Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

ماہنامہ’’ مسلمان بچے‘‘ کا ’’ خطوط نمبر‘‘ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

ماہنامہ’’ مسلمان بچے‘‘ کا ’’ خطوط نمبر‘‘

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 626)

ہمیں نہیں معلوم وہ ہماری کون تھیں۔ کوئی رشتے دار بھی تھیں یا نہیں؟ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم ۔ہم انہیں حجیانی نانی کہتے تھے۔ سال میں ایک آدھ بار وہ ہمارے گھر آتی تھیں۔ وہ جب بھی آتیں ہم بچوں کی عید ہو جا تی ۔ابھی رات ہو ئی نہیں کہ ہم ان کے پیچھے پڑ گئے ۔  حجیانی نانی، کہانی سنائو۔ اور وہ کہانی سناتیں ۔ وہ بالکل پڑھی لکھی نہیں تھیں ۔ مگر انہیں دنیا بھر کی کہانیاں یاد تھیں۔پریوں ، جنوں اور جادوگروں کی کہانیوں سے لے کر انبیاء کے سچے واقعات اور دینی قصے کہانیاں ۔ اور پھر ان کے سنانے کا انداز ایساکہ نیند سے آنکھیں بند ہو تی جا رہی ہیں مگر ہنکارہ  دیئے جا رہے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں سوتا سمجھ کر کہانی سنانا بند نہ کردیں ۔ ان کہانیوں میں ہی ہم نے آنکھ کھولی ۔پھر اس کے بعد یہ سیٹ ’’امی جان‘‘ نے سنبھال لی۔انبیاء کرام کے قصے، صحابہ کرام کے قصے، مجاہدین اسلام کے قصے اور اس جیسے دوسرے قصے۔انہیں سنانے کا فن آتا تھا۔اس لئے وہ قصے آج بھی یاد ہیں۔ان کہانیوں سے ہی ہم نے اتنا سیکھا کہ اب تک وہ ہمارے کام آ رہا ہے ۔ اخلاق، آداب، میل جول اور رہن سہن کا سلیقہ ہمیں انہی کہانیوں سے آیا۔

اس کے بعد ہم پڑھنے کے قابل ہوئے تو بچوں کے رسالوں کا دور آگیا ۔ کئی رسالے تھے بچوں کے ۔رسالہ پھول سے لے کر  ہو نہار  اور  نو نہال  تک اور بھی بچوں کے کتنے ہی رسالے تھے ۔ مگر  تعلیم و تر بیت  کی بات ہی اور تھی ۔اس کے ایڈیٹر تھے سعید لخت۔ نام تو ان کا سعید احمد خاں تھا مگر سعید لخت کے قلمی نام سے ہی جانے جاتے تھے ۔ یوں توتعلیم و تر بیت کے اور بھی کئی ایڈیٹر ہوئے۔ مگر چونکہ شروع سے ہی سعید لخت اس کے ایڈیٹر تھے اور زیادہ عرصے وہی اسے ایڈٹ کرتے رہے اس لئے بچے انہی کا نام جانتے تھے ۔اور پھر بچے ان کا نام اس لئے بھی جانتے تھے کہ وہ صرف ایڈیٹر ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے بچوں کے لئے ایسی چٹ پٹی کہانیاں بھی لکھیں کہ بچے اس انتظار میں رہتے تھے کہ سعید لخت کی کوئی کہانی رسالے میں کب چھپے گی۔یا وہ کہانی کتابی شکل میں کب سامنے آئے گی ۔سعید لخت کی کہانیاں صرف کہانیاں ہی نہیں ہوتیں بلکہ ان میں زبان کا چٹخارہ بھی ہو تا ہے ۔ ان کی زبان میںوہ پرانی کہاوتیں اور محاورے بھی ہوتے ہیں جن سے بچے لطف بھی لیتے ہیں اور سبق بھی حا صل کرتے ہیں ۔ یہ سبق پندونصائح کی صورت میں نہیں ہو تا بلکہ ایسے ڈھکے چھپے انداز میں ہو تا ہے کہ کہانی کا چٹ پٹا پن بھی بر قرار رہتا ہے اور سبق بھی مل جا تا ہے۔

