Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

شام جل رہا ہے…تو ہم کیاکریں؟؟ (امداداللہ سعدی)

شام جل رہا ہے…تو ہم کیاکریں؟؟

امداداللہ سعدی (شمارہ 635)

ہم مسلمانوں پر کتنے سخت حالات آئے رہتے ہیں،کبھی برما میں اہل ایمان کے ساتھ وحشیانہ سلوک،توکبھی اہلِ حلب پر ظلم و جبر کے ٹوٹتے پہاڑ،کبھی اہل کشمیر میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ، توکبھی فلسطین والوں پر ظلم و تشدد، کبھی دنیا کے کسی خطے میں مسلمانوں کا قتل عام،تو کبھی کہیں ظلم کی تاریک شام۔

آج کل اہل شام کے ساتھ یہ خونی ہولی کھیلی جا رہی۔ایسے میں ہم بحیثیت مسلمان کیا کر سکتے ہیں؟

یہ تو بات سچ ہے، بلکہ بڑا المیہ ہے کہ ہم عملی طور پر ان کے دست و بازو نہیں بن سکتے، ظالموں سے ان کا نقد انتقام نہیں لے سکتے، تو آخر ہم کچھ کر بھی سکتے ہیںکہ اپنے اسلامی و ایمانی رشتے کا ثبوت دے سکیں،اپنے کلیجے میں لگی آگ بجھا سکیں،اپنے زخمی دل پہ مرہم لگا سکیں،تن بدن میں لگی آگ بجھا سکیں،اس ظلم و ستم کے آگے کوئی آہنی دیوار قائم کر سکیں،مسلمانوں کے قتلِ عام کا سدِ باب کر سکیں۔’’اَنصار‘‘ بن کر ان کی مدد کر سکیں،جس کے وہ سخت محتاج اور خواہش مند ہوتے ہیں۔

تو آئیے دیکھتے ہیںکہ عموماً کسی کی مدد کرنے کے کیا کیا راستے ہوتے ہیں،توایک تویہ ہے کہ عملی اور جسمانی طور کسی حاجت مند کا ساتھ دیا جائے،اُس کے دست و بازو بنا جائے۔ دوسرا مالی طور پر اُس محتاج کی مدد کی جائے۔ تیسرا ایسے مشوروں اور آراء کے ذریعے اُس کی راہنمائی، جن کو اپنا کر وہ معذوری اور محتاجی سے نکل سکے۔ چوتھا یہ کہ کسی ایسے شخص کو ترغیب دلائی جائے جو اس مجبور کی اعانت و نصرت کر سکے۔ پانچواں ترہیب کے ساتھ وہ ذریعۂ محتاجی ختم کیا جائے، یعنی جس کی وجہ سے اور جس کی طرف سے مجبور و مقہور اور مظلوم شخص کو پریشانی لاحق ہے، اسے سمجھا بجھا کر اس کا ہاتھ روکا جائے۔

چھٹا اور آخری ذریعہ یہ ہے کہ اس کے لیے نیک خواہشات رکھی جائیںاور اس کے لیے دعا کا بہت زیادہ اہتمام کیا جائے کہ اللہ تعالی اس کی غیبی نصرت فرمائے اور اس کو اس حالت سے نجات ملے۔

اب ان ذرائع کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ہم جس جس طریقے سے اہل شام کا تعاون اور مدد کر سکتے ہیںاسے اختیار کرنا چاہیے۔مثلاً:شام کے درد کا مسلمانوں میں احساس اجاگر کرنے کے لیے اس بارے لکھا جائے، اپنے حلقۂ احباب میں حالات و اسباب کی روشنی میں باقاعدہ اس کی تحریک چلائی جائے، اسی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس کا پرچار کیا جائے(جیسا کہ الحمدللہ بہت سے مسلمان اپنی اپنی وسعت کے مطابق کر بھی رہے ہیں)

اس کے علاوہ خود کو جسمانی طور پر تیار کیا جائے کہ اگر موقع مِلے یا ایسا ماحول میسر آجائے تو ہم اسلام اور مظلوم مسلمانوں کی خاطر ہر ممکن قربانی دے سکیں۔

کم از کم یہ کہ ہم دِلی رغبت اور عاجزی و اخلاص کے ساتھ ان کے لیے دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔اس لیے اس کا خاص اہتمام کیا جائے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عبادات اور معاملات درست کریںتاکہ اللہ تعالی کی اجتماعی ناراضگی دور ہواور ہماری دعائیں قبول ہوں۔

سب کچھ جانتے سمجھتے بے فکر اور بے حس ہو کر بیٹھے رہنااور خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی اس دردناک صورتِ حال کو آزاد فکری کی نظر کر دینا انتہائی شرمناک ہے عین ممکن ہے کہ کل کو ہمارے اوپر ایسا وقت آجائے(الامان !الحفیظ)

اللہ کے بندو!اپنے محبوب آقائے نامدارمحمدِعربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھیںایسے حالات میں ان کے عمل کو دیکھیں،صحابۂ کر ام اور اسلافِ اُمت کے کردار کو پڑھیںکہ کس طرح ایک مسلمان کا درد اور احساس ان کے رگ و ریشے میں بھرا ہوا تھا۔

مسلمان کی عزت و عظمت بہت بلند ہے۔ وہ دیکھیں ایک یہودی نے جو شرارت سے ایک مسلمان لڑکی کا ڈوپٹہ سر سے اتارا تھا،اس کو ایک صحابی نے اسی دم قتل کر دیا،پھر جب اس صحابی کو یہود نے شہید کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ ان پر لشکر کشی کی۔

محترم قائین!خونی اور صُلبی رشتہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، لیکن اصل ، دائمی اور نفع مند رشتہ تو اسلام والا ہے، ایمان والا ہے۔

جی ہاں! وہ اس لیے کہ خونی رشتے صرف یہاں دنیا تک قائم ہیں،جن میں سے کسی کی مدت چند ساعات،کسی کی چند دن،کسی کی چند ماہ و سال، بالآخر جدائی،فرقت،اور ہمیشہ کی دوری۔لیکن اسلامی رشتہ، ایمانی تعلق، دینی سنگھت اور روحانی دوستی تودائمی، حقیقی، پائدار، لازوال، کارآمد اور مفید و نفع بخش ہوتی ہے۔

اس رشتے کے بھی اصول ہیں، رول ہیں، اور احکامات و حقوق ہیں۔

روحی فداہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تمام مومنین ایک جسم اور ایک جان کی طرح ہیں۔

آگے تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

جس طرح پورے جسم میں سے صرف آنکھ یا سر کو تکلیف ہوتی ہے، تو اس سے پورا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح ایک مومن کی تکلیف بھی تمام مومنین کی تکلیف کے مترادف ہے۔ پھر جس طرح انسان اپنے پورے بدن کو سکون دینے کے لیے، اس الم رسیدہ حصے کا علاج کرتا ہے اور تکلیف کو دور کر ے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان سے مصیبت اور تکلیف کو بھی دور کرنا ہر مسلمان ذمہ داری اور فرض بنتا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں سمجھ عطاء فرمائے اور مظلوموں کی مدد فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online