Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

قرب الٰہی کیلئے اسلام کا حقیقی ضابطہ (امیر افضل اعوان)

قرب الٰہی کیلئے اسلام کا حقیقی ضابطہ

امیر افضل اعوان (شمارہ 634)

اسلام دنیا کو دارفانی قرار دیتے ہوئے انسان کی مکمل راہنمائی کے ساتھ ساتھ اسے دنیا میں زندگی  بسر کرنے کے لئے ایک مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے، یہاں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کی کسی بھی چیز یا فرد کو دوام نہیں بلکہ یہاں آنے والے ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن یہاں سے رخصت ہوجانا ہے اور آئندہ آنے والی ابدی زندگی میں یہاں بسر کئے گئے روز و شب ، اعمال و افعال کی بنیاد پر ہی سزا اور جزاء سے نواز جائے گا، دنیاوی زندگی کے حوالہ سے قانون قدرت ہے کہ اسی قوم یا ملت کو عروج و کمال سے سرفراز کیا جاتا ہے جو کہ ثابت قدمی سے خود کو اس لائق ثابت کرئے، اس حوالہ سے کچھ خاص اسباب و عوامل ہیں کہ جن کا  اختیار کرنا کسی بھی قوم و ملت کے لئے ضروی ہے اور ان میں کلمہ طیبہ کی صورت میں کئے جانے والے عہد نبوی سے وفایعنی توحید الٰہی اور محمد مجتبیٰ  ﷺ کی لائی ہوئی شریعت سے محبت اور اس کا عملی اظہار سرفہرست ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ پاک کی مدد و نصرت صرف اسی صورت میں میسر آتی ہے کہ افراد امت توحید پر کاربند ہوجائیں، تعلیمات محمدی  ﷺ کو شعار بنالیںاور شرک و معاصی سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرلیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوںاور تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کوئی شخص، قوم یا ملت توحید پر کاربن ہوئی تو نصرت خداوندی اس کی ہم رکاب رہی اور جب اللہ پاک کی نصرت و مدد میسر ہو تو پھر دنیا کی ساری قوتیں بھی ایک جانب ہوجائیں تب بھی کوئی آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتا اور نہ ہی آپ کو کسی چیز کی کمی کا احساس ہوگا۔

قانون فطرت کے مطابق جب کوئی توحید کو اپنا اوڑھبا، بچھونا بنا لے تو قرآنی وعدوں کے مظاہر بھی بچشم خود دیکھے جاسکتے ہیں، پھر نہ تو دشمن کے ہتھکنڈے کسی کام کے رہتے ہیں اور نہ ہی اغیار کی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ مسلمانوں پر غلبہ پاسکتا ہے، نصرت خداوندی کے حوالہ سے قرآن کریم میں فرمایا جارہا ہے کہ ’’ مدد تو اللہ کی طرف سے ہے جو غالب و حکمت والا ہے‘‘ سورہ آل عمران، آیت126، یعنی اللہ پاک کے سوا کسی کی مدد کوئی معنی نہیں رکھتی اور مددتو صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہی ہے ،قرآن مجید میں دنیاوی قوتوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کفارکے حوالہ سے بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا جارہا ہے کہ ’’(کافر تمہارے خیرخواہ نہیں) بلکہ تمہارا خیرخواہ تو اللہ ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے‘‘ سورہ آل عمران، آیت150،اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور مقام پر مزید واضح کردیا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی مدد کرنے والا ہے کہ نہیں، ’’اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کیا کریں گے وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے‘‘ سورہ الاعراف، آیت197، اس معاملہ کی حقیقت سے پردہ کشائی کرتے ہوئے اللہ پاک خود ارشاد فرماہیں کہ ’’اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیںبے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے، اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے‘‘ سورہ آیت160، اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا جارہا ہے کہ ’’بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں‘‘ سورہ النحل، آیت128، غور فرمائیے کہ ان آیات قرآنی میں ایک آفاقی سچائی اور قانون قدر کو کس قدر وضاحت کے ساتھ پیش کردیا گیاکہ کہیں بھی کسی شخص کے لئے کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔

دنیا کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں اللہ رب العزت نے عہد وفا نبھانے والوں کو ہمیشہ اپنی مدد ونصرت سے سیراب کیااور دونوں جہانوں میں کامیابی اور کامرانی ان کا مقدر بن گئی جب کہ اس عہد سے روگردانی کرنے والوں کودنیانے اپنے قدموں تلے روندھ ڈالا اور ان میں سے بیشتر کا تو نام بھی داستانوں میں باقی نہیں اور جن کا ذکر تاریخ میں موجود ہے انہیں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا گیا، اللہ پاک سے عہد وفا نبھانے اور دین پر کاربند رہنے والوں بارے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں جو بھلے کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں، وہ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں، جن پر اللہ رحم فرمائے گا بلاشبہ اللہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے‘‘ سورہ التوبہ، آیت71، اسی باب میں ایک اور مقام پر فرما گیا ہے کہ ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا‘‘ سورہ محمد، آیت7، اس آیت مبارکہ میں اس ازلی قانون فطرت کی وضاحت کردی گئی کہ اگر دین کے راستے پر ثابت قدمی سے کاربند رہا جائے گا تو نصرت خداوندی کچھ دور نہیں ، اس حوالہ سے یہ بھی فر مایاگیا ہے کہ ’’جو اللہ کی مدد کرے گا  اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے‘‘سورہ الحج، آیت40، اللہ پاک اپنی نصرت کے حوالہ سے اہل ایمان اور دیگر اقوام و افراد کی تفریق واضح کرتے ہوئے ارشاد فرما ہے کہ ’’ بلاشبہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور پرہیزگاروں کا دوست اللہ ہے‘‘ سورہ الجاثیہ، آیت19، اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا جارہا ہے کہ ’’ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے ‘‘سورہ الروم، آیت47، غور فرمائیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے از خود مومنوں کی مدد کو اپنے اوپر لازم قرار دیدیا ہے اور اگر نصرت خداوندی نصیب بن جائے تو بھلا کسی اور بات یا چیز کی ضرورت ہی کب باقی رہتی ہے۔