پھر کچھ اور بڑے ہوئے تو اس کی جگہ تاریخی کتابوں ، ناولوں اور کہانیوں نے لے لی۔ اگرچہ اس میں وقت کا ضیاع بہت کیا مگر بہت کچھ حاصل بھی کیا۔ پھر ایک دن خود بھی قلم اٹھایا اور ایک کہانی لکھ ڈالی اور اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔

بچوں کا ادب تخلیق کرنا،ا ور اس میں کام کرنا ہمیشہ اہم مگر نازک مسئلہ رہا ہے۔ کیونکہ اس کے لیے جہاں بچوں کی نفسیات، رجحانات، اور معاشرت وماحول کا دقیق علم درکار ہے، وہیں ان تمام چیزوں کو بچوں کی سطح پر اتر کر بیان کرنے کا، اور سمجھانے کا فن بھی نہایت ضروری ہے، جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔

ہمارے دور میں سائنس وٹکنالوجی کی تیزرفتار ترقی گزرے زمانے کے سنگ ہائے میل کو بڑی تیزی کے ساتھ پیچھے چھوڑتی جارہی ہے۔ نسلوں کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سماجی ومعاشرتی اقدار وروایات تیزی سے اتھل پتھل ہورہی ہیں، دیہی سادہ زندگی پر شہری مگر پر تصنع زندگی غالب آتی جارہی ہے، اور اس سب کی وجہ سے سب سے پہلے اور براہ راست نوعمر نسل متأثر ہورہی ہے۔ چنانچہ محض بیس پچیس سال قبل کا بچوں کا ادب موجودہ نسل کے لیے فرسودہ اور پرانا ( آؤٹ ڈیٹیڈ) معلوم ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ دنیا بدل گئی ہے، ماحول بدل گیا ہے، اور اقدار وروایات تبدیل ہوگئی ہیں۔ بچے تو بچے ہیں، موجودہ جوان نسل میں بھی بیشتر لوگ ایسے ہیں جو کمپیوٹر کی اس دنیا میں اپنے بچوں کو ادب اور کتابوں سے روشناس کروانا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج ادب یا کوئی کہانی یا کوئی قصہ لکھنے والے مصنف کو اب ایک تیزطرار بولڈ الکٹرانک دور کی ایسی نسل کو مخاطب کرنا ہے جو وعظ ونصیحت سننے کے لیے تیار نہیں۔ اور جو ابتدا ہی سے تقابل کا رجحان اور صلاحیت رکھتی ہے۔ تقابلی رجحان کا مطلب ہے کہ جب انٹرٹینمنٹ کے لیے اس کے پاس ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر اور دیگر الکٹرانک دلچسپ آلات موجود ہیں تو وہ کتاب کا مطالعہ کیوں کرے۔ظاہر ہے اسے اب اگر لٹریچر پڑھانا ہے تو ان تمام چیزوں سے زیادہ دلچسپ اور زیادہ معلوماتی چیزیں اس کے سامنے پیش کرنا ہوں گی، تاکہ وہ اسے قبول کرسکے۔ ادب اطفال کا یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔

شہر لاہور کے ایک چھوٹے لیکن معروف پارک  میں وقفہ وقفہ سے کتابوں کی نمائش ہوا کرتی تھی۔ گزشتہ ایسی ہی ایک نمائش میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نمائش میں غیر معمولی چیزیہ نظر آئی کہ کتابیں تول کر فروخت ہورہی تھیں۔ ان میں اکثر کتابیں بچوں کے لٹریچر کے زمرے کی تھیں۔ تقریباً اکثر کتابیں انگلش اور اردو زبان میں تھیں۔بچوں کا اچھا رجحان دیکھ کر خوشی ہوئی۔

