Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

غیبت معاشرے کا ناسور اور ایک کبیرہ گناہ (محمد وقاص رفیع)

غیبت معاشرے کا ناسور اور ایک کبیرہ گناہ

محمد وقاص رفیع (شمارہ 626)

’’غیبت‘‘ کہتے ہیں پیٹھ پیچھے کسی کی عیب جوئی کرنے،کسی کی برائی کرنے اور کسی کو برا بھلا کہنے کو ۔ غیبت ایک کبیرہ گناہ اور ایک انتہائی مذموم کا فعل ہے، جسے کوئی بھی سنجیدہ اور انصاف پسندہ معاشرہ قبول نہیں کرتا، لیکن اسے ہماری بد قسمتی اور نیک اعمال سے محرومی ہی کہیے کہ یہ ناسور ہمارے معاشرے میں اب بہت زیادہ پھیل چکا ہے ، اور تقریباً ہمارا اسی ، نوے فی صد معاشرہ اس مرض کا بہت بری طرح سے شکار ہے، آپ کو نماز پڑھنے والے ، روزہ رکھنے والے ، حج و زکوٰۃ اداء کرنے والے بہت ملیں، لیکن اگر آپ چند ایسے اشخاص تلاش کرنا چاہیں جو کسی کی غیبت نہ کرتے ہوں، جو کسی کی پیٹھ پیچھے اُس کی برائی نہ کرتے ہوں، جو کسی کے عیب نہ ٹٹولتے ہوں، تو یقین جانیے ایسے اشخاص آپ کو سو میں سے دس، بیس سے زیادہ نہ ملیں گے۔

اس وقت معاشرے میں لڑائیوں، جھگڑوں اور قتل و غارت کے بیسیوں واقعات اسی ایک گناہ  سے جنم لیتے ہیں کہ ایک نے کسی سے دوسرے کی غیبت کی اور جب اُسے پتہ چلا تو وہ پہلے شخص کے پاس آکر لڑنے جھگڑنے لگا اور یہ اپنا جرم چھپانے کی غرض سے جھوٹ بولنے لگا کہ میں نے تیرے خلاف ایسی کوئی بات نہیں کی وغیرہ وغیرہ، تو اس طرح اس ایک گناہ سے آگے مزید کئی گناہوں کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے ، اور انسان ایک گناہ سے بچنے کے لئے دوسرے کسئی گناہ کرلیتا ہے اور پھر آگے چل کر وہ گناہوں کی دلدل میں بہت بری طرح پھنس جاتا ہے، اس لئے اگرابتداء میں صرف اس ایک گناہ پر ہی قابو پالیا جائے تو دوسرے گناہوں کے صادر ہونے کا موقع ہی ہاتھ نہ آئے اور انسان اس جیسے دوسرے گناہوں سے بھی محفوظ رہے ۔ چنانچہ اگر ہمارامعاشرہ صرف اس ایک نکتے پر آجائے تو یقین جانیے معاشرے  میں لڑائیوں، جھگڑوں اور قتل و غارت کے ان واقعات میں ہوشربا کمی دیکھنے کو ملے اور معاشرے میں اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کی ہوائیں چلنے لگ جائیں۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو اپنے مرے ہوئے بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، اور بہت سختی سے اس سے منع کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ترجمہ: اے ایمان والو!… ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو!کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گاکہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو۔ ‘‘ (الحجرات)

اسی طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی احادیث مبارکہ میں غیبت کرنے کو مردار کھانے سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے، اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میں نے ایک عورت کے بارے میں کہا کہ یہ تو لمبے دامن والی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھوکو، تھوکو! (جو کچھ منہ میں ہے اُسے باہر تھوک دو!)چنانچہ میں نے تھوکا تو گوشت کا ایک ٹکڑا نکلا۔

حضرت ابن منکدر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا، جس کے بارے میں ایک مسلمان نے کہااس عورت کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اس رجم نے تو اس کے برے عمل کو مٹادیا، اور تم نے جو (اس کی غیبت کا برا) عمل کیا ہے اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی اُٹھ کر چلا گیا ، اُس کے جانے کے بعد ایک آدمی اُس کے عیب بیان کرنے لگ گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توبہ کرو! اُس آدمی نے کہا کس چیز سے توبہ کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(غیبت کرکے) تم نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے۔

حضرت معاذ بن جبل نے پچھلی حدیث روایت کی ہے اور اس میں مزید یہ مضمون بھی ہے ، لوگوں نے عرض کیا ہم نے وہی بات کہی ہے جو اس میں موجود ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(تبھی تو یہ غیبت ہے) اگر تم وہ بات کہو جو اس میں نہ ہو پھر تو تم اس پر بہتان لگانے والے بن جاؤگے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگوں نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور کہا کوئی دوسرا اس کے کھانے کا انتظام کرے تو یہ کھاتا ہے اور کوئی دوسرا اس کو سواری پر کجاوہ کس کر دے تو پھر یہ اُس پر سوار ہوتا ہے(یعنی یہ بہت سست ہے اپنے کام خود نہیں کرسکتا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی غیبت کر رہے ہو ، ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے وہی بات کہی ہے جو اس میں موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ تم اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرو جو اس میں موجود ہے۔

اب ذرا ہم اپنے معاشرے کو بھی دیکھیں اور اپنی حالت پر بھی غور کریں کہ ہم اس کبیرہ گناہ میں کس حد تک آگے نکل چکے ہیں ؟ اور اس مرض میں کس قدر شدت سے مبتلاء ہیں؟ ہمارا کوئی دن، کوئی گھڑی، کوئی لمحہ اس گناہ کے بغیر گزرتی بھی ہے؟ ہم نے کبھی اپنے آپ کو اس گناہ سے بچایا بھی ہے؟ کسی دوسرے کو اس گناہ سے رُوکا بھی ہے؟یا کم از کم اس گناہ سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کا عزم بھی کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ بھی ایک گناہ ہے، یہ بھی ایک معصیت ہے اور اسے بھی اللہ تعالیٰ کا جرم کہا جاتا ہے، کبیرہ گناہ اور قابل مؤاخذہ جرم۔

اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت جیسی بری بلا سے محفوظ فرمائے اور ہر طرح سے اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online