قرآن پاک میں کامیابی و کامرانی کا نسخہ کیمیا بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ پاک کی نصرت کے بغیر کامیابی کا کوئی تصور نہیں اور اللہ پاک کی مدد صرف دین حق پر کاربند رہنے سے ہی میسر آئے گی اور وہ جنہوں نے اس امر کو جھٹلایا ان کے لئے درد ناک عذاب کی خبر دی گئی ہے، اس حوالہ سے اللہ پاک کا فرمان ہے کہ ’’ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کے لیے کوئی سفارش قبول ہو گی اور نہ اس کی طرف سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘سورہ البقرہ، آیت48،اسی حوالہ سے ایک اور مقام پر فرمایا جارہا ہے کہ ’’جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ (بھی اپنا ایک) گھر بناتی ہے، اور بلاشبہ مکڑی کا گھر سب گھروں سے زیادہ بودا ہوتا ہے، کاش انھیں (اس حقیقت کا) علم ہوتا‘‘ سورہ العنکبوت، آیت41، اللہ حاکم و خالق حقیقی کی طاقت ، قوت اور اختیا ربارے ایک جگہ کہا جارہا ہے کہ ’’آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست اور مددگار نہیں‘‘ سورہ التوبہ، آیت116، روز آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت بارے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے، اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہونگے‘‘ سورہ غافر، آیت51، منکرین کے حوالہ سے بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ ’’اور انہیں کہا جائے گا، آج ہم تمہیں ایسے ہی بھلا دیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار بھی نہیں‘‘ سورہ الجاثیہ، آیت34، ان آیات مبارکہ میں دنیا و آخرت میں اللہ پاک کی نصرت بارے تفصیلی بیان کردیا گیا تاکہ اس سے راہنمائی لے کر انسان اپنی دنیا و آکرت کو سنوار سکے۔

اسلام میں نصرت خداوندی کو ز مین میں اصلاح اور مومنوں کی امداد سے مشروط کیا گیا ہے ، اس حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں مذکور ہے ’’حضرت انسؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا کہ اپنے ظالم یا مظلوم بھائی کی مدد کرو، ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول  ﷺ!میں تو جب کوئی مظلوم ہوتا ہے اس کی مدد کرتا ہوں، تو فرمائیے کہ ظالم کی مدد کس طرح کروں، آپ  ﷺنے فرمایا کہ تو اسے ظلم کرنے سے روک دے یہی اس کی مدد ہے‘‘(صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث1879 )

رسول کریم  ﷺ نے بارہا مسلمانوں کی امداد پر زور دیا ،  ایک اورحدیث پاک میں ’’اسماعیل بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓاور حضرت ابوطلحہ بن سہل الانصاریؓ دونوں کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو رسوا کرے ایسی جگہ کہ جہاں اس کی عزت و حرمت لوٹی جارہی ہو اور اس کی آبرو کم کی جا رہی ہو مگر یہ کہ اللہ اسے ایسے موقع پر رسوا فرمائیں گے جہاں وہ اس کی مدد چاہتا ہوگا اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی مسلمان کی مدد کرے ایسی جگہ جہاں اس کی عزت کم کی جارہی ہو، اور اس کی آبرو لوٹی جارہی ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی ایسے مقام میں مدد فرمائیں گے جہاں وہ اللہ کی مدد چاہتا ہوگا‘‘ سنن ابوداؤد، جلد سوم، حدیث1479، غور فرمائیے کہ کسی مسلمان کی امداد کی کس قدر اہمیت بیان کی گئی ہے۔

ایک اور حدیث پاک میں اس حوالہ سے منقول ہے ’’حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے لہذا وہ اس کے ساتھ خیانت کا معاملہ نہ کرے، جھوٹ نہ بولے اور اسے اپنی مدد ونصرت سے محروم نہ کرے، ہر مسلمان کی دوسرے مسلمان پر عزت، ومال اور خون حرام ہے، تقوی یہاں ہے یعنی دل (آپ  ﷺ نے اشارہ کیا) کسی شخص کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے‘‘(جامع ترمذی)

ان آیات و احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ اللہ پاک کی مدد شامل حال نہ ہو تو دنیا و آخرت میں کامیابی کا کوئی تصور نہیں اور مسلمانوں کا توحید الٰہی کو اپنا کر شریعت محمدی  ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں صحابہ کرام کی طرح اپنانا ہی اس دونوں جہانوں میں کامیابی کا ضامن ہے،دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے دین حق پر کاربند رہتے ہوئے صرط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے اور کبھی بھی اپنی مدد سے محروم نہ رکھے، آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online