Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

طلبۂ علومِ دینیہ کا زادِ راہ اور سرمایہ (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

طلبۂ علومِ دینیہ کا زادِ راہ اور سرمایہ

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 626)

ہمارے اسلاف حضرات طلبہ کرام سے فرمایا کرتے تھے کہ اس سفر میں ہمارا زادِ راہ اور ہمارا سرمایہ اور جمع پونجی تین چیزیں ہیں۔ تقویٰ، یکسوئی اور وقت۔

سب سے بڑا سرمایہ اور خزانہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کی ضرورت اور اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ہم نے مدارس میں آکر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارا دنیوی مستقبل بظاہر تاریک ہے۔ ہم جو محنت مدارس میں آکر کرتے ہیں صبح تا دوپہر، ظہر تا عصر، مغرب تا نصف اللیل پڑھنا اور گھر بار چھوڑ کر پڑھنا اگر اتنی یا اس کی نصف محنت ہم کالجوں اور یونیورسٹیوں کی پڑھائی میں کرتے تو لاکھوں کی تنخواہیں، بڑے بڑے عہدے، گاڑیاں اور کوٹھیاں وغیرہ کوئی بھی چیز مشکل نہیں تھی، لیکن ہم نے ان سب کو لات ماردی۔ آٹھ، دس سال پڑھ کر ہمیں جو سند ملے گی اس کی دنیوی مارکیٹوں میں کوئی ’’ویلیو‘‘ نہیں ہوگی۔ پھر ہم نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ تاکہ ہم آخرت کی بہترین کمائی کرسکیں۔ دنیا تو گئی ہے ہمارے ہاتھ سے، اگر آخرت بھی گئی تو خسران مبین میں کیا شک ہے۔ ’’خسرالدنیا‘‘ تو ہم پہلے ہی سے ہیں اگر ’’والآخرۃ‘‘ بھی ہوگئے تو پھر ’’ذلک ہوالخسران المبین‘‘ ہی ہوجائے گا اور کیا ہوگا؟ اس لیے میرے بھائیو! تقویٰ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ بہت ہی اہم۔ اس سے علم وہبی اور علم لدنّی حاصل ہوتا ہے جو کبھی بھی صرف محنت اور مطالعے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس سے بیٹھے بیٹھے ایسے ایسے نکتے اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں ڈال دیتے ہیں جو راتوں کے مطالعے سے اور کتابوں کے کھنگالنے سے ہاتھ نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔(آمین)

دوسرے نمبر پر طلبہ کرام کے لیے یکسوئی ہماری بڑی قیمتی متاع ہے۔ غیرضروری تعلقات کو ختم کرکے تن، من، دھن کے ساتھ پڑھائی کی طرف متوجہ ہوجانا، علم کے لیے بہت ضروری اور ہمارے اکابر کا شیوہ ہے۔ امام ابویوسفؒ فرماتے ہیں ’’العلم لایعطیک بعضہ حتیٰ تعطیہ کلک‘‘ کہ علم اس وقت تک آپ کو اپنا کچھ حصہ بھی نہیں دے گا جب تک کہ آپ اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے سپرد نہ کریں۔ سوچئے تو سہی یہ وہ شخص کہہ رہا ہے جو اپنے استاد کے ساتھ ان کی حیات تک سائے کی طرح رہا۔

جس نے تقریباً انتیس سال تک فجر کی نماز اپنے استاد کی مسجد میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھی۔ یعنی سپیدۂ سحر طلوع ہونے سے پہلے یا طلوع ہوتے ہی یہ اپنا کشکول لے کر آستانہ نعمانی پر حاضر ہوجاتے اور چشمۂ صافی سے سیرابی حاصل کرتے تھے۔ ایسے حاضر باش جس نے اپنے جگر گوشے کی تجہیز و تکفین تک کو چھوڑ دیا۔ یہ ایسے شخص کا قول ہے جو نعمان جیسے استاذ الفقہاء سے پڑھتا رہا۔ ہم چاہتے ہیں آٹھ سال میں صرف، نحو، معانی، بیان، بدیع، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، منطق، فلسفہ، فلکیات اور میراث سب کچھ پڑھ لیں اور پڑھیں بھی اس طرح کہ تعلقات کی وسعت پر کوئی زد نہ پڑے بلکہ تعلقات وسیع سے وسیع تر ہوتے جائیں اور پھر چاہتے ہیں کہ علم بھی آئے۔

