Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

قافلۂ غزوۃ الہند کا ایک اور شہید (بل احیاء۔ حبیب الحق)

قافلۂ غزوۃ الہند کا ایک اور شہید

حبیب الحق (شمارہ 627)

اللہ تعالیٰ اہل کشمیر اور شہدائِ کشمیر کی قربانیوں کو قبول فرمائے کہ جن کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے آج ایک بار پھر تحریک جہاد کشمیر اپنی عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔۔۔۔گذشتہ دو مہینوں کے دوران پے درپے ساتھیوں کی شہادت سے دل مغموم تھے۔۔۔ اور دل مغموم کیوں نہ ہو کہ ایک طرف مولانا طلحہ رشید جیسے ہنس مکھ دوست کی جدائی سے تو دوسری طرف بھائی عثمان شہیدؒ کا فراق، ایک طرف بھائی محمد، تنویر بٹ، محمد عمران، ابوبکر، عمر خطاب، عمیر شہید رحمہما اللہ کے تڑپتے لاشے ہیں تو دوسری طرف مولانا نور محمد تانترے اور بھائی محمد یونس شہید کے بارود سے چھلنی بدن ہیں۔۔۔

اہل ایمان کے قلب مجروح تھے شہداء کی یادیں دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی کہ اچانک زخمی دلوں کی دواء ہوگئی 31 دسمبر جب اہل کفر نئے سال کا جشن منانے کی تیاریاں کررہے تھے۔۔۔ اسی دوران خبر آئی کہ تین مقامی کشمیری مجاہدین کافروں کے ایوانوں میں موت بن کر ٹوٹ پڑے ہیں۔۔۔ 36 گھنٹے تک دشمنوں کے حواس پر چھائے رہنے کے بعد درجنوں مشرکین کو واصل جہنم کرکے اللہ کے جنتوں کے مہمان بن گئے۔۔۔ اور یوں قافلہ شہداء ہند میں مزید تین ناموں کا اضافہ ہوا۔۔۔ فردین عرف محمد معاذ شہیدؒ، منظور بابا شہیدؒ اور عبدالشکور شہیدؒ۔۔۔ یقینا یہ تمام وہ نفوس مقدسہ ہیں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے جہنم سے آزاد ہونے کی خوشخبری سنائی ہے۔۔۔ یعنی شہداء غزوۃ الہند۔۔۔ یوں تو ہر شہید کی اپنی ایک داستان ہے لیکن ہماری آج کے محفل کے صدرنشین ہیں بھائی محمد یونس شہیدؒ۔

20 دسمبر2017؁ء کو راقم کو مرکز سے پیغام ملا کہ 19 دسمبر کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں شہید ہونے والے مجاہد محمد یونس شہید کے گھر جاکر ان کی شہادت کی اطلاع کروں۔۔۔۔ چنانچہ ایک 8 رکنی وفد تشکیل دیا گیا جس میں شعبہ تعارف کے منتظم حضرت مولانا مجاہد عباس صاحب، شعبہ ہدایت کے نائب ناظم بھائی محمد حذیفہ، شعبہ احیائے سنت کے منتظم بھائی محمد اسلم، ضلع منتظم بھائی نعیم اور راقم سمیت دیگر مقامی افراد شامل تھے۔۔۔ عصر کی نماز کے بعد ہم محمد یونس شہیدؒ کے گھر پہنچے۔۔۔ شہید کے والد محترم جناب حبیب الرحمن صاحب اور بھائی نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔۔۔

علیک سلیک کے بعد راقم نے غزوۃ الہند پر مختصر بیان کیا اور شہید کی شہادت کی اطلاع دی۔۔۔۔ بعدازاں حضرت مولانا مجاہد عباص صاحب نے شہادت کے فضائل پر جامع بیان فرمایا۔۔۔۔ چونکہ ہم اچانک گئے تھے شہادت کی اطلاع کے لئے اس لئے شہید کی اطلاع کے لئے اس لئے شہید کے بھائی نے کہا کہ محمد یونس شہیدؒ نے ہمیں وصیت کی تھی کہ جو ساتھی میری شہاد ت کی خبر لے کر آئیں تو ان کا اکرام دودھ اور مٹھائی کے ساتھ کرنا ہے۔۔۔ شہادت سے قبل والدین کے نام لکھے گئے ایک مختصر خط میں بھی اس کا تذکرہ کیا تھا۔۔۔ افادہ قارئین کے لئے وہ خط بھی شامل مضمون کریں گے ان شاء اللہ۔۔۔ چونکہ ہمارے اچانک جانے کی وجہ سے فوری طور پر مٹھائی کا انتظام نہ کرسکے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے افسوس کا  اظہار کیا۔۔۔ راقم نے شہید کے والد سے کہا کہ محمد یونس شہیدؒ کا سامان اور وصیت نامہ چند دنوں میں آجائیگا لہٰذا جب ہم دوبارہ شہید کا سامان لیکر آئیں گے تو آپ شہیدؒ کی وصیت پوری کر لیجئے گا۔۔۔ چند دن بعد ایک بار پھر ہم محترم جناب محمد اسلم صاحب کی معیت میں شہید کے گھر پہنچے۔۔ اس بار بھی شہید کے والد، چچا اور بھائیوں نے جماعتی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔۔۔ اور شہید کی وصیت کے مطابق گرم دودھ اور مٹھائیوں سے ہماری تواضع کی۔۔۔ راقم نے شہید کا سامان شہید کے والد محترم کے حوالہ کیا۔۔۔ اور ان کی اجازت سے شہید کا آخری وصیت نامہ حاضرین مجلس کو پڑھ کر سنایا۔۔۔ مذکورہ وصیت نامہ بھی مضمون کے آخر میں قارئین کی نظر کرلینگے۔ ان شاء اللہ

