Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

دوما:شام میں ایک بار پھر کیمیائی حملہ (اداریہ)

دوما:شام میں ایک بار پھر کیمیائی حملہ اَقوام متحدہ سمیت تمام عالمی امن کی ٹھیکیدار قوتیں خاموش تماشائی

اداریہ (شمارہ 639)

دوما: ملک شام کے اُن علاقوں میں سے جہاں کے عوام نے اپنے حقوق کے لیے اور ظالم بشار الاسد کے مظالم سے تنگ آکر اس کے خلاف انقلانی تحریک میں بھرپور کردار اداء کیا اور جب سے بشار الاسد کی طرف سے اپنے مخالفین کے خلاف مسلح تشدد شروع ہوا ہے تب سے یہ علاقہ بھی اس کی زد میں ہے اور وہاں کے عوام اپنے دفاع کے لیے سینہ سپر ہیں، اور ابھی تک وہاں ان ظالموں کو اپنے قدم جمانے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔

شاید اسی لیے اب بشار الاسد کی وفادار فوج نے اس علاقے پر وحشیانہ فضائی بمباری کرکے تمام انسانی اور اخلاقی حدود کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا ہے کیوں کہ شاید اسے یہ احساس ہوچکا ہے کہ ان مظلوموں کے حق میں کوئی بھی مضبوط آواز اٹھانے والا اوران کا بھرپور ساتھ دینے والا نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کی جانب سے دمشق کے نواحی علاقے ’’دوما‘‘ پر مبینہ کیمیائی حملے میں شہید والوں کی تعداد 70سے زائد ہوگئی ہے، اس موقع پر امریکا نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کیمیائی حملوں کا ذمہ دار روس ہے۔تفصیلات کے مطابق شام کے جنوب مغربی حصّے میں واقع بشار مخالف مزاحمت کاروں کے زیر کنٹرول علاقے میں حکومتی جنگی جہازوں کے ذریعے کیے گئے مبینہ مہلک گیس حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد شہیدہوئے۔اس موقع پر وائٹ ہیلمٹ نامی ایک امدادی تنظیم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متاثرہ شہر کی عمارتوں کے تہ خانوں میں بیسیوں لاشیں موجود ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کو بھی اس موقع پر یہ کہنا پڑاکہ شام کے شہر دوما سے آنے والی اطلاعات انتہائی افسوس ناک ہیں، اور اگر یہ خبریں سچ ہوئیں تو پھراس مہلک گیس حملے کا ذمہ دارشام کی حمایت میں لڑنے والے ملک روس کو سمجھا جائے گا۔حکومت مخالف تنظیم غوطہ میڈیا سینٹرنے بتایا کہ سرکاری فوج کی جانب سے مبینہ گیس حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ متاثرہوئے ہیں۔مذکورہ تنظیم نے حکومت کو اس جرم کا بھی مرتکب قرار دیا کہ دوما میں ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نے بیرل بم برسائے تھے جو سارین نامی اعصاب متاثر کرنے والی کیمیائی گیس سے بھرے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ غوطہ کے مشرق میں واقع شہر دوما مجاہدین اور مزاحمت کاروںکے قبضے میں ہے جسے خالی کروانے کے لیے حکومتی افواج نے سے شہر کا کئی ماہ سے محاصرہ کیا ہوا ہے۔

یہ صورت حال کچھ نئی نہیں مگر جوافسوس کہ اس پر ردعمل بھی کچھ نیا نہیں آیا اور شام کے عوام ابھی تک ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور کوئی بھی ان کا پرسان حال نہیں۔ عالم اسلام کو اور خصوصا پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی خداد قوت کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے صرف کرنے کی مضبوط اور جامع پالیسی تشکیل دے، اور اس پر عمل کی ترتیب بنائے، ظلم کو روکنے کے لیے جو بھی کوشش کی جائے وہ یقینا قابل تحسین ہوگی اور ظالموں کا ساتھ دینا یا ان کے مظالم سے نظریں چرا کر رکھنا یہ کسی بھی غیرت مند قوم کو شیوہ نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کا  منفی کردار سب کے سامنے ہے۔ اب عالم اسلام خود ہی آگے بڑھے تو اسی میں بہتری ہوگی ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online