ایں خیال است و محال است و جنون

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب ؒ لکھتے ہیں:

’’ایک دفعہ میرا نیا جوتا اٹھ گیا تھا، تو جہاں تک یاد ہے چھ ماہ تک دوسرا جوتا خریدنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اس لیے کہ جمعہ بھی مدرسہ قدیم میں ہوتا تھا، اور دارالطلبہ بھی اس وقت تک نہیں بنا تھا، اور بیت الخلاء میں بوسیدہ جوتے پڑے رہا کرتے تھے۔ اس لئے مجھے چھ ماہ تک باہر نکلنے کی نوبت ہی نہیں آئی‘‘۔ اسی سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات نے اپنی ضروریات، تعلقات وغیرہ کو کس حد تک کم بلکہ تقریباً ختم کردیا تھا۔ اسے کہتے ہیں علم کو اوڑھنا، بچھونا بنانا۔ سیر و تفریح تو کیا وہاں تو ضروریات تک کے ساتھ یہ معاملہ تھا۔ اسی سے آپ اندازہ کر لیں کہ ہمارے اکابر علم کے لئے یکسوئی کو کیا قیمت دیتے تھے اور اسے حاصل کرنے کے لئے کیا کیا قربانیاں دیتے تھے۔

قاری صدیق احمد باندویؒ صاحب ’’آداب المتعلمین‘‘ میں لکھتے ہیں ’’امام ثعلبؒ فرماتے ہیں کہ پچاس برس سے برابر میں ابراہیم حربیؒ کو اپنی مجلس میں حاضر پاتا ہوں کبھی انہوں نے ناغہ نہیں کیا‘‘۔

نیز وہ مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ کے حالات میں صاحب دعوت و عزیمت لکھتے ہیں کہ اپنے وطن سے سفر کرکے پڑھنے کے لیے گئے تو زمانۂ طالب علمی میں جو خطوط پہنچتے تھے ان کوآپ کسی خریطہ (گھڑے) میں ڈالتے جاتے تھے اور اس خیال سے نہ پڑھتے تھے کہ طبیعت میں انتشار اور تشویش پیدا ہوگی۔

بہرحال ’’یکسوئی‘‘ ایک حقیقی طالب علم کے لیے بہت بڑا سرمایہ اور خزانہ ہے۔ ہمارے بزرگوں کے ہاں یکسوئی کی بہت بڑی قیمت تھی اور وہ اس کے لیے بڑے بڑے مجاہدے کیا کرتے تھے۔

تیسری چیز طلبۂ علوم دینیہ کے سرمائے میں سے ’’وقت‘‘ ہے اور وقت کے بارے میں کہا جاتا ہے ’’الوقت ہو الحیاۃ‘‘ یعنی وقت ہی تو زندگی ہے۔ وقت ایک گراں قدر عظیم سرمایہ اور بہترین پونجی ہے۔

قرآنِ عظیم اول تا آخر اسی عظیم سرمایہ کی قدر کی تلقین اور اس کا صحیح مصروف متعین کرتا ہے۔ احادیث اسی نعمتِ عظمیٰ کی قدر کرنے پر جا بجا غافل انسان کو متنبہ کرتی ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس کہ انسان جس بے دردی اور لاپرواہی کے ساتھ اس نعمت کو ضائع کرتا ہے اپنی کسی اور چیز کو نہیں۔

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس قدر بھی کامیاب و کامران ہستیاں گزری ہیں ان کی کامیابی و ناموری کا راز صرف اور صرف وقت اور اس کی صحیح معنوں میں قدر ہے۔

