Bismillah

631

۲۹جمادی الاولیٰ تا۵جمادی الثانی۱۴۳۹ھ  بمطابق ۱۶تا۲۲فروری۲۰۱۸ء

فَرِحِیْنَ بِمَآاٰتٰھُمُ اللّٰہ (ابو جندل حسان)

فَرِحِیْنَ بِمَآاٰتٰھُمُ اللّٰہ

ابو جندل حسان (شمارہ 630)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کے پیارے مولانا طلحہ رشید کی شہادت کو قبول فرمائے، وہ اپنی تمنا کو پاگئے،اپنی منزل سدھار گئے، اور اپنے خوابوں کی حقیقی دنیا میں جابسے۔ انہوں نے شہادت سے پہلے، کلاشنوں کی کانوں میں رَس گھولنے والی، سریلی آوازیں بھی سنیں، اور شہادت سے پہلے دِل بڑا کردینے والے دھماکے بھی سنے ہوں  گے۔ یہ باتیں دیوانوں کی سی ہیں۔ حقیقت میں جہاد وشہادت کے حسین دیوانوں کی ہیں،وہ دیوانے جو اپنے دل وا کرچکے، جبکہ دل کی مرادیں مقام خُلد میں،بہت اعلیٰ درجہ میں پاچکے، اورعالَم یہ ہے کہ رہ جانے والے رورہے ہیں جبکہ جانے والے مسکرارہے ہیں۔طلحہ پیارا بھی اعلیٰ زندگی پاکرمسکرا رہا ہے اور ہمیں بلارہا ہے، بتارہا ہے کہ ڈرو نہیں،خوف زدہ بھی مت ہونا۔بہت مزیدار زندگی ہے، باغ وبہار والی حیات جاوید ہے۔ رب تعالیٰ کی مغفرت رحمت انعام واکرام والی، ہمیشہ کی زندگی ہے…

فَرِحِیْنَ بِمَآاٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو انہیں دیا ہے اس پر خوش ہونے والے ہیں اور ان کی طرف سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ابھی تک ان کے پیچھے سے اُن کے پاس نہیں پہنچے اس لیے کہ نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔(سورۃ آل عمران: آیت نمبر ۱۷۰)

طلحہ بھی کہہ رہا ہے کہ میں بہت خوش ہوں۔میرے پیارے والدین !میری خوشی پر آپ بھی خوش ہوجائیں۔ میرے پیارے ماموں جان اور میرے تمام اہل خانہ!میری خوشیوں میں آپ سب بھی شامل ہوجائیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری پیاری جماعت کے تمام رفقاء بھی، میرے حسن خاتمہ پر خوش ہوں گے۔ بس آپ لوگ ایک عزم مصمم باندھنااور اللہ تعالیٰ سے عہد کرنا کہ آپ اس حق راستے کو کبھی بھی ہر گز نہیں چھوڑو گے اور نہ ہم شہیدوں کو بھلائیں گے۔ آپ یقین مانیںہمارے دشمن جو ہمارے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُترے وہ جہنم میں جل رہے ہیںاور ان کے جوساتھی جہنم میں گرنے سے ابھی پیچھے رہ گئے ہیںوہ موت سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ان کے تو کچھ بھی کام نہیں آرہانہ یہاں، نہ وہاں۔نہ اس زندگی میں نہ اس زندگی میں۔بس خسارہ ہی خسارہ  ہے…خسر الدنیا والآخرۃ۔

ھماری دعاء اور عہد ہے

اللہ رب العزت سے ہماری دعا اور عہد ہے کہ…ہم ان شاء اللہ تعالیٰ اپنے پیارے شہیدوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ہماراعزم ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کو اپنے دلوں اور اپنے اعمال میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ شہادت کے راستے جنت تک پہنچنے کے لیے، ان شاء اللہ تعالیٰ غازی میدان میں اُترتے رہیں گے…اے شہیدو! ہم نہ آپ کو بھولیں گے اور نہ ہی آپ کو شہید کرنے والے اپنے دشمنوں کو ۔اے شہیدو!ان شاء اللہ عنقریب اسلام دشمنوں کی چیخیں،آپ کی خوشیوں کو دوبالا کردیں گی… وماالنصر الا من عنداللہ العزیز الحکیم۔

