Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

اے تن درست! مستقبل تیرے لئے ہے (نشتر قلم۔زبیر طیب)

اے تن درست! مستقبل تیرے لئے ہے

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 634)

اکثر لو گ ورزش کے نام سے بر ی طر ح گھبرا تے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیا ل میں یہ نہا یت مشکل اور غیر دلچسپ کا م بلکہ مشقت ہے ۔ اگر ان سے ورزش کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ طر ح طر ح کے بہانے کر تے ہیں ۔ مثلا ً چوٹ لگنے کا ڈر ، جسمانی نقاہت یا کوئی اور عذر مثلا ً موسم کی خرا بی یعنی سر دی ہے یا بہت گرمی ہے ، تھکن کا بہا نا ، مصروفیا ت کا عذر اور کام کی زیا دتی وغیرہ ۔ یہ مانا کہ ورزش کے لیے دن کا بہت ہی تھوڑا سا وقت ضرور صرف ہو تاہے لیکن غور کر نا چا ہیے کہ یہ تھوڑا سا وقت زندگی بھر کتنے فوائد اور بر کتیں لا تا ہے ۔ یہ زندگی بھر کام آتا ہے ۔ بعض لوگو ں کا یہ خیال بھی ہے کہ ورزش کرنے سے جسم میں درد ہو تا ہے اور پسینا بہت آتا ہے ۔ اگر ورزش ڈھنگ سے اور با قاعدہ کی جائے تو نہ صرف یہ صحت کے لیے بہت مفید ہے بلکہ یہ جسمانی فرحت اور لطف و تا زگی کا باعث ہو تی ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو ورزش کا مقصد جسم کو چست رکھنا ہے۔ گو یا یہ زندگی ، فطرت اور جسم کی ایک قدرتی حالت ہے ۔ چلنا پھر نا ، دوڑنا ، کھیلنا ، تیرنا ، کو دنا ، اچھلنا اور محنت کرنا نیز وزن اٹھانا زندگی کے صحت مند معمولا ت ہیں اور یہی بس ورزش ہے ۔ فر ق صرف جسم کو بہتر طور پر تیا ر اور چست رکھنے کا ہے ۔

ورزش ہانپنے اور پسینہ بہانے کا نا م نہیں ۔ اسے آپ دلچسپ بھی بنا سکتے ہیں ۔ یہ ہلکی پھلکی ورزشیں آپ کی پسند کی ہو سکتی ہیں اور آپ ان میں سے کسی کا انتخا ب کر سکتے ہیں ۔ ان کو آپ بطور تفریح یا کھیل بھی اپنا سکتے ہیں ۔ورزش کا ایک بڑا اور عام فائدہ شر یا نو ں میں خون کی صاف او ر بلا رکاوٹ روانی ، قلب اور پھیپڑوں کی صحت اور عمدہ کا ر کر دگی ، ہڈیو ں کی مضبو طی ، نظام ہضم کی فعالیت اور جسمانی نشو ونما ہے ۔

