حمد کی جائے۔‘‘ نیزصاحبِ مفردات ’’محمد‘‘ کے معنی لکھتے ہیں ’’الذی اجمعت فیہ الخصال المحمودۃ‘‘ یعنی مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لفظ ’’محمد‘‘ کے معنی مجموعۂ خوبی کے ہیں۔ لفظ ’’محمد‘‘ کا مادہ ’ح۔م۔د‘ ہے یعنی ’حمد‘ جس کے معنی تعریف کے ہیں اور یہی ’’احمد‘‘ کا مادہ بھی ہے۔ البتہ دونوں کے مفہوم میں واضح فرق کچھ یوں ہے کہ ’’محمد‘‘ وہ ہے جس کی تعریف و توصیف جملہ اہل ارض و سماء نے سب سے بڑھ کر کی ہو اور ’’احمد‘‘ وہ ہے جس نے رب السموٰت والارض کی حمد و ثناء جملہ اہل ارض و سماء سے بڑھ کر کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِسم مبارک ’’محمد‘‘ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ’’محمود‘‘ سے مشتق ہے، جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر ہے ؎

وشق لہ من اِسمہ لیجلہ

فذوالعرش محمود وھٰذا محمد

ترجمہ: ’’اور اللہ نے ان کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ان کا نام اپنے نام سے مشتق کیا۔ یعنی رب العرش محمود ہے اور آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں‘‘۔ الفاظ حروف کے مجموعے سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کم کردیا جائے تو باقی حروف اپنے معنی کھودیتے ہیں، لیکن لفظ ’’محمد‘‘ کا ہر حرف بامقصد و بامعنی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

1) (اگر لفظ ’’محمد‘‘ میں سے پہلا حرف ’م‘ کم کردیا جائے تو باقی ’حمد‘ رہ جاتا ہے جس کے معنی مدد کرنے والا یا ’تعریف‘ رہ جاتے ہیں۔

(2)۔ ابتدائی میم (م) کے بعد اگر ’ح‘ کو بھی حذف کردیں تو باقی رہ جاتا ہے ’مد‘ جس کا مطلب ہے دراز اور بلند، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔

(3)۔ اگر دوسری میم کو بھی ہٹا دیا جائے تو صرف ’د‘ رہ جاتا ہے جس کا مفہوم ہے دلالت کرنے والا، یعنی اسم ’محمد‘ اللہ عزّوجلّ کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔

(4) الغرض محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’حمد‘ سے خاص نسبت ہے، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، احمد صلی اللہ علیہ وسلم، حامد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمود صلی اللہ علیہ وسلم میں تعریف و توصیف کا پہلو واضح طور پر نمایاں ہے۔ اسی طرح اْمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام حمادون یا حمادین ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لواء (جھنڈے) کا نام ’لواء الحمد‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’سورۃ الحمد‘ عطا فرمائی اور کھانے، پینے و سفر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حمد و ثناء پڑھنے کا حکم ملا۔

علماء و فقہاء کے نزدیک اسم’’محمد‘‘ کا مفہوم:

(1)۔ حافظ ابن قیمؒ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح میں یوں رقمطراز ہیں کہ ’’محمد‘‘ وہ ہے جس میں بکثرت تعریف کے اوصاف پائے جائیں۔ ’’محمد‘‘ محمود سے زیادہ بلیغ ہے۔ ’’محمد‘‘ اس کو کہتے ہیں جس کی اتنی تعریف کی جائے، جتنی کسی اور بشر کی نہ کی جائے۔ اسی لیے تو رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارکہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ ہی ذکر کیا گیا ہے۔

(2) امام راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں: لفظ ’’محمد‘‘ کی صحیح معنوں میں تعریف یوں کی جائے گی… وہ ذات جس کی حمد و ثناء کثرت کے ساتھ اور بار بار کی جائے اور جس کی تعریف کبھی ختم نہ ہو۔

(3) علامہ نوویؒ نے شرح مسلم میں ابن فارس وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسم مبارک بِلاشبہ الہام رحمانی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو الہام فرمایا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نام رکھا گیا‘‘۔

(4) قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ اس شخص کی بزرگی اور قدر و تعریف کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں بہترین خصوصیات اس طرح جمع ہیں کہ جن کے کمال کی کوئی انتہا نہیں اور احاطہ گفتگو میں نہیں آسکتیں اور جو کوشش اور سبب سے پیدا نہیں کی جاسکتیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی خاص کسی کو عطا فرمادے۔ مثلاً فضیلت، نبوت، رسالت، خلّت، محبت، برگزیدگی، سیر ملکوت دیدار قرب، نزدیکی، وحی، شفاعت، وسیلہ، فضیلت و درجہ بلند (مقام محمود)براق، معراج، تمام دْنیا کی طرف بعثت، انبیاء کی اِمامت، انبیاء اور ان کی اْمتوں پر شاہد، لواء الحمد کے حقدار، سید اولاد آدم، رحمۃ للعالمین، صاحب کوثر، گزشتہ و سابقہ اْمور سے معافی، شق صدر، ذکر کا بلند ہونا، فتح کی عزت دینا، سکینہ کا اْتارنا، ملائکہ کی تائید ہونا، کتاب و حکمت کا ملنا، اْمت کو پاک کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا، فرشتوں کا ان پر درود پڑھنا، لوگوں میں فیصلہ کرنا، اللہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور زندگی کی قسم کھانا، مستجاب الدعوات ہونا، پتھروں و حیوانوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اْنگلیوں سے پانی کا پھوٹ نکلنا، رعب سے مدد دیا جانا، بادل کا سایہ ہونا، کنکریوں کا تسبیح پڑھنا، ایسے علوم کا عطا ہونا جن کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دارِ آخرت میں ایسے بڑے درجے اور نیکیاں ہیں جو ماورائے عقل ہیں۔(جہاں تک ہماری انتہائی محدود عقل نہیں پہنچ سکتی)

قرآن میں اسم ’’محمد‘‘:

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کا نام نامی اسم گرامی ’’محمد‘‘ چار مرتبہ ذکر کیا ہے۔

(1)وما محمد الا رسول (آل عمران: 144)(2)ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن الرسول اللہ و خاتم النبیین(الاحزاب:40) (3)والذین اٰمنوا وعملوا الصلحٰت واٰمنوا بما نزل علٰی محمد وہو الحق من ربہم کفر عنہم سیاٰتہم واصلح بالہم O (محمد:2)(4) محمد رسول اللہ ط… ( الفتح:92)

احادیث مبارکہ میں اسم ’’محمد‘‘:

 (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’زمین میں میرا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اسی طرح توریت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اِنجیل میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے‘‘۔

(2) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے ابوذر! انبیاء علیھم السلام میں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (ترمذی)۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online