Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

ڈیجیٹل تصویر و ٹی وی کوسندجواز فراہم کرنے کے تدریجی مراحل (ابو الخیر عارف محمود)

ڈیجیٹل تصویر و ٹی وی کوسندجواز فراہم کرنے کے تدریجی مراحل

ابو الخیر عارف محمود (شمارہ 630)

تصویر کو جائز قرار دے کر ٹی وی چینل کے جواز کو سند فراہم کرنے کا عمل تدریجاً اختیار کیا گیا ہے ، شروع میں تمام علماء ٹی وی سے متعلقہ تمام امور حتی کہ اسے دیکھنے والے کی امامت کے عدم جواز اور اس کی مرمت کی اجرت کو بھی ناجائز وحرام کہتے تھے، جس کا واضح ثبوت اکابر کے فتاویٰ اور تصویر اور ٹی وی سے متعلق ان کے مضامین ہیں۔پھر یہ موقف اپنایا گیا کہ ڈیجیٹل کیمرے سے لی جانے والی تصویر کو تصویر کہنے میں تامل وتردد ہے ، پھر عرصے کے بعد یہ کہا گیا کہ اسکرین پر آنے والی تصاویر کی تین صورتیں ہیں کچھ جائز او رکچھ ناجائز ہیں ۔ پھر اس پر اعتراض ہوا کہ اکابر کے قدیم فتاویٰ کی تردید ہو جائے گی ، تو یہ موقف اپنایا گیا کہ اکابر کے سابقہ فتاویٰ کوسداً للذرائع برقرار رکھا جائے اور علمائے کرام کو ضرورت کی وجہ سے ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت کی اجازت دی جائے ، تو اب نئی تحقیق یہ پیش کی گئی ڈیجیٹل کیمرے کی تصویر تصویر ہی نہیں، نہ ہی شبیہ ہے ، بلکہ اشبہ بالعکس ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اجتہاد جدید کے مدعیین کی طرف سے ٹی وی اور ڈیجیٹل تصویر کو جائز قرار دینے کے بعد پرنٹ تصویر کو جائز قرار دیا جارہا ہے، اور اس اتفاقی مسئلہ کو مختلف فیہ بنانے کی غرض سے جلیل القدر ائمہ اور اکابر کو(( متشدد )) کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جارہاہے،(نعوذ باللہ من ذلک)، اور اکابر کے فتاوی کا حوالہ دینا یا ان کا نام لینا جرم باور کروایا جارہا ہے، دلیل کی دنیا میں ایک نئی دلیل کا اضافہ کردیا گیا ہے کہ چوں کہ اس نوع کا گناہ معاشرہ میں عام ہوچکا ہے اس لئے قول وعمل میں تطبیق کے لیے اسے جائز کہے بغیر چارہ نہیں ، جب عمل اس کے خلاف ہے تو صرف ناجائز کہنا کیسے ٹھیک ہوگا؟ اس بارے میں بلا تفریق اختیار واضطرار نظائر پیش کیے جارہے ہیں،  اور یہ سب کچھ دینی اور ملی جذبہ کے تحت کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے، آمین۔

 نئی مصیبت

دینی اور ملی جذبے کے تحت ہمارے اکابر اس طرح کی تحقیقات پیش کرسکتے تھے ، لیکن اﷲ جزائے خیر دے انہیں وہ سمجھتے تھے کہ جس مصیبت میں مصر والے مبتلا ہو گئے ہیں وہ بھی اسی طرح کی تحقیقات کا نتیجہ تھا ، اس کے برعکس ہمارے اکابر نے صاف اور واضح الفاظ میں ان مجتہدین کی تردید کی جنہوںنے مشینی ترقی کی وجہ سے چیزوں کے نام بدل کر ان کو جائز کر ڈالا۔

چناںچہ تصویر ہی کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اﷲ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں :  اس وقت ایک نئی مصیبت اس مشینی دور نے کھڑی کر دی کہ جو چیزیں پہلے دستی صنعت سے بنائی جاتی تھیں اب وہ مشینوں کے ذریعے پہلے سے زیادہ صاف ستھری او رجلد سے جلد بن کر تیار ہوتی ہیں ان مشینوں کے ذریعہ تیار ہونے والی چیزوں کے عموما نام بھی الگ رکھ دیے گئے ، جن چیزوں کو شریعت اسلام نے کسی خاص نام اور عنوان سے حرام کیا تھا اب وہ نام وہ عنوان نہ رہا ، تو کچھ لوگوں نے اس کو حیلہ جواز بنالیا۔

 ( تصویر کی شرعی احکام)

مشینی ترقی او رناموں کی تبدیلی سے احکام نہیں بدلتے

حضرت رحمۃ اﷲ علیہ کی اس تحریر اور دیگر تحریروں سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ مشینی ترقی او رناموں کی تبدیلی سے احکام نہیں بدلتے، اگر چہ کچھ لوگ مشینوں کی نت نئی شکلوں کے وجود میں آنے اور ناموں کی تبدیلی سے فائدہ اٹھا کر ان کے حکموں میں بھی تبدیلی کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔

شرعی فتوی کی پابندی سے کوئی ضروری مقصد فوت نہیں ہوتا

اسی بحث کے بالکل اخیر میں ارشاد فرمایا:  مسئلہ زیر بحث یعنی مسئلہ تصویر بھی اس عام ضابطہ سے خارج نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ ان شاء اﷲ اس رسالہ کے آخری باب میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ باوجود اس عالم گیر وباء کے جو تصاویر کی صورت میں پھیلی ہے اور بظاہر دنیا کا کوئی کام اس سے بچا ہوا نہیں ، لیکن اس وقت بھی اگر کوئی شخص شرعی فتوی کی پابندی کرنا چاہے تو اس کا کوئی ضروری مقصد فوت نہیں ہوتا۔ ( ایضاً)