پرائمری سے ہائی سکول تک ہم ایک مضمون صبح کی سیر پڑھتے رہے ہیں۔ وہ دور اچھا تھا سکول کا ’’ڈرل ماسٹر‘‘ جسے پی ٹی کہتے تھے سکول میں ورزش کا انچارج ہوا کرتا تھا۔ ہر کلاس کا ایک پیریڈ ورزش کیلیے مخصوص ہوتا تھا اور اس آدھے گھنٹے میں پی ٹی کبھی پوری کلاس کو گراؤنڈ کا چکر لگواتا اور کبھی کوئی کھیل کھلاتا۔ اگر گرمی زیادہ ہوتی تو درخت کی چھاؤں میں جنگ کی کہانیاں سنایا کرتا۔ پھر مختلف کھیل طالبعلموں کو کھلائے جاتے اور اس طرح  ہر کوئی کسی نہ کسی کھیل کا حصہ بنا رہتا۔ ہاں جو طلبا زیادہ پڑھاکو ہوتے تھے وہ ورزش سے دور رہتے تھے۔ لیکن جونہی عملی زندگی کا وقت آیا، سب نے کھیل ترک کردیے اور ان کے متبادل کے طور پر کوئی ورزش شروع نہیں کی۔ اگر کسی کو ورزش کا زیادہ شوق چرایا تو اس نے صبح کی سیر شروع کردی وہ بھی شادی کے بعد جاری نہ رہ سکی۔ ورزش سے دوری کے بعد شادی شدہ عملی زندگی میں مگن دوستوں کی توندیں نکلنا شروع ہوگئیں اور وہ دنوں میں نوجوان لڑکے سے ادھیڑ عمر کے بوڑھے نظر آنے لگے۔ جن لوگوں نے خوراک کا خیال رکھا اور ورزش جاری رکھی ان کی صحت پر توند والے دوست رشک کرنے لگے۔ کبھی کبھی دوستوں کو ورزش کا جوش آتا مگر پانی کے ابال کی طرح چند دن میں ٹھنڈا پڑ جاتا۔ ورزش نہ کرنے والے مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے اور ورزش کرنے والے چاک و چوبند رہے۔ ورزش نہ کرنے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ دوست یا تو بیمار رہنے لگے یا پھر انتہائی ناکارہ ہو گئے ۔ ورزش کے فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ اگر آپ کو ان کی اہمیت کا احساس ہوجائے تو آپ کبھی بھی ورزش ترک نہ کریں۔ ورزش سے آپ ڈیپریشن پر قابو پاسکتے ہیں۔ آپ کا دماغ صحت مند رہتا ہے۔ آپ کے اعضا زیادہ دیر تک آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ بلکہ آپ کی جسمانی طاقت بھی ساری عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے۔ اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو کسی بھی مشقت والے کام سے آپ کا جسم تھکتا نہیں ہے اور نہ ہی آپ کا سانس پھولتا ہے۔ اگر آپ ورزش نہیں کرتے تو پھر آپ کو چند کلو وزن بھی اٹھاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔ ہمارے پرانے بزرگوں نے اسی لیے لمبی اور صحت مند عمریں پائیں کیونکہ وہ ساری عمر محنت مشقت کرتے رہے۔ آج اگر لوگ ورزش کیلیے سائیکل چلاتے ہیں تو وہ کام پر جانے کیلیے سائیکل استعمال کیا کرتے تھے۔ آج اگرصبح کی سیر پیدل ہوتی ہے تو وہ روزانہ کام پر پیدل جایا کرتے تھے۔ وہ لوگ زمینداری جیسے محنت والے کام کرتے اور ہٹے کٹے رہتے۔ آج ہم لوگ دفتروں میں محصور ہو چکے ہیں اور ہمارا معمول دفتر سواری پر جانا، واپس آکر کھانا کھانا اور پھر لیٹ جانا۔ جو وقت بچ گیا وہ کمپیوٹر پر بیٹھ گئے۔ اس طرح اب کھلے میدان کے کھیل کم ہوتے جارہے ہیں اور لوگ ورزش چھوڑ چکے ہیں۔جس کی وجہ سے اب نہ تو عبادت میں رغبت والا ماحول ہے اور نہ ہی کسی صحت مند تفریح کا رجحان۔

اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہولعب سے اِعراض ہو ۔یہی وہ زندگی ہے جو اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل غفلت و بے پرواہی ہو وہ کفار کا شعار ہے۔ اسلام کامل ومکمل شریعت اور اعتدال پسند مذہب ہے، ہر چیز میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے، اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں؛ جس میں تفریحِ طبع اور زندہ دلی کی کوئی گنجائش نہ ہو؛ بلکہ وہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو بروئے کار لانے والا مذہب ہے۔ اس میں نہ تو خود ساختہ رہبانیت کی گنجائش ہے، نہ ہی بے ہنگم تقشف اور جوگ کی اجازت ہے۔ آسانی فراہم کرنا اور سختیوں سے بچانا شریعت کے مقاصد میں داخل ہے۔اسلام آخرت کی کامیابی کو اساسی حیثیت دیتے ہوئے، تمام دنیاوی مصالح کی بھی رعایت کرتا ہے، اس کی پاکیزہ تعلیمات میں جہاں ایک طرف عقائد، عبادات، معاشرت ومعاملات اوراخلاقیات وآداب کے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، وہیں زندگی کے لطیف اور نازک پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اقوامِ یورپ کی طرح پوری زندگی کو کھیل کود بنادینا اور زندگی برائے کھیل کا نظریہ اسلام کے نقطئہ نظر سے درست نہیں ہے؛ بلکہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے، اخلاقی حدود میں رہ کر کھیل کود، زندہ دلی، خوش مزاجی اور تفریح کی نہ صرف یہ کہ اجازت ہے؛ بلکہ بعض اوقات بعض مفید کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو پسندنہیں کرتا؛ بلکہ چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔ یہ عمل انقباض اور تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو، کیوں کہ سستی اور تنگ دلی کے ساتھ عبادات کو انجام دینا نفاق کی علامت ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَاِذَا قَامُوْا الٰی الصَّلوٰۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ (النسائ) (کہ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں؛ تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، سستی اور کاہلی بے جا فکرمندی اتنی ناپسندیدہ چیز ہے کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور سے پناہ مانگی ہے۔