کشمیر ہو یا افغانستان، شام ہو یا عراق ، اور شیشان وبرما ہوں یا فلسطین،یہ سب اس وقت جہادی مقامات ہیں،اور جہاں جہاد ہوتا ہے، وہاں شہادتیں بھی ضرور ہوتی ہیں، اور جنہیں شہادت یا مقام شہادت نصیب ہوتا ہے، وہ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں،ان کے والدین واہل خانہ، اُن کے اعزا واقربآئ، اور ان کے محبین ومحبوبین سب خوش نصیب ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ خوش نصیبی ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو نصیب فرمائے…آمین یااکرم الاکرمین۔

طلحہ رشید کے بچپن اور شہادت کا منظر

 اسلام کی جلی تاریخ قربانی اور شہادتوں سے لبریز ہے۔اس قسم کی مثالیں اور واقعات قدم قدم پر ملتے ہیں۔طلحہ رشید اس وقت چھوٹا ننھا سا تھا، جب کابل میں اس نے مجاہدین کا ماحول دیکھ لیا تھا، جہادی ماحول کی ایک اپنی ہی شان وشوکت ہوتی ہے۔اسلحے کی چھن چھن، گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں،وہاں کے خاص مترنم نغمات ہیں۔بس آپ کچھ نہ پوچھیں۔اس کو تو صرف ’’عاشق جھاد‘‘ ہی سمجھ سکتا ہے۔ طلحہ کو وہیں سے جہاد سے عشق ہوگیا تھا۔ پھر وہ تاشہادت اسی حسین وجمیل عشق میں مبتلا رہا اور آج وہ فانی سی زندگی سے گزر کر،باقی، دائمی اور ابدی زندگی میں آسمانی رزق کریم سے لطف اندوز ہورہا ہے۔ مجھے یاد ہے جب یہ چھوٹا ساتھا تو ہم اسے گود میں اٹھالیا کرتے تھے۔تب ہی سے دل کہتا تھا کہ یہ بچہ جہاد کے لیے پیدا ہوا ہے، پھرفقیر کا یہ خیال درست نکلا اور پھر شہادت سے صرف اکیس دن پہلے اجتماع میں جب طلحہ سے ملاقات ہوئی تھی، تب بھی گوشہ دل میں ایک آواز اٹھی تھی کہ یہ تو جانے والا ہے لیکن اس کا اظہار زبان سے نہیں ہو سکتا تھا۔پھر وہ چلا گیااور اس کے جانے کا منظر ہم سب کے سامنے ہے۔آج ہم اسے بہت عمدہ جانے پر خراج عقیدت پیش کررہے ہیں اور اس کے اہل خانہ کو سعادت حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

محترم جناب بھائی رشید کامران صاحب کا یہ بندہ پر حق تھا کہ انہیں مبارکباد پیش کی جائے اور ان کی دعاؤں میں شمولیت اختیار کی جائے۔ ایک مسکین، محتاج فقیر کواگر شہید کے اہل خانہ اپنی مخلصانہ دعاؤں کے چند پھول عنایت فرمادیں گے، تو اسے بھی سعادت نصیب ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ طلحہ کی شہادت کو اعلیٰ درجہ میں قبول فرمائیں اور ہمیں بھی مقبول شہدآء کے قافلے میں عافیت کے ساتھ شمولیت سے محروم نہ فرمائے۔ آمین یاارحم الرّٰحمین۔

اللھم صل وسلم وبارک علیٰ سیدنا ونبینا محمد وآلہ وصبحہٖ اجمعین۔ آمین آمین۔ یا مجیب السائلین۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online