اپنے دماغ کا علاج کراؤ

حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا کہ ٹی وی کے ذریعہ علماء کرام کی تقاریر ، نعتیں اورقرآن مجید کی تلاوت سنائی جاتی ہیں ، غرض یہ بڑوں اور بچوں کی تعلیم وتربیت کا بہترین ذریعہ ہے ، کیا ان فوائد کے پیش نظر ٹی وی رکھنا یادیکھنا شرعا درست ہے ؟ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا:  ٹی وی کی تباہ کاریاں کسی ذی ہوش انسان پر مخفی نہیں ،موجودہ معاشرے میں ٹی وی کا کردار دیکھتے ہوئے بھی کوئی شخص اس کے منافع گنوانے پر مصر ہے تو اس کی مثال اس احمق سے مختلف نہیں، جس کے سامنے آگ کا الاؤجل رہا ہے، اس کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور اس کی لَپٹ ارد گرد کی ہر چیز کو  جھلسائے دے رہی ہے ، عقل مند لوگ تو یہ منظر دیکھ کر دور دور بھاگ رہے ہیں ، مگر یہ ڈھٹائی سے کھڑا آگ کے منافع گنوارہا ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے : مجھے یا تو قائل کر وورنہ میں بیوی بچوں سمیت اس دہکتی آگ میں کود جاؤ ں گا، ایسے شخص کو کیا جواب دیاجائے ؟ سوائے اس کے کہ اپنے دماغ کا علاج کراؤ۔

چشم دید حقیقت

حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ کے فرمودات :

غرض ٹی وی کے مفاسد اور اس کی زیاںکاریاں کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں کہ دلائل کے ذریعہ اسے سمجھایا جائے، یہ ایک چشم دید حقیقت اور سامنے کی بات ہے کہ ٹی وی کی لعنت انسانی معاشرے کے صحت مند ڈھانچے کو ٹی بی کی طرح تلپٹ کیے جارہی ہے، مگر افسوس کہ اس کی رنگینیوں نے اچھے بھلے لوگوں کی نظروں کو خیرہ کر دیا ہے ۔

( احسن الفتاوی)

ٹی وی تو ہے ہی مجسمہ فساد

اس حوالے سے مزید تحریر فرماتے ہیں: اگر اسے عکس تسلیم کرکے ہم جائز قرار دیں تو خارجی مفاسد کی بناء پر ایک جائز کام بھی ناجائز ہوتا تو ہے اور ٹی وی تو ہے ہی مجسمہ فساد، اس کے تمام مفاسد سے آنکھیں بند کرکے اسے جائز کیسے قرار دیا جائے ؟ اگر خارجی مفاسد سے بھی قطع نظر کرتے ہوئے یہ فرض کر لیا جائے کہ براہ راست پیش کیے جانے والے مناظر عکس ( یا شبیہ بالعکس) ہیں اور پہلے سے فلمائے گئے مناظر تصویر، تو ہر ٹی وی بین ہر وقت یہ چھان بین کیسے کرے گا کہ اس وقت یہ پروگرام براہ راست نشر ہو رہا ہے یا اس کی فلم دکھائی جارہی ہے؟۔( احسن الفتاوی)

ناعاقبت اندیشی اور حقائق سے اعراض شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اﷲ خان صاحب قدس سرہ کی رائے

آخر میں ترجمان اکابر علمائے دیوبند، استاذ المحدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اﷲ خان صاحب قدس سرہ کی تحریر کو ذکر کرکے اپنی بات ختم کر دی جاتی ہے، ماہنامہ وفاق المدارس میں بعنوان ٹی وی اور چینل کی تباہ کاریاں اور شریعت اسلام میں ان کا عدم جواز حضرت تحریر فرماتے ہیں:

  خلاصہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تصاویر کو ممنوع تصویر کے زمرے سے خارج قرار دینا جیسا کہ بعض ناعاقبت اندیش اور حقائق سے منھ چھپانے والے نام نہاد امت مسلمہ کے خیر خواہ کہہ کر رہیں یہ ایک بدیہی او رسامنے موجود حقیقت کا انکار ہر گز قابل التفات نہیں ، ٹی وی جو منکرات وفواحش کا منبع ہے ، اس کو تبلیغ اسلام اور دفاع اسلام کے لیے استعمال کرنا ایساہی ہے جیسے کسی ناپاک برتن کو پاکیزہ اور خوش ذائقہ مشروب کے لیے استعمال کیاجائے۔

آج ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کے بجائے مغربی تہدیب کے زیر اثر فواحش ومنکرات کی طرف مائل ہو رہے ہیں ، عوام اور خود اپنے آپ کو دھوکا دے کر ٹی وی اور چینل (اب پرنٹ تصویر) کو اسلام کی تبلیغ او ردفاع اسلام کی خاطر استعمال کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں، یاد رکھیے! آپ جو چاہیں کہتے رہیں اور کرتے رہیں ، خدا وندتعالیٰ کو دھوکا نہیں دے سکتے ، اسلام کی تبلیغ اور اس کا دفاع آج ہی کا مسئلہ نہیں ہے یہ مسئلہ تو چودہ سو سال سے زیادہ زمانے سے ٹی وی اور چینل (اور تصویر)کے بغیر بڑی کام یابی سے جاری ہے۔ ( اور جاری رہے گا ان شاء ﷲ)

اﷲ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہر باطل کو باطل جان کر اس سے دور رہنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online