Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

دِل کی خوشی کے ساتھ عشر اَدا کیجیے! (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

دِل کی خوشی کے ساتھ عشر اَدا کیجیے!

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 639)

سونا، چاندی، مویشی اور مال تجارت کی طرح زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، جسے ’’عشر‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عشر کو ’’اللہ تبارک وتعالیٰ کا حق‘‘ کہا گیاہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:

’’اور (وہ) خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں، جب یہ چیزیں پَھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو اللہ کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بے جا نہ اڑاؤ کہ خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ (الانعام 141)

اوراس زکوٰۃ (عشر) کی آدائیگی کے لیے یہ ضابطہ بھی مقرر کر دیا کہ ہر غلہ اور اناج جس کی زکوٰۃ دینا چاہیں، اس میں اس چیز کا خیال رکھیں کہ اس اناج اور غلہ میں سے وہ چیز عمدہ ہو۔ چنانچہ ارشاد مبارک ہے:

’’مؤمنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بے پروا (اور) قابل ستائش ہے۔‘‘ (البقرہ 267)

اور ایک دوسری جگہ یہ ارشاد فرما دیا کہ یہ مال جو تم زکوٰۃ میں دے رہے ہو، اس کا بھی خود تم کو ہی فائدہ ہے۔ اسی کی برکت سے تمہارے بقیہ اموال اور اناج وغیرہ میں برکات ہوں گی۔ چنانچہ ارشاد مبارک ہے:

’’جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور اللہ تبارک وتعالیٰ جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرہ 261)

اور پھر انہی آیات کے بعد یہ فرما دیا کہ اس آدائیگی کی وجہ سے یہ نہ سمجھنا کہ تمہارا غلہ اور اناج کم ہو گیا ہے اور تم فاقوں کا شکار ہو جاؤ گے۔ چنانچہ ارشاد مبارک ہے:

’’شیطان تمہیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اورتمہیں شرمناک بخل کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمہیں اپنی طرف سے بڑی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۶۸)

اورا ایک دوسری جگہ یہ نکتہ ارشاد فرما دیا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کے لیے فراخی نہیں ہے اور دینے والے کے لیے فقر نہیں، بلکہ فراخی اور فقر تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت میں ہے کہ جسے چاہیں فراخی عطا فرما دیں اور جسے چاہیں فقر، چنانچہ ارشاد مبارک ہے:

’’کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا۔ اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ (سبا 39)

اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ سود سے مال نہیں بڑھتا بلکہ زکواۃ (عشر) ادا کرنے سے مال بڑھتا ہے۔ چنانچہ ارشاد مبارک ہے:

’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند، سہ چند کرنے والے ہیں۔‘‘ (الروم 39)

اب اس حکمِ الٰہی (عشر)کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:

’’اس زمین کی پیداوار میں عشر ہے، جسے بارش سے یا چشموں سے یا بارش کے جمع شدہ پانی سے سیراب کیا گیا ہو اور جنہیں کنویں وغیرہ سے پانی کھینچ کر سیراب کیا گیا ہو، اس میں نصف عشر۔‘‘ (بخاری، النسائی)

اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:

’’جس زمینی پیداوار کو نہروں اور بارش کا پانی سیراب کرے اس میں عشر ہے اور جس فصل کو راہٹ و کنویں سے سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر ہے۔‘‘ (مسلم باب مافیہ الزکوٰۃ من الاحوال)

اللہ تعالیٰ نے عشر کو کسی مقدار اور نصاب کے ساتھ مقید نہیں فرمایا۔ یعنی جتنی بھی فصل زمین سے حاصل ہو، وہ کم ہو یا زیادہ اس سے عشر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ بھی اس ضمن میں مطلق ہیں، ان میں بھی کسی مقدار یا نصاب کا تعین نہیں کیا گیا بلکہ مطلق فرما دیا گیا ہے۔ اسی لیے فقہاء احناف کے نزدیک زمین سے حاصل ہونیوالی پیداوار کم ہو یا زیادہ بہر حال عشر واجب ہو گا۔

زمین سے جو بھی پیدا وار غلہ، اناج، پھل، سبزیاں اور چارہ وغیرہ حاصل ہو، اس میں عشر یا نصف عشر واجب ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ حاصل شدہ پیداوار کم ہے یا زیادہ۔ حتیٰ کہ امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ساگ کے دس مٹھوں میں سے ایک مٹھا بطور عشر لازم ہے۔

اور آخر میں عشر کے متعلق اہم مسائل افادۂ قارئین کے لیے عرض کیے جارہے ہیں۔

عشر زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔ اگر زمین بارانی ہوکہ بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے تو پیداوار اٹھنے کے وقت اس پر دسواں حصہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں دینا واجب ہے۔ اگر زمین کو خود سیراب کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ صدقہ کرنا واجب ہے۔

ہمارے امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عشر کا کوئی نصاب مقرر نہیں بلکہ پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس پر عشر واجب ہے۔ جو شخص بھی زمین کی فصل اٹھائے اس کے ذمہ عشر واجب ہے۔

عشر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔

عشر پیداوار کی زکوٰۃ ہے اس لئے دوسرے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کے باوجود پیداوار پر عشر واجب ہوگا۔

سال میں جتنی بھی فصلیں آئیں، ہر نئی فصل پر عشر واجب ہے۔

جی ہاں! مویشیوں کے چارے کے لئے کاشت کی گئی فصل پر بھی حضرت امام صاحبؒ کے نزدیک عشر واجب ہے۔

عشر واجب ہونے کی شرطیں

(۱) مسلمان ہونا، کیونکہ عشر خالصتاً عبادت ہے اور کافر عبادت کا اہل نہیں۔ (بدائع)

(۲) زمین کا عشری ہونا، خراجی زمین پر عشر واجب نہیں ہوتا۔

(۳) زمین سے پیداوار کا حاصل ہونا، اگر کسی بے اختیاری سبب یا اپنی غفلت و کوتاہی کے سبب پیداوار حاصل نہ ہو تو بہرحال عشر ساقط ہوجائے گا۔

(۴) ایسی پیداوارہو جو بو کر حاصل ہو، خود رو گھاس یا  خود رودرخت پر عشر واجب نہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دل کی خوشی کے ساتھ ’’عشر‘‘ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے رضا کار ہر سال کی طرح امسال بھی اسی فریضے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے حقکی ادائیگی کے لیے آپ کے پاس آرہے ہیں۔ الحمدللہ ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کی زیر نگرانی آپ کا عشر فدائیانِ اسلام، غازیانِ اسلام، شہدائِ اسلام، اسیرانِ اسلام، مجاہدینِ کرام کے اہلِ خانہ تک پہنچایا جاتاہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online