Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

اولاد کی تربیت، والدین کے حقوق وفرائض اور معاشرتی مسائل (امیر افضل اعوان)

اولاد کی تربیت، والدین کے حقوق وفرائض اور معاشرتی مسائل

امیر افضل اعوان (شمارہ 629)

خالق کائنا ت نے والدین کے دل میں بچوں کی محبت کے حوالہ سے بے کراں اوربے پایاں جذبات ڈال کر ان پر اپنے بچوں کی بہتر تربیت کے لئے جو ذمہ داری سونپی ہے اگر ہم اسی انداز اور انہی خطوط پر اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں تو نہ صرف وہ ایک اچھے شہری بن سکتے ہیں بلکہ وہ نیک اور صالح اولاد کی صورت میں صدقہ جاریہ ہونگے جو کہ دنیا میں ہماری عزت وتکریم کاباعث اور آخر ت میں ذریعہ نجات بن سکتے ہیں، اسلام میں ہر رشتہ کے حقوق مقرر کرتے ہوئے معاشرہ کے افراد کو ان کی حدود وقیود کا پابند بنایا گیا ہے، اب اگر کوئی بھی شخص اپنے حقوق وفرائض پورے نہ کرئے تو اس سے نہ صرف معاشرتی ابتری پھیلے گی بلکہ اس فرد  واحد کا یہ عمل نہ صرف معاشرتی بگاڑ کاسبب بنے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں دنیا و آخرت کی ناقابل بیان خرابیاں پیدا ہونگی جس کی وجہ سے مسائل در مسائل کا ایسا لاامتناعی سلسلہ شروع ہوجائے گا کہ کہیں جائے پناہ نہ مل سکے گی۔

بلاشبہ اسلام میں اولاد پر والدین کو جو فضیلت حاصل ہے وہ مسلمہ حقیقت ہے کیونکہ والدین ہی اولاد کے وجود میں آنے کا ذریعہ ہیں والدین اپنی اولاد کیلئے لاکھوں دکھ جھیلتے ہیں اور پریشانیاں  اٹھاتے ہیں تب جاکر اولاد جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے اپنی اولاد کی اچھی تربیت اور ان کو تعلیم دیتے ہوئے والدین خود بڑھاپے کو پہنچ کر کمزور ہوجاتے ہیں اسی لئے اللہ تعالی نے والدین کے حقوق کا ذکر اپنے حقوق کے بعد کیا اور اس حوالہ سے کوئی بھی ابہام رکھے بغیر ہر بات کھول کر بیان کردی ہے ۔

والدین کے حقوق کے حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد با ری  تعالی  ہے۔’’آپ کا رب صاف، صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کیساتھ حسن سلوک کرو اگر تمھاری موجودگی میں ان سے ایک یا دو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہو نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرو بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام کیساتھ بات چیت کرو اور عاجزی اور محبت کیساتھ ان کے تواضع کا بازوپست رکھو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب ،ان پر ویسا ہی رحم فرمائیے جیسا کہ انہوںنے میرے بچپن پر مجھ پر رحم کیا(میری پرورش کی ہے)‘‘۔(سورۃ بنی اسرائیل:23تا24)، دوسرے مقام پر فرمان الٰہی ہے۔’’اور ہم نے انسانوں کو اس کے والدین کے متعلق نصیحت کی اس کی ماں نے اسے (پیٹ میں)کمزوری سے کمزوری پر اٹھائے رکھا اور دو سال کے دوران اس نے (ماں کا )دودھ پینا چھوڑا۔ہم نے اسے حکم دیا کہ میرا بھی شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی(یادرکھو)سب کو میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے‘‘۔(سورۃ لقمان : آیت 14

 احادیث مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق بارے وضاحت کردی گئی ہے، ’’اللہ تعالی کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے‘‘۔’’جس مسلمان کے والدین زندہ ہوں ،وہ ان دونوں کی خدمت کرکے اللہ تعالیٰ سے اجر کا   طلب   گارہے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کے دروازے کھول دیتے ہیں اگر ان میں سے ایک زندہ ہے تو ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس سے ناراض ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس آدمی سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک کہ وہ (جوناراض ہے)اس سے راضی نہ ہوجائے‘‘، اسی طرح  محمد  رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کہ اگر اس کے والدین اس پر ظلم کرتے ہوں تو تب بھی کیا ایسا ہی ہوگا؟، آپ ﷺ نے فرمایا۔’’ ہاں اگرچہ کہ وہ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں‘‘۔حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ  ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔’’اے اللہ کے رسولﷺ! کون سی ہستی میرے حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے؟‘‘، آپ ﷺنے فرمایا ۔’’تمھاری ماں‘‘۔صحابیؓ نے اس کے بعد دوبارہ پھر پوچھا۔تو اللہ کے رسول ﷺنے دوبارہ ماں کا نام ارشاد فرمایا، جبکہ تیسر مرتبہ بھی یہی جواب ملا، بعد ازاں چوتھی بار پوچھنے پر نبی اکر  م  ﷺ  نے ارشاد فرمایا۔’’تمھارا باپ‘‘۔