راقم نے شہید کے والد سے پوچھا کہ شہید کی والدہ محترمہ کے کیا تاثرات ہیں۔۔۔ تو فرمانے لگے کہ میں توپھر بھی حوصلہ ہار جاتا ہوں لیکن شہید کی والدہ بہت بلند حوصلہ والی ہے۔۔۔ اسے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔۔۔ اور گھر والوں کو حوصلہ دیتی ہیں۔۔۔ راقم نے شہید کے بھائی مولوی طیب صاحب سے شہید کے حالات زندگی کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے محمد یونس غالباً 1992؁ء کو مظفر گڑھ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔۔۔ چونکہ گھر میں دینی ماحول تھا اس لئے جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی گئی ویسے ویسے دینی ماحول اس کے دل و دماغ میں بستا چلا گیا۔۔۔ کچھ عقل و شعور آنے کے بعد دینی تعلیم کے لئے مدرسہ میں داخلہ لیا اور نورانی قاعدہ سے آغاز کیا بہت ہی شوق سے پڑھتا رہا۔۔۔ نورانی قاعدے کے بعد ناظرہ اور پھر حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔۔۔ شہید کا بھائی کہنے لگا کہ محمد یونس شہیدؒ کو دیکھ کر مجھے بھی حفظ کرنے کا شوق ہوا۔۔۔۔ اور میں نے بھی مدرسہ میں داخلہ لیا اور حفظ مکمل کرنے کے بعد آج الحمدللہ میرا درس نظامی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔۔۔ کہنے لگے کہ 22 سال تک شہید کا قرآن پاک پڑھنے پڑھانے سے تعلق رہا۔۔۔۔ اس دوران امت مسلمہ کے حالات پر دل کے اندر کڑھن رہتی تھی۔۔۔ اور اسی درد اور کُڑھن کو سامنے رکھتے ہوئے یونس شہیدؒ نے راہ جہاد میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔ اور والدین سے اجازت لیکر بہاولپور مرکز عثمانؓ و علیؓ پہنچا۔ ابتدائی دورات اور کوائف مکمل کرنے کے بعد عسکری تربیت کا رُخ کیا۔۔۔ اور اچھی سے اچھی تربیت حاصل کی۔۔۔ اور پھر اپنے آپ کو جہاد کے لئے وقف کردیا۔۔۔ شہادت سے قبل آخری 4 سال کے عرصہ میں بہت کم گھر آتے تھے آخری بار آنے کے بعد جب واپس تشریف لے گئے تو اپنے ایک مختصر خط میں والدین کو جیش محمد ﷺ  کے فدائی دستے میں شامل ہونے کی اطلاع کی اور شہادت کی خبر لانے والوں کے اکرام کی وصیت کی جس کا تذکرہ کالم کے شروع میں آیا تھا۔۔۔ آئیے یونس شہیدؒ کے اس مختصر خط کو دل میں جذبہ ایمانی زندہ کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔

والدین کے نام ایک مختصر خط

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘

میری پیاری امی جان اور ابوجان میں یہاں خیریت سے ہوں اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ بھی خیریت سے ہونگے۔۔۔ پچھلا چکر جب بہاولپور کا لگا تھا تو میں نے فدائی میں اپنا نام لکھوالیا ہے مجھے امید ہے کہ میری کشمیر میں فدائی ہوجائے گی۔۔۔ اور آپ سے خصوصی دعائوں کی درخواست بھی ہے۔۔۔ اگر میں شہید ہوگیا اور رشتہ دار تعزیت کرنے آئیں تو ان کی تعزیت قبول نہیں کرنی بلکہ ان سے کہنا کہ ہمیں مبارک باد دیں۔۔۔ مجھے امید ہے کہ میری شہادت پر آپ بھی خوش ہونگے۔۔۔ اگر کوئی ساتھی میری شہادت کی خبر لیکر آئیں تو ان کا خوشی سے مٹھائی کے ساتھ اکرام کرنا۔۔۔۔ میرے لئے خصوصی دعا کرنا کہ میرا نمبر جلد ہی آجائے۔۔۔ آپ کی دعائوں کا منتظر ہوں۔۔۔۔

والسلام :آپ کا بیٹا محمد یونس

شہید کے بھائی نے بتیا کہ محمد یونس کا رشتہ خاندان والوں میں طے ہوگیا تھا لیکن قافلہ جہاد میں شامل ہونے کے بعد محمد یونس نے شادی سے انکار کردیا اور کہنے لگا جہاد میرا مشن اور شہادت میری آرزو ہے اگر شادی کرلی تو جہاد اور شہادت سے محروم ہوجائونگا۔۔۔ شوق جہاد محمد یونس میں کھوٹ کھوٹ کر بھرا ہوا تھا۔۔۔ہر کسی کو دعوت جہاد دیتا اور ان لوگوں پر تعجب کرتا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جہاد سے محروم ہیں۔۔۔ اہل خانہ کو لکھے ایک اور خط میں محمد یونس رقم طراز ہیں۔ (باقی آئندہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online