Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کی بڑھتی لہر (اداریہ)

بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کی بڑھتی لہر

اداریہ (شمارہ 629)

بھارت میں مسلمانوں پر حالیہ تشدد کی شدید لہر نے جہاں ہندوستان کے مسلمانوں کو جس اذیت سے دوچار کیا ہوا ہے وہاں پوری امت مسلمہ میں فکرمندی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ متعدد ذرائع ابلاغ پر جاری تازہ متعدد رپورٹس نے کئی افسوس ناک واقعات سے پردہ اٹھادیا ہے اور ان کی روشنی میں بھارت کے ماحول کا جو نقشہ سامنے آیا ہے ، وہ بہت ہی پریشان کن ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی داستان کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر قتل کیا جاتا ہے تو کبھی ذاتی انا کے مسائل میں تشدد پر قوم پرستی کے بھاشن کو دلیل کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں رہنے کا حق نہیں، سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں مسلمان ظلم کی چکی میں پسنے لگے ہیں۔

بھارتی تاریخ میں سال 2017 ء وہاں کے مسلمانوں کیلئے کسی ڈراونے خواب سے کم نہ تھا۔ گزشتہ سال گائے کے نام پر تشدد اور قتل وغارت عروج پر رہی۔ بھارتی اخبار کے مطابق 5 فیصد حملوں میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی جب کہ 13 فیصد میں الٹا متاثرہ افراد کے خلاف ہی ایف آئی آر درج ہوگئی۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں مسلمانوں پر مظالم میںسو فیصد اضافہ ہوا۔ مسلمانوں کے خلاف پْرتشدد واقعات میں سے بیشتر گائے کے نام پر دیکھنے میں آئے ۔بھارتی وزیراعظم نے بھارت کا بھیانک چہرہ چُھپانے کیلئے اکّا دکّا واقعات کی دبے الفاظ میں مذمت بھی کی مگر انہیں روکنے کیلئے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ المیہ ہے کہ بھارتی قانون میں آج تک ایسے واقعات میں ملوث افراد کیلئے کسی سزا کا تعین نہیں کیا گیا۔ایسے ہی ایک واقعے میں گائے کا دودھ خریدنے والے انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ گائے کے نام پر تشدد کے دل دہلا دینے والے 52 فیصد واقعات محض افواہوں کی بنیاد پر ہوئے۔گائے کے نام پر سرِعام تشدد اور قتل وغارت سے لگتا ہے کہ بلوائیوں کو مودی سرکار کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں انتہاء پسند ہندؤوں کی جانب سے مسلمانوں کو سیاسی ، مذہبی، سماجی ، ثقافتی اور معاشرتی مسائل اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ اور اب بی بی سی کی حالیہ رپورٹ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تمام مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے نام نہاد دعویدار کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کے سامنے عیاں کردیا ہے۔دنیا کا امن و سکون اور چین و اطمینان اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سوچ اور رویے میں تبدیلی اور انسانی حقوق کا ہر سطح پر خیال رکھا جائے۔ بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ رویے سے صرف وہاں بسنے والے مقامی مسلمانوں کے حقو ق ہی پامال نہیں ہورہے بلکہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک میں بھی بھارت کی بلاجواز دراندازی اور  مداخلت جاری ہے جس سے ان ممالک میں امن ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے ۔عالمی امن کے علمبرداروں کو چاہئے کہ وہ دوہرا معیار ترک کرکے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بے جا پابندیوں ، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کا نوٹس لیں اور بھارت میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے پر پابندی سے استثنیٰ دلوائیں تاکہ کوئی انتہاء پسند کسی قوم اور مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک رواء نہ رکھ سکے اور دنیا بھر میں پائیدار امن کا یقینی قیام عمل میں آسکے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online