یاد رکھیں!زندگی میں بچپن کی بڑی اہمیت ہے۔بچپن ہی کے دوران بچے کا ۷۰ فیصد دماغ تشکیل پاتا ہے۔ اسی عمر کے دوران بچہ میں سیکھنے ، سمجھنے اور جانچنے کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ بچپن کا دوسرا مرحلہ  بھی بہت اہم ہوتا ہے۔اس میں ایک بچہ مختلف سوالات کرنے لگتا ہے، جس میں زیادہ سوالات اس کے اپنے وجود اور اطراف کی چیزوں کے بارے میں ہوتے ہیں۔ یہ عمر کیوں؟ اور کیسے؟ کی کھوج کرتی ہے۔ اس مختصر سی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بچپن کی صحیح تربیت کتنی ضروری ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، بعد ازاں اس کے ماں باپ اور ماحول یا تو اسے مومن بناتے ہیں یا مجوسی و یہودی۔ اس حدیث سے اس عمر کی اہمیت اور اس عمر کے دوران تربیت کی ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ہمارے ملک میں کتابیں پڑھنے کا شوق ویسے بھی کئی وجوہات کی بنا پر کم تھا، اور اب میڈیا کی بدلتی شکلوں نے کتابوں کے پڑھنے کے ذوق کو اور بھی کم کردیا ہے۔ بڑوں کا معاملہ ہی دگرگوں ہے۔ اس کے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ والدین کا رویہ یہ ہے کہ جن کتابوں کا تعلق نصاب یا اسکول یا مدرسہ سے ہے وہی کتابیں خریدیں گے۔ نصابی کتب سے ہٹ کر دیگر لٹریچر ابھی اکثر والدین کے نزدیک فضول خرچی ہے۔ اگر کوئی بچہ پڑھنے کا ذوق بھی رکھتا ہے تو والدین اس کی ہمت افزائی نہیں کرتے۔پھر یہی بچے الیکٹرانک میڈیا کی جانب بڑھتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔مختلف ٹی وی چینلوں کے ذریعہ یا تو ہندو کلچر، تاریخ و تہذیب دکھائی جاتی ہے یا پھر مغربی کلچر و تہذیب کی یلغار ہے اور یوں ہمارے بچے چھوٹا بھیم، Tom and Jerry، Ninjaboyاور ہنومان کو دیکھ کر اپنے عظیم ورثہ سے ناواقف ہورہے ہیں۔

اس لئے ضروری تھا کہ اس وقت خاص طور پر اسلامی نقطہ نظر سے بچوں کے لیے ایسی کہانیوں اور قصوں کی پیش بندی کی جائے۔ جو آج کی نئی نسل کی ضرورتوں اور دلچسپیوں کے مطابق بھی ہوں اور اس کے ذریعے بچوں میں مثبت اقدار بھی نشوونما پاسکیں۔اس کے ساتھ ساتھ ان کا اپنی مسلم تاریخ کے ساتھ رشتہ قائم رکھنا بھی نہایت ضروری تھا۔

