Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

پسند، نا پسند کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو (دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم)

پسند، نا پسند کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو

دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 634)

فرمایا: اے اہل اسلام! سن لو، یہ قتال بظاہر تمہیں ناگوار ہو گا مگر بسا اوقات ایسا ہوا کہ اگر تم نے کسی چیز کو ناپسند کیا اور وہ تمہارے لیے سراپا خیر ہوئی۔ جب کہ بسا اوقات ایسا ہوا کہ ایک چیز تمہیں پسند آئی اور وہی تمہارے لئے بُری ثابت ہوئی۔ اے اہل ایمان! کراہت اور خیر کا اصل علم اللہ کو ہے۔ وہی خالقِ خیر و شر ہے ، اسی نے اِعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد فرض کیا ہے۔ اگر جہاد نہیں ہو گا تو بدی کی قوتیں غالب آ جائیں گی۔ اِسلام سلامتی کا دین ہے ، اِسلام اور اِیمان میں ہی اَمن اور سلامتی ہے اور یہی چیز اللہ اور رسول کو محبوب ہے اور فطری طور پر انسان امن اور سلامتی کا خواہش مند ہے مگر بَدی کی قوتیں اس دنیا میں برابر موجود ہیں۔ جہاد کے صرف لفظ ہی کو سن کر بَدی کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے، تمہارا رب اللہ ( اِن چھپے حقائق کو) جانتا ہے۔ تم نہیں جانتے۔ تمہاری خیر بس اسی پر موقوف ہے کہ تم اس کی بتائی باتوں  پر یقین کر لو۔

اگر کسی جگہ اسلامی فرائض ادا کرنے سے روک دیا گیا ہو اور وہاں اہل اسلام جنگ میں ہوں اور تبلیغ و جہاد کی کوئی صورت نہ ہو تو وہاں سے ہجرت کی جائے جیسے رسول اور اصحاب رسول علیہ و علیہم الصلوۃ و السلام نے مکہ مکرمہ چھوڑ دیا تھا۔ اللہ نے قوت دی اور جہادی مواقع میں فرشتوں کی جماعتیں بھیج کر نصرت فرمائی پھر تمام باطل قوتیں پسپا ہوئیں۔ اِسلامی نظم قائم کرنے کی غرض سے معمولی جزیہ عائد کیا گیا یعنی جن لوگوں نے بخوشی دین اسلام قبول نہ کیا ، تو انہیں مجبور بھی نہیں کیا گیا البتہ ان کی حفاظت اور انتظامی خدمات کے لئے ان سے بالکل تھوڑا مال لیا گیا اور اگر کوئی غیر مسلم نہ آمادۂ اسلام ہوا نہ اس میں جزیہ دینے کی سکت تھی، اس کو جزیہ بھی معاف کیا گیا بلکہ اسلامی قلمرو میں یہودی و نصرانی مساکین کو بھی زندگی کے سہارے کے لئے اسلامی بیت المال سے مالی مدد دی جاتی رہی۔

اِس آیت سے ہر مسلمان پر قتال فی سبیل اللہ نماز، روزہ کی طرح فرض معلوم ہوتا ہے جبکہ بعض دوسری آیات سے اور بعض احادیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر ہر وقت قتال فرض عین نہیں ہے۔ فقہائے اسلام نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ بعض حالات  میں جہاد فرض عین اور عام حالات میں فرض کفایہ ہے۔

اَنوار البیان میں لکھا ہے کہ کافروں سے جنگ کرنا جارحانہ بھی مشروع ہے اور دافعانہ بھی۔ یہ بھی لکھا کہ جہاد اپنے عمومی معنی میں ہر محنت اور کوشش کو شامل ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ہو۔

 سنن ابی داؤد میں لکھا ہے

’’کہ مشرکین سے اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ جہاد کرو ‘‘

اس حدیث سے مسلمانوں پر ہر قسم کا جہاد باقی رکھنا لازم ہے۔ امام ابو حنیفہ ، صاحبین ، امام مالک اور دیگر فقہائے امصار کا قول ہے کہ جہاد قیامت تک فرض ہے۔ عام حالات میں فرض کفایہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس میں مشغول رہے گی تب باقی مسلمانوں کو اس کے ترک کرنے کی گنجائش ہو گی۔

 امام ابو بکر جصاص لکھتے ہیں کہ امت میں کسی کا بھی قول نہیں ہے، کہ جب کسی علاقہ میں مسلمانوں کو اپنی جانوں کے قتل ہونے اور اپنے بال بچوں کے قید ہونے کا خوف ہو تو دوسری علاقے کے مسلمانوں کو ان کی مدد چھوڑ کر گھر بیٹھنا جائز ہو…

اب مرکز اسلام کا اس کی فکر نہ کرنا باعث رنج ہے اور کلمہ اسلام کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست کا صلیبی قوتوں کا ہر اول دستہ بننا اور نان نیٹو پارٹنر بننے پر فخر کرنا کتنا باعث تعجب ہے جبکہ ذکر ہوا کہ کہیں بھی مسلمان مظلوم ہو، اس کی مدد تمام اہل اسلام پر فرض ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online