Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی عوام پر جاری جارحیت (اداریہ)

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی عوام پر جاری جارحیت

اداریہ (شمارہ 634)

کشمیر پر جب سے انڈین آرمی نے قبضہ کیا ہے تب سے شاید ہوئی کوئی دن ایسا ہوجب بھارتی افواج کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و تشدد نہ کیاجاتا ہو اور ہر کچھ عرصہ بعد کسی بھی بہانے کشمیری مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کردیاجاتا ہے۔

چنانچہ حال ہی میں ایک بار پھر شوپیاں کے علاقہ میں بھارتی افواج نے اندھادھند فائرنگ کرکے چھ کشمیریوں کو شہید کردیا ہے اور ان چھ اَفراد کی مظلومانہ شہادت کے بعد سے وادی کے بہت سے علاقوں میں ہڑتال جاری ہے اور حکام نے مظلوموں کے احتجاج کو کمزور کرنے اوراُن کی آواز دبانے کے لیے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے۔بتایاگیا ہے کہ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں حالات اُس وقت کشیدہ ہوگئے جب کھیتوں سے ایک کشمیری کی لاش برآمد ہونے کے بعد ایک کار سے تین شہریوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بھی ملیں۔اس واقعے کے خلاف جنوبی کشمیر کے شوپیاں، پلوامہ اور کولگام میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی ہے اور لوگوں نے جگہ جگہ مظاہرے کیے۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے ایک نجی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے جبکہ وادی میں واقعہ کیخلاف مزاحمتی خیمے کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی،واقعہ کے خلاف علاقے میں لوگ رات بھر سراپا احتجاج کرتے رہے، اس دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے، مشتعل مظاہرین کی بھارتی فورسز کے خلاف شدید نعرے بازی، قابض اہلکاروں پر پتھراو، بھارت فوج کا طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا۔یاد رہے کہ بھارتی افواج نے ان شہداء کو مجاہدین کا سہولت کار قرار دیا تھا تاہم مقامی لوگوں نے بھارتی فوج کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظلوماً قتل کیے جانے والے یہ تمام نوجوان عام شہری اور باہم دوست تھے ۔اس موقع پر مظاہرین اور فورسز میں پتھرائو، شلنگ، پیلٹ فائرنگ ہوئی، جس کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ شوپیاں کے علاقے پہنو میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی نماز جناہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مقبوضہ کشمیر میں عوام الناس کے اس قتل عام کے بعد بھارت کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانا چاہئے اور بھارت کا قبضہ وہاں سے ختم کرانے میں تحریک کشمیر کے کارکنان کی بھرپور پشت پناہی اور مددکرنا چاہیئے۔ اتنے واضح مظالم کے بعد خاموش رہنا اور ان مظلوموں کی پشت پناہی نہ کرنا اور ان کا حق دِلانے کے لیے ان کا دست و باز نہ بننا بہت ہی شرم کی بات ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر میں جیش محمدﷺ کے آپریشنل چیف کی شہادت

مقبوضہ کشمیر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جیش محمدﷺ کے آپریشنل چیف مفتی عبد المتین المعروف مفتی وقاص بھارتی افواج کے ساتھ ایک معرکے میں جام شہادت نوش فرما گئے،شہید مفتی عبدالمتین زمانہ طالبعلمی سے ہی جہاد کے سرگرم داعی تھے،تعلق آزاد کشمیر کے علاقے عباس پور سے تھا، کئی سالوں سے جہادی خدمات انجام دے رہے تھے ،کشمیر کے طول عرض میں ان کا جہادی نیٹ ورک قائم کیا،،پلوامہ، ترال میں بھارتی فوجی کیمپوں اور قافلوں پرکئی کامیاب تباہ کن حملے کئے،میڈیا ئی دعووں کے مطابق وقاص شہید سنجوال ملٹری کیمپ پر طوفانی فدائی یلغار کا ماسٹر مائنڈبھی تھا ،اور خصوصی فدائی دستے افضل گرو شہیدؒ سکوارڈ کے منتظم بھی تھے۔موصوف کئی سالوں سے کشمیر میں خدمات انجام دے رہے تھے، وادی کے تمام اضلاع میں انھوں نے اپنا جہادی نیٹ ورک پھیلا رکھا تھا.انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو عملی جہاد میں شریک کرنے کے لیے بڑا کردار اداکیا۔ اس کارروائی نے ہندوستان کے ایوانوں اور اداروں کو بری طرح لرزایادیا تھا اور بھارتی افواج اپنی اس ناکامی پر پوری دنیا میں رسوائی محسوس کررہی تھیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جیش محمدﷺ نے اپنے کمانڈر کی شہادت کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی شہادتوں سے تحریک آزادی کشمیر ختم نہ ہوگی بلکہ تحریک کا یہ سفر جاری رہے گا اور بھارت جتنا جلدی اس کا ادراک کرکے اپنا قبضہ چھوڑ دے اُتنااس کیلئے بہتر ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online