Bismillah

631

۲۹جمادی الاولیٰ تا۵جمادی الثانی۱۴۳۹ھ  بمطابق ۱۶تا۲۲فروری۲۰۱۸ء

اللہ بہت اچھا کرے گا (نشتر قلم۔زبیر طیب)

اللہ بہت اچھا کرے گا

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 629)

یاد رکھو!ہر معاملے میں اچھا گمان ، اچھا ہی سوچنا …

یہ بہت ضروری ہے …

اپنے رحیم اللہ سے ایک لمحے کے لیے بھی بدگمان نہ ہوں …

ریسرچ کیا کہتی ہے …

وہ کہتی ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک انسان کے خیالات منفی ہوں ۔اور اس کی زندگی مثبت ہو …

ناممکن ہے ۔ قطعی ناممکن !انسان مثبت سوچے گا تو مثبت پائے گا ، منفی سوچے گا تو منفی پائے گا …

لہذا۔۔۔ جتنے بھی اندیشے ہیں ، انہیں اللہ رب العالمین کے حضور پیش کرتے رہیں ۔

اللہ سے کہیں اللہ!

ہمیں بری تقدیر سے بچا لیں ۔ کثرت سے دعا مانگیں ۔ وَقِناَ شَرَّ مَا قَضَیتَ…اللہ ہمیں عافیت دے دیں ۔

اس سے فضل عظیم کا سوال کرتے رہیں …

پھر جب دعا کر چکیں تو بس جناب !

بہت مطمئن بہت مسرور ہوجائیں …

ہلکے پھلکے ہشاش بشاش ہوجائیں …

سوچیں ہی اچھا …

اللہ بہت اچھا کرے گا ۔ اللہ بہت آسانیاں کرے گا ۔ اللہ بہت کرم فرمائے گا ۔اللہ خیروبرکت دے گا ۔ اللہ گمان سے بڑھ کر عطا کرے گا …

ان شاء اللہ ۔ یہ سوچیں ہماری عادت ہونی چاہئیں…

اللہ تعالی کے کمال، جلال، جمال اور مہربانی کے بارے میں جان کر انسان کے دل میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان پیدا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اسی کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:

"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے."

نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی وفات سے پہلے اسی بات کی تاکید فرمائی تھی۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین دن قبل انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا:

’’تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا سوچ گمان رکھتا ہو‘‘…

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ کے متعلق اچھا سوچا کرو…

اور فرمایا کرتے تھے کہ

’’میں کبھی یہ نہ چاہوں گا کہ میری  نیکیوں اور برائیوں کا حساب کتاب میرے والدین کے سپرد کر دیا جائے۔ اللہ ان سے بڑھ کر مجھ پر رحم کرنے والا ہے‘‘…

جب مشکلات بڑھ جائیں اور تنگی زیادہ ہوجائے تو ان سے نکلنے کا راستہ بھی اللہ تبارک و تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہی ہے۔ وہ تین سچے مسلمان جو اپنی سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ کی قبولیت اور چھٹکارہ اسی بنا پر ہوا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق اچھا گمان رکھتے تھے، فرمان الہی ہے:

’’اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔( التوبہ: 118)

جسے تنگ حالی کا سامنا ہو اور وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھے تو اللہ تعالی اسے جلد کشادگی نصیب فرما دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

جسے کبھی فاقہ ہوجائے اور وہ اسکی شکایت لوگوں سے کرنے لگے تو اس کا فاقہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور جسے کبھی فاقہ ہو اور وہ اس کی شکایت اللہ تعالی سے کرے تو اللہ تعالی جلد یا بدیر اسے اچھا رزق عطا فرمائے گا۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

’’زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اگر میرا قرض ادا کرنے میں دقت پیش آئی تو میرے آقا سے مدد لے لینا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالء عنہ بتاتے ہیں کہ بخدا مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ انہوں نے کس کی طرف اشارہ کیا ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا آقا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ۔ فرماتے ہیں اس کے بعد جب بھی ان کا کوئی قرض چکانے میں دقت پیش آتی تو میں یہ کہتا کہ اے زبیر کے آقا! اس کا قرض ادا کر دیجئے۔ یوں ان کا قرض ادا کرنا آسان ہو جاتا‘‘

 سلمہ بن دینار رحمہ اللہ سے کہا گیا: اے ابو حازم! آپکا سامان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ پر بھروسہ اور لوگوں سے مایوسی۔

سلیمان دارانیؒفرماتے ہیں: جو رزق کے حوالے سے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اس کے اخلاق اچھے ہو جاتے ہیں، اس کا مزاج حلیم ہو جاتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے لگتا ہے اور اسکی نماز میں وسوسے کم ہو جاتے ہیں۔

لہذا…

اللہ تعالیٰ سے ہر معاملے میں اچھا گمان رکھیں…

بس خیال رہے ، یہ گمان ، کسی بھی لمحے ، بے یقینی کا شکار نہ ہو ۔ بدگمانی کی نذر نہ ہو ۔

خواہ حالات بظاہر خراب تر ہو رہے ہوں ۔ حسن ظن کو نہ چھوڑیں ۔ حسن ظن کا مقام ہی وہ ہے جب حالات نازک ہوں ، اندیشوں کی تندوتیز آندھیاں چل رہی ہوں ۔ اور اسباب کے در بند ہو چکے ہوں ۔

سلف کہا کرتے تھے :

"اعمال صالح کے ساتھ اللہ سے حُسنِ ظَن رکھنے سے بہتر کوئی چیز نہیں."

اپنی سی کوشش جاری رکھیے. اپنا معاملہ اچھا رکھیں، دعا مانگیں ، اندیشے اس کی جھولی میں ڈال کر… اچھے گمان کو تھام لیں ۔

اور کہہ دیں ۔

اللہ بہت ہی اچھا کرے گا!!!

اللہ رحمت کی چادر میں لپیٹ لے گا …

اللہ محروم نہیں کرے گا ۔ بھر بھر کے دے گا …

ان شاء اللہ…!

اور پھر بلاشبہ ، آپ اپنے ان شاء اللہ کو "الحمد للہ" میں بدلتا ہوا دیکھ لیں گے !

کیونکہ آپ کا رب آپ کے اس گمان کے مطابق آپ سے معاملہ فرماتا ہے جو آپ اللہ عزوجل سے رکھتے ہیں …!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online