اس لئے اسلام نے ہمیشہ ان کھیلوں کو مستحب قرار دیا ہے جس میں جسمانی ورزش اور چست و توانائی حاصل ہوتی ہے۔ ذیل میں چند کھیلوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو شریعت کے ہاں پسندیدہ ہیں:

(۱)تیراندازی اور نشانہ بازی:اصول شریعت کی روشنی میں مروّجہ کھیلوں میں مندرجہ کھیل مستحب اورپسندیدہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے بعض کی اہمیت وجوب تک پہنچ جاتی ہے۔ نشانہ بازی (چاہے وہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ احادیث میں اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے؛ یوں کہ یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع اور ملکی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ کھیل جہاں جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں، مثلاً بھیڑ کے وقت یا جہاد کے موقع پر دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے: وَاَعِدُّو لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ (الانفال) کہ اے مسلمانو! تمہارے بس میں جتنی قوت ہو، اسے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھو۔ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوۃ کی تفسیر رمی (تیراندازی) سے کی ہے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ألاَ أَنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ۔ یعنی خبردار قوۃ پھینکنا ہے۔ (مسلم، مشکوٰۃ )

 ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا: بے شک ایک تیر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تین افراد کو جنت میں داخل کردیتا ہے۔ ایک تیر بنانے والا، جبکہ وہ تیر بنانے میں ثواب کی نیت رکھے۔ دوسرا تیر پھینکنے والا اور تیسرا پکڑنے والا، پس اے لوگو! تیر اندازی سیکھو (سنن دارمی، مشکوٰۃ )۔

(۲)سواری کی مشق: یہ کھیل بھی اسلام کا پسندیدہ کھیل ہے، اس سے بھی جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرأت اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفر میں اور جہاد میں بھی خوب کام آتا ہے، اگرچہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کا ذکر آیا ہے، مگر اس میں ہر وہ سواری مراد ہے؛ جو جہاد میں کام آسکے۔جہاد کے اس اعلیٰ مقصد کے پیش نظر جو شخص گھوڑا پالے اس کے لیے بڑی بشارتیں ہیں۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑے باندھ کر رکھا، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے وعدہ کی تصدیق کرتے ہوئے، تو اس گھوڑے کا تمام کھانا پینا حتی کہ گوبر، پیشاب، قیامت کے دن اس شخص کے نامہء اعمال میں نیکی کے طور پر شمار ہوگا۔ (بخاری، مشکوٰۃ)

(۳)دوڑلگانا: اپنی صحت اور توانائی کے مطابق، ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماء اور ڈاکٹر متفق ہیں۔ احادیث سے بھی اس کا جواز؛ بلکہ استحباب مفہوم ہوتا ہے۔ رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ کی یاد سے تعلق نہ رکھنے والی ہر چیز لہوولعب ہے، سوائے چار چیزوں کے: (۱) آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا (۲) اپنے گھوڑے سدھانا (۳) دونشانوں کے درمیان پیدل دوڑنا (۴) تیراکی سیکھنا سکھانا۔ (کنزالعمال )

