Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

عبدیت کا اظہار اور انسانیت کی معراج (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

 عبدیت کا اظہار اور انسانیت کی معراج

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 630)

دنیا کی تمام مخلوقات خواہ وہ جاندار ہوں یا بے جان، زبان رکھتی ہوں یا بے زبان ہوں، اپنے تمامتر معاملات میں اپنے رب کی محتاج ہوتی ہیں۔ فوائد کے حصول میں، مصائب وآلام سے نجات پانے میں، اپنے دین وایمان کی اصلاح اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے، الغرض ہر ایک معاملہ میں تمام مخلوقات اپنے ربِّ کریم کی سراپا محتاج ہوتی ہیں۔

انسان رحم مادر ہی سے حاجتوں اور ضرورتوں کا محتاج بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ اس کی زندگی کی آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔ وہ مر نے کے بعد بھی دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کی محتاجی اور ضرورت مندی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ ضرورت مند وہ اپنے خالق حقیقی کا ہوتا ہے۔ زندگی میں اسے بیشمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں کوئی دوسرا انسان اس کی ذرا بھی مدد نہیں کرسکتا۔ دنیا کے سارے وسائل وذرائع جواب دے جاتے ہیں۔ اپنے بھی بیگانے ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ اور ہر حال میں نصرت وامداد کا اور ضرورت پڑنے پر جان تک نچھا ور کردینے کا دم بھرتے رہتے ہیں۔ ایسے وقت میں انسان کی امید اور توجہ صرف ایک ذات کی طرف جاتی ہے اور وہ ہے ’’ربِّ کائنات کی ذات کریم‘‘ ہاں وہی ذات باقی رہ جاتی ہے جو انسان کو کبھی تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑتی۔ پوری دنیا سے مایوس ہوکر جب کوئی بیچارہ، بے بس، لاچار، مجبور ومقہور، ستم رسیدہ اور کمزور ولاغر بندہ اسے پکارتا ہے تو وہ ذات فوراً اس کی چارہ جوئی کرتی ہے، اس کے دکھوں کا مداواکرتی ہے، اس کے غموں کو ہلکا کرتی ہے، وہ جو کچھ مانگتا ہے دیتی ہے اور جو آرزو کرتا ہے پوری کرتی ہے۔ بیشک وہ ذات ہے ربِّ کائنات کی، وہ ذات ہے وحدہ لاشریک کی، جو ہر حال میں، ہر وقت اپنے بندوں کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔ وہ ذات ہے ہی ایسی جس کے درِ اقدس سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ بس اسے پکار کر دیکھ تو لو!

جب کوئی مخلوق اپنے رب کو پکارتی ہے تو در حقیقت وہ اپنی عبدیت کا اظہار کرتی ہے اور یہی عبدیت کا اظہار انسانیت کی معراج ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو بہت پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے اسی سے اپنی حاجات وضروریات کی تکمیل کا سامان مانگیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں جس طرح بہت سے احکام و اوامر نازل فرمائے ہیں، اسی طرح دعا کا حکم بھی نازل فرمایا ہے۔ اللہ کا اپنے بندوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اس سے اور صرف اسی سے دعا مانگیں اور مدد کے لیے اسی کو پکاریں۔ اس لیے کہ سب کچھ اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور اس کائنات میں اس کی مشیت کے بغیر ایک پتّہ بھی اپنی جگہ سے ہِل نہیں سکتا اور اس لیے بھی کہ دعا عبادت ہے اور عبادت کسی دوسرے کی جائز نہیں۔ سورہ مؤمن میں حکم دیا گیا ہے:

’’اور تمھارا رب کہتا ہے مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے گھمنڈ کرتے ہیں وہ عنقریب ذلّت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ (المؤمن)

اسی آیت ہی کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عین عبادت قرار دیا ہے۔ نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا عین عبادت ہے۔ پھر آپﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اور تمھارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے گھمنڈ کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔ (ترمذی، ابن حبان ، احمد، ابوداؤد، نسائی)

دین میں دعا کی بڑی اہمیت ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے اعراض اللہ رب العالمین کو سخت ناپسند ہے۔ جس طرح اللہ کو اپنے بندوں کا غرور، گھمنڈ اور تکبر سب سے زیادہ ناپسند ہے، اسی طرح اس کو اپنے سامنے اپنے بندوں کی عاجزی، احتیاج اور عبودیت کا اظہار و اقرار سب سے زیادہ پسند ہے۔