 وفات کے بعداولاد کے ساتھ والدین کا جسمانی تعلق تو ختم ہی  ہوجاتا ہے لیکن روحانی تعلق کبھی ختم نہیں ہوتا اولاد کی طرف سے کئے گے صدقات ،حج ،قربانی کا ثواب تو مسلسل پہنچتا ہی رہتا ہے اوران کے درجات بلند ہوتے رہتے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کر  یم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’’جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے مگر تین ثواب ایسے ہیں جو اس کی وفات کے بعد بھی اس تک پہنچتے رہتے ہیں  ، اپنے پیچھے کوئی ہمیشہ جاری رہنے والا صدقہ چھوڑا ہو ، مثلا کوئی مسجد بنوائی ہو ،  جب تک لوگ اس  مسجد میں نماز پڑھتے رہیں گے اس کو ثواب ملتا رہیگا ،  ایسا کوئی علم چھوڑا ہو جس سے مخلوق  خدا  مستفید ہو ر ہی  ہو ، یعنی کوئی کتاب لکھی ہو یا اپنے شاگردوں کو بہترین علم دیا  ہو  یا   ایسی نیک اولاد چھوڑی ہو جو اس کے حق میں دعا کرتی ہو۔(مسلم)، حضرت سعد بن عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’سب سے بہترین  صدقہ پانی پلانا ہے‘‘، انہوںنے رسول اکر م ﷺ کی خدمت  میں عرض کیا۔’’اے رسول ﷺ!میری والدہ وفات پاگئیں ہیں  ،ان کی جانب سے کونسا صدقہ افضل ہے؟‘‘، نبی اکر مﷺ نے ارشاد فرمایا:’’پانی پلانا۔‘‘، چنانچہ سعد بن عبادہ ؓ نے ایک کنواں کھدوایااور اسے عام لوگوں کیلئے وقف کردیا۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اکرم  ﷺ کی خدمت میںعرض کیا۔’’اے اللہ کے رسول  ﷺ   !اللہ کا فریضۃ الحج اس کے بندوں پرلازم ہے،لیکن میرے والدین بہت بوڑھے ہیں او ر سواری پر بیٹھ نہیں سکتے،کیامیں ان کی جانب سے حج(بدل) کرسکتی ہوں؟‘‘، رسول اکرمﷺنے فرمایا:’’ہاں! کرسکتی ہو‘‘، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے ایک صحابی ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ۔’’میرے والدین وفات پاچکے ہیں اور وہ حج (فرض ہونے کے باوجود)نہیں کرسکے،کیامیںانکی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟‘‘، آپﷺ نے فرمایا:’’یہ بتائو اگر تمہارے والدپر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟‘‘، صحابیؓ نے فرمایا:’’جی ہاں!ضرور کرتا۔‘‘، آپﷺنے فرمایا:’’اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔‘‘

 خالق کائنات نے کارخانہ کائنات میںاولاد کے لئے والدین کو ایک سائباں کی حیثیت دیتے ہوئے ان پر اولاد کی بہتر تعلیم وتربیت کی گہری ذمہ داری ڈال دی ہے، یہاں اگر اولاد پر والدین کے حقوق واضع کئے گئے ہیں تو والدین پر بھی اولاد کے حقوق وفرائض کی کھلے انداز میں وضاحت کردی گئی ہے،معاشرہ میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اولاد والدین کے حقوق کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی اور انہیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ اولاد صاحب حیثیت بھی ہوتی ہے تو والدین اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ، اس کی سب سے بڑی وجہ والدین کی طرف سے اولاد کی اسلامی خطوط پر تربیت نہ کرنا ہے، اگر ہم اولاد کی اسلامی احکامات کے مطابق تربیت کریں تو انہیں حقیقی معنوں میں اپنے حقوق وفرائض کا شعور ہوگا اور اس طرح یہ خرابی پیدا ہی نہیں ہوگی، کیوں کہ جب انہیں دین کی فہم ہوگی تو وہ نہ صر ف اپنے والدین کے حقوق کا خیال رکھیں گے بلکہ وہ اپنی اولاد کی بھی اسلامی خطوط پر بہتر تربیت کے حوالہ سے خاص توجہ دیں گے،  جس کے نتیجہ میں نہ صرف حالات کی مثبت تبدیلی کا ظہور ہوگا بلکہ ان کا یہ عمل دین ودنیا میں ان کی کامیابی کا زریعہ بن جائے گا، جس کے صدقہ جاری میں دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کا بھی ایک خاص حصہ شامل ہوگا، جو کہ آپ کی مغفرت اور بلندی درجات کاباعث بن جائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online