پیدل دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابۂ کرامؓ عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ پیدل دوڑ میں مثالی شہرت رکھنے والے صحابی حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کہتے ہیں: کہ ہم ایک سفر میں چلے جارہے تھے، ہمارے ساتھ ایک انصاری نوجوان بھی تھا، جو پیدل دوڑ میں کبھی کسی سے مات نہ کھاتا تھا، وہ راستہ میں کہنے لگا، ہے کوئی؟ جو مدینہ تک مجھ سے دوڑ میں مقابلہ کرے، ہے کوئی دوڑ لگانے والا؟ سب نے اس سے کہا: تم نہ کسی شریف کی عزت کرتے ہو اور نہ کسی شریف آدمی سے ڈرتے ہو۔ وہ پلٹ کر کہنے لگا ہاں! رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ میں نے یہ معاملہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھتے ہوئے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے کہ میں ان سے دوڑلگاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے، اگر تم چاہو، چنانچہ میں نے ان سے مدینہ تک دوڑلگائی اور جیت گیا۔ (صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرؓکا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ اور زبیربن العوامؓ میں دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ حضرت زبیر آگے نکل گئے، تو فرمایا: رب کعبہ کی قسم میں جیت گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ دوڑ کا مقابلہ ہوا، تو حضرت فاروقؓ آگے نکل گئے، توانھوں نے وہی جملہ دہرایا: ربِ کعبہ کی قسم میں جیت گیا۔ (کنزالعمال )

(۴)نیزہ بازی: نیزہ زنی اور بھالا چلانا ایک مستحسن کھیل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے۔ جب کہ کچھ حبشی نیزوں کے ساتھ مسجد کے باہر صحن میں نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپارہے تھے اور میں آپ کے کان اور کندھوں کے درمیان حبشیوں کو کھیلتے دیکھ رہی تھی۔ (صحیح بخاری)

(۵)تیراکی: تیرنے کی مشق ایک بہترین اور مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضا وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے۔ اس سے جہادی تربیت کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے؛ کیوں کہ کسی بھی جنگ میں ندی نالے، تالاب اور دریا کو عبور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ ایک طبعی امر ہے۔ آج کل کی جنگوں میں سمندر کی ناکہ بندی کو دفاعی نقطئہ نظر سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا تیراکی جہاں تفریحِ طبع اور جسمانی ورزش کا عمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی ودماعی فوائد کا حامل بھی ہے۔ اسی لیے رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا بہترین کھیل تیراکی ہے اور عورت کا بہترین کھیل سوت کاتنا۔ (کنزالعمال)

اسی لیے صحابۂ کرامؓ نہ صرف یہ کہ تیراکی کے ماہر تھے بلکہ بسا اوقات تیراکی کا مقابلہ بھی کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہم حالتِ احرام میں تھے کہ مجھ سے حضرت عمرؓ کہنے لگے آؤ! میں تمہارے ساتھ غوطہ لگانے کا مقابلہ کروں، دیکھیں ہم میں سے کس کی سانس لمبی ہے (عوارف المعارف للسہروردی)

(۶)کُشتی اورکبڈی: اس کھیل میں ورزش کا بھرپور سامان ہے۔ اگر ستر کی رعایت اور انہماک کے بغیر کھیلا جائے، تو جائز ہوگا؛ بلکہ نیک مقصد کے لیے مستحسن قرار دیاجائے گا۔ عرب کا ایک مشہور پہلوان رُکانہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی ٹھیرائی، تو آپ نے اس کو کشتی میں بچھاڑ دیا۔ (ابوداؤد فی المراسیل)

 مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث وآثار سے ثابت ہیں، اس لیے ان کے جواز بلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔

افسوس کہ آج ہماری امت عجیب و غریب کھیلوں میں مبتلا ہے جس میں نہ دنیاوی کوئی فائدہ ہے اور نہ آخرت کا۔

جیسے کبوتر بازی، پتنگ بازی، تاش بازی، باکسنگ فائٹنگ،بیلوں کے ساتھ کشتی ( بل فائٹنگ)، کیرم بورڈ، تمام کمپیوٹر ویڈیو گیمز، لوڈو، تصویر سازی وغیرہ

 یاد رکھیں ! کہ جسمانی وزرش اور تفریحی کھیل ہمارے مستقبل کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ ہم ان سے جس قدر غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں یہ ہمارے لئے کس قدر خوفناک ثابت ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

ایک ادیب نے کیا ہی خوب کہا ہے:

’’اے تن درست! مستقبل تیرے لئے ہے۔‘‘

تو آج سے ہی صحت مندانہ ورزش کا آغاز کر دیں، نیک نیت اور مستقل مزاجی کے ساتھ۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے بچوں کو اس کا عادی بنائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online