Bismillah

631

۲۹جمادی الاولیٰ تا۵جمادی الثانی۱۴۳۹ھ  بمطابق ۱۶تا۲۲فروری۲۰۱۸ء

یوم یکجہتی کشمیر…تجدید عہد کا دِن (اداریہ)

یوم یکجہتی کشمیر…تجدید عہد کا دِن

اداریہ (شمارہ 630)

یوم یکجہتی کشمیر ہر سال 5  فروری کو آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تجدیدِ عہد کرتے ہیں۔بھارتی حکمرانوں کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ تنازعہ کشمیر اس کے زیادہ سے زیادہ مفادات کے تحفظ اور پاکستانی کی کمزور سے کمزور حالت کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر درحقیقت تقسیم ہند کے ایک نامکمل اور مذموم ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح شمالی ہند میں پاکستان مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندوں اور انگریزوں نے سازش کے ذریعے سے ریاست جموں وکشمیر کی پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے جبراًالحاق کیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھاکر اپنے لیے ایک نئی راہ تلاش کرلی۔اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائیگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ جھوٹا وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے۔ لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

کشمیری قوم گذشتہ 59 سال سے آزادی کی تلاش میںسرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں، بچے سبھی شامل ہیں۔ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔کشمیریوں کا ماضی بھی ظلم کی داستانوں سے رقم، حال بھی نہایت مخدوش ہے ۔بھارتی افواج نے ورکنگ بائونڈری کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کی نسل کشی کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ آئے روز ورکنگ بائونڈری پر بمباری سے سول آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ دراصل بھارتی افواج کو علم ہے کہ بائونڈری کے ایک جانب مرے یا دوسری سمت مرے وہ کشمیری ہی ہے اور مسلمان ہے لہٰذا سفاک بھارتی بے دردی کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو بھی شہید کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ بھارت کی طرف سے ان تمام ستم ظریفیوں اور سفاکیوں کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت میں روز بروز اضافہ ہونا اپنے رب پر یقین کامل اور جری اسلاف کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔کشمیری تحریک میںمجاہدمحمد افضل گورو اور برہان وانی کی شہادت نے خاص کر تحریک کشمیر کو ایک نیا رُخ دیا ہے جس سے یہ تحریک ایک بار پھر اپنا وجود منوا چکی ہے۔ اس موقع پر ضرورت اس کی ہے کہ اہل پاکستان فقط ایک دن کے بجائے پوری یکسوئی، تندھی اور اخلاص کے ساتھ تحریک کشمیر کے دست و بازو بنیں اور بھارت کو یہ پیغام دیدیں کہ چاہے وہ کتنا ہی ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیوں نہ کر لے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جا سکتا اور آزادی کشمیر کا مقدر ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online