بلاشبہ وقت کی مثال زمین کی سی ہے جس میں رات دن کی پروا کئے بغیر پوری کوشش صرف کردی جائے تو پھل دیتی ہے اور اگر سستی کاہلی اور غفلت برتی جائے تو خاردار جھاڑیاں اگاتی ہے۔

وقت ہمارے سامنے ایک وفادار دوست کے بھیس میں ڈھیروں تحائف لئے ظاہر ہوتا ہے لیکن انسان کی بے قدری و بے حسی دیکھ کر چپکے سے سارے تحائف سمیٹتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روٹھ کر رخصت ہوجاتا ہے پھر انسان بزبانِ شاعر وقت سے استفادہ نہ کرنے پر محرومی کا رونا یوں روتا ہے:

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک

نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں میں اس بات کو بہت معیوب سمجھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی لایعنی زندگی بسر کرے، نہ وہ دنیا کے لئے کوئی عمل کرے نہ آخرت کے لئے۔

حضرت حکیم الامت اپنا دور یوں بیان کرتے ہیں:

فرصتِ لمحہ نعمت مغتنم ہے، ضائع کوئی لمحہ نہ ہونا چاہیے ساری عمر تحصیل کمال یا تکمیل ہی میں بسر ہونا چاہیے۔

ایک قدر دانِ وقت نے فرمایا:

وقت خام مصالحے کی مانند ہے جس سے تم جو چاہو بنا سکتے ہو، گزشتہ زمانے کے متعلق افسوس اور حسرت مت کرو کہ یہ بے فائدہ ہے آئندہ زمانے کے خواب مت دیکھو کہ یہ موہوم ہے تمہارے اختیار میں موجودہ وقت ہے اس کی قدر کرلو!

حقیقت یہ ہے کہ وقت کی قدر اور زندگی کی اہمیت کا احساس من جانب اللہ انعامِ عظیم ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا بس اللہ جسے چاہیں دے دیں۔

یقینا باسعادت اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جنہیں ہمہ وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ دریائے وقت کے ایک ایک قطرہ کو کہاں اور کیسے صرف کریں، وقت کا مؤرخ ان کی تعریف کے لئے رطب اللسان رہے گا تاریخ ان پر فخر کرتی رہے گی اور دنیا انہیں ہمیشہ یاد کرتی رہے گی۔

 ہمارے اکابر کے ہاں وقت کی بہت بڑی قیمت تھی اور وہ اپنی زندگی کے سیکنڈوں اور منٹوں کو تول، تول کر خرچ کیا کرے تھے۔ اس باب میں بھی ان کے سینکڑوں واقعات ہیں اور اس پر کئی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ ہمارے اکابر وقت کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ کوشش کرتے تھے کہ کوئی وقت فارغ نہ گزر جائے۔

حافظ ابن حجر ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ قلم کا قط بناتے تھے تو اسی اثناء میں ذکر کرتے تھے تاکہ یہ وقت ضائع نہ ہو۔

حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ بیت الخلاء میں قضائے حاجت کے وقت بیت الخلاء کے لوٹے کو صاف کیا کرتے تھے کہ اتنی دیر ان سے فارغ بیٹھا نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ اور اس طرح کے اور بھی سینکڑوں واقعات ہیں جو وقت کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں۔

 ہم نے مدرسہ آکر بہت سی دینی قربانیاں بھی دی ہیں۔ کیا والدین کو محبت بھر ی نگاہ سے دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب نہیں ملتا؟ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، بیمار پرسی، جنازوں میں شرکت وغیرہ وغیرہ کیا یہ سب ثواب کے کام نہیں ہیں؟ اور کیا ہم نے مدرسہ آکر ان تمام کاموں کی قربانی نہیں دی؟ جب اتنا کچھ ہم نے کیا، تو ہم اپنے سرمایہ (تقویٰ، یکسوئی اور وقت) کو لٹتے ہوئے کیسے برداشت کریں؟؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online