Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

مجھے کیوں نکالا؟ (ابو نظارہ عثمان)

مجھے کیوں نکالا؟

ابو نظارہ عثمان (شمارہ 631)

وہ بوتل میں بند تھا، بھلے مانس لکڑ ہارے کو آواز آئی مجھے باہر نکالو۔ اس نے ترس کھایا۔ مگر بوتل سے نکلتے ہی اس نے اپنے ریلیف دینے والے پر حملہ کر دیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم اتنے بڑے ہو کر ایک بوتل میں کیسے سما گئے؟ عقل تو اس میں تھی نہیں ۔ جب تکبر اور خود پرستی آ جایا کرتی ہے تو پھر عقل گھاس چرنے چلی جایا کرتی ہے۔ کہنے لگا میں ریلیاں نکالوں گا۔ میں سڑکوں پر آ کر تمہیں دکھاؤں گا۔ زمین و آسمان کے درمیان بس میں ہی میں ہوں گا۔ پھر تمہیں پتا چلے گا کہ میں کتنا بڑا ہوں۔ جمہوریت میرا ہی نام ہے۔ ایک سو گدھے مل کر بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ میں اپیل بھی نہیں کروں گا کیونکہ سپریم کورٹ کا فل بنچ تو چند ایک جج مل کر بنتا ہے اور میری ریلییاں مرکز ہیں میر ے گھر تک لاکھوں پر مشتمل ہوں گی۔ اب بتاؤ عقل بڑی کہ بھینس۔ بھینس کی ایک ٹکر سے عقل کی بلکہ عقل والے بڑے جج کی دھنائی ہو جائے۔ اسی لیے تو عقل و فہیم جج بھینس کو دیکھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔ اندر بند کمروں میں اپیلیں سنتے ہیں اور ان کمروں کے باہر ایک بڑی بلڈنگ ہوتی ہے جس کے چاروں طرف بندوق بردار محکمہ داخلہ اور محکمہ دفاع کے جوان الرٹ کھڑے ہوتے ہیں، ایسا نہ ہو کوئی بھینس اندر گھس آئے اور سید سجاد علی شاہ کی طرح چیف جسٹس سمیت پورے بینچ کو پچھلے کمروں میں گھس کر جان بچانا پڑے۔ آخر بھینس کی طاقت کس کو تسلیم نہیںپ ھر جب سو گدھے بھی اس کے ساتھ دوسری صف میں شامل ہو جائیں تو پورا بنچ ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔ ہاں تو ہم ریلی نکالیں گے اور سارے گدھے اور پنجاب کی ساری بھینسیں ہماری فرنٹ لائن پر ہوں گی… کہاں بھائی ہم تو صرف یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں بس ایک بات سمجھا دو، تم اتنی سی بوتل میں سما کیسے گئے؟ کہا بھائی زیادہ سوال جواب مت کرو ورنہ ہم قطر، دوبئی ، امارت، سعودیہ، ملائیشیا ، سوئزرلینڈ اور پانامہ کے بوتلوں میں چھپے ہوئے اپنے ہم منصب سب بھوتوں کی مدد طلب کر لیں گے۔ وہ سب ہماری آرزو پر چٹھیاں لکھ کر ہماری حمایت کا اعلان کر دیں گے۔ ہمیں معلوم ہے فل کورٹ ہو یا فل بنچ یہ کبھی ہمارے حامیوں کی حمایت تسلیم نہ کریں گے چاہے وہ اپنے اپنے علاقوں کے سارے گدھوں کو لے کر آ جائیں یا اپنی بھینسوں اور پگز کے ریوڑ لے کر آ جائیں۔ یہ لوگ پانچ ہوں یا دس، گدھوں اور بھینسوں والی حسین جمہوریت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ حالانکہ اقوامِ احمقوں نے ہم سے منوا رکھا ہے کہ ہم حسین جمہوریت کے حسن پر آنچ نہ آنے دیں گے۔

تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے یہ بتاؤ؟

’’ مجھے کیوں نکالا؟ … مجھے کیوں نکالا؟ … جلدی بتاؤ … مجھے کیوں نکالا؟ ‘‘

غور سے سنو۔پس منظر میں بچوں کی آواز بھی آ رہی ہے۔ جلدی بتاؤ

میرے بھینسوں اور میرے گدھوں کے سامنے بتاؤ؟ ’’ مجھے کیوں نکالا؟ …

نہیں بتاؤ گے تو میں اپنے دل اور دماغ کا آپریشن کرانے وہاں چلا جاؤں گا جہاں سے واپس کبھی کوئی نہیں آیا۔ ہاں ، جلدی بتاؤ ’’ مجھے کیوں نکالا؟ ‘‘ …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online