ایک زمانے میں بچوں کے رسالوں میں ماہنامہ نور ، ھلال ،اچھا ساتھی ،پیام تعلیم ،جیسے رسالوں سے بچوں کی ذہن سازی کاکام بخوبی انجام دیا جاتا رہا ۔ان رسالوں کے ذریعہ بچوں کی دینی ،اخلاقی، ذہنی و علمی تر بیت کا کام بھی خوب ہوا، لیکن اب ان رسالوں کا زور مستقل ٹوٹتا جا رہا ہے، کیونکہ خانگی اداروں کے ذریعہ شائع کیے جا نے والے یہ رسالے گیٹ اپ ، ڈیزائننگ، اور عمدہ طباعت کے معاملے میں ان رسالوں کا مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں ،جو سرکاری اداروں کی سر پر ستی میں شائع ہو رہے ہیں ۔ماہنامہ امنگ ،سہ ماہی سائنس کی دنیا ، جیسے رسالے سیکولر رنگ اختیار کئے ہوئے ہیں ،ان رسالوں کے ذریعہ بچوں کو صرف معلومات اور تفریح فراہم کی جاتی ہے ،البتہ ان کی دینی و اخلاقی تر بیت کا کو ئی انتظام نہیں کیا جاتا۔کچھ سال قبل ہی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے بچوں کا رسالہ ماہنامہ ’’بچوں کی دنیا‘‘ شروع کیا گیا ۔تقریباً 70صفحات پر مشتمل اس رسالہ کا ہر صفحہ رنگوں سے مزین ہے۔آرٹ پیپر پر شائع ہو نے والا یہ رسالہ بے شمار دلچسپ اور رنگین تصاویر لئے ہوئے ہے۔ان سب کے باوجود اس کی قیمت محض 10روپے رکھی گئی ہے، لیکن مشمولات پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک منظم منصوبہ کا حصہ ہے ، جو بچوں میں لادینی افکار اور مغربی کلچر کو فروغ دینے کا کام کر رہا ہے۔

ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ خالصتاً اسلامی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے رسالے کی جو بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا ترجمان ہو۔ ضرورت تھی ایک ایسے رسالے کی جو بچوں کو اصلی اسلامی ہیروز سے واقف کروائے اور ان کی دینی نہج پر تربیت کرے۔ اس کے لئے حضرت امیر محترم مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ نے خصوصی شفقت فرمائی اور ایک رسالہ بنام’’مسلمان بچے‘‘ تقریباً دس بارہ سال قبل شروع فرمایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس رسالہ نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔ اس میں بچوں کے لئے دعائیں، نظمیں، خالصتاً دینی و اسلامی مضامین ، کہانیاں اور مجاہدین اسلام کے سچے واقعات سے مزین یہ رسالہ ہاتھوں ہاتھ قبول کیا گیا اور آج ملک کے طول و عرض میں یہ رسالہ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔رسالہ کے ایڈیٹر ’’ابو امامہ ‘‘ صاحب ہیں جو بے حد محنت اور خصوصی شفقت فرماتے ہوئے اس رسالہ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ماہنامہ مسلمان بچے کی پوری ٹیم بشمول مولنا عبد الحٖیظ صاحب اور مولنا مدثر جمال تونسوی صاحب بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کی زیر نگرانی رسالہ دن بدن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ حال ہی میں ’’ماہنامہ مسلمان بچے‘‘ کا خصوصی شمارہ ’’خطوط نمبر‘‘ شائع کیا جا رہا ہے۔ جس میں لکھاری اور قارئین دونوں نے اپنے اپنے الفاظ میں والدین ، اپنے شفیق اساتذہ کرام اور ایڈیٹر صاحب کے نام خط لکھے ہیں۔ رسالہ کی تیاری میں خوب عرق ریزی سے کام لیا گیا ہے۔ ’’خطوط نمبر‘‘ میں حضرت امیر محترم حفظہ اللہ نے جو خطوط اپنی والدہ کو جیل سے لکھے وہ بھی شامل کیے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اچھے خطوط کے لئے انعامات کا بھی سلسلہ رکھا گیا ہے۔

مجھے نہیں یاد کہ آج تک کسی بچوں کے رسالے نے ’’خطوط نمبر‘‘ کے نام سے کوئی خاص نمبر شائع کیا ہو۔ لیکن اس اچھوتے خیال کا سہرا بلا شبہ مسلمان بچے کے ایڈیٹر صاحب اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ’’مسلمان بچے ‘‘ کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور جس مقصد کے لئے یہ رسالہ شائع کیا جاتا ہے اور محنت کیا جا رہی ہے وہ مقصد پورا ہو کر رہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online