دعا ایک مومن کے لیے پریشان کن حالات اور مصائب و مشکلات میں امید اور حوصلے کا سامان اور مضبوط سہارا ہے اور اسے مایوسی اور ناامیدی سے محفوظ رکھتی ہے، لہٰذا خشوع و خضوع سے دعا کا اہتمام ایک مومن کا شعار ہونا چاہیے۔

دعا کے بارے میں اس کثرت سے احادیث مروی ہیں کہ کتب احادیث میں اس کے لیے مستقل ابواب مخصوص ہیں۔ دعا کی اہمیت و فضیلت کے سلسلے میں چند حدیثیں پیش ہیں۔

حضرت ابن عمرؓ نے حضوراکرمﷺسے روایت کی ہے کہ دعا ان مصیبتوں اور بلاؤں کو دور کرنے میں بھی نافع ہے جو نازل ہو چکی ہوں اور ان میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہوں۔ اور قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز ٹال نہیں سکتی، پس تم پر لازم ہے کہ دعا کرو۔ (ترمذی)

ابن مسعودؓ حضوراکرمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ اس لیے کہ اللہ (اپنے بندوں کے) سوال کو پسند کرتا ہے اور تنگی میں کشائش کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ (جمع الفوائد بحوالہ ترمذی)

’’جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے‘‘ (ترمذی)۔ اس حدیث کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان اپنے آپ کو غضبِ الٰہی سے بچانا چاہتا ہو، اسے اللہ سے دعا مانگنا چاہیے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں صحابہ کرامؓکو دعاؤں کی باضابطہ تعلیم دی ہے اور ان کے الفاظ تک سکھائے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، پس تم بکثرت دعا مانگو!‘‘ (ریاض الصالحین )

ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دعا کے فوائد بتائے تو ان میں سے بعض نے عرض کیا: ’’تب تو یارسول اللہ!ﷺہم بکثرت دعا مانگیں گے۔‘‘ حضوراکرمﷺنے جواب دیا: ’’اللہ کا فضل تمھاری دعاؤں سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ یعنی اللہ کا خزانۂ فضل و کرم بے کراں ہے۔ اس لیے تمھاری کثیر دعاؤں کو قبول کرنے کے بعد بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ حضور اکرمﷺکے اس جواب میں تکثیر دعا کی کتنی دل آویز ترغیب ہے۔ یہ حدیث امام ترمذی نے حضرت عبادہ بن الصامتؓ سے ابواب الدعوات میں روایت کی ہے۔

حضرت ابن عمرؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا، اس کے لیے رحمت کے دروازے کھل گئے۔‘‘ گویا جس کو اللہ سے دعا مانگنے کی توفیق مل گئی اور جس کو دعا کا ذوق پیدا ہوگیا، اس نے اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں کا مستحق بنالیا۔ وہ اس کو اپنی رحمتوں سے نوازے گا۔

حضرت ابوہریرہؓ حضوراکرمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے یہ درجہ کہاں سے ملا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بدلے میں جو تیری اولاد نے تیرے لیے کی‘‘ (جمع، بحوالہ بزار)۔ ظاہر ہے کہ جب دعا سے والدین کے درجے بلند ہوں گے تو کیا دعا کرنے والی اولاد کے اپنے درجات بلند نہ ہوں گے؟

سب سے بہترین اور عظیم البرکت کثیرالنفع دعائیں اور اذکار وہ ہیں جو زبان نبوت سے صادر ہوئی ہیں اور اہل ایمان کو انہیں ادعیہ و اذکار کو معمول بنانے کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کسی بھی عمل کے متعلق کوئی فضیلت یا خاصیت یا بہت زیادہ اجر وثواب اللہ تبارک وتعالی یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیں ، تو وہ یقینی اور قطعی بات ہوتی ہے، اس کے بارے شک وشبہ بھی ایمان کے منافی ہے اور مختصر عمل پر بہت زیادہ اجر وثواب کو انسانی میزان میں نہیں تولنا چائیے، بلکہ یہ عطاء رب العالمین کی طرف سے ہے، جس کی رحمت وبخشش بہت وسیع ہے، اسی طرح محدثین کرام نے اور علماء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ آحادیث میں مختلف اذکار و ادعیہ کے متعلق جو گناہوں کے معافی کا وعدہ کیا گیا ہے، اس سے مراد صغیرہ ( چھوٹے ) گناہ ہوتے ہیں، باقی کبیرہ ( بڑے ) گناہوں کے معاف ہونے کے لیئے سچی توبہ تمام شرائط کے ساتھ ضروری ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دعاؤں کا ذوق و شوق اور اہتمام کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online