Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

دشتِ اَرچی کے شہزادو!! (نشتر قلم۔زبیر طیب)

دشتِ اَرچی کے شہزادو!!

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 639)

آؤ تمہیں بتاؤں…

کہ

اپنی جان پر کھیل جانے والے کیسے بنتے ہیں…

جب آسمان سے بغیر تعیین کے آگ برستی ہے…

تو زمین پر وہ آگ اکٹھی ہوکر بگولہ بن جاتی ہے …

اور

وہ بگولہ کسی دن پھٹ جاتا ہے…

جب کبھی ماں ، بہن ، بیٹی، بھائی کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے…

 وہ بیڑیاں نہ بھی توڑ پائیں …

مگر خود کو قربان کر جاتے ہیں…

خود کو آزاد کر جاتے ہیں…

آو تمہیں بتاؤں!!

ماں کیسے بنتی ہے…

برسوں انتظار کے بعد اک لمحہ سعید آتا ہے…

جب ماں کے جسم میں اک نیا جسم حرکت کرتا ہے…

کیسے بتاؤں!!

اس اک لمحے کہ مسرت،

وہ خوشی سے پھولی نہیں سماتی،

پاؤں زمیں پر نہیں لگتے،

نو ماہ کی

ہر گھڑی کا عذاب اس کیلئے راحت بن جاتا ہے…

پھر اپنا وجود خطرے میں ڈال کر ماں بچے کو دنیا میں لاتی ہے…

آؤ تمہیں بتاؤں !!

کہ

بچے کیا ہوتے ہیں…

جانوروں کے بیک وقت چھ چھ بچے ہوتے ہیں…

پھر بھی

کبھی خرگوشنی کو ایک بچے کیلئے سانپ سے الجھتے دیکھا ھے…؟

مرغی کو بلی پر غراتے، جھپٹتے تو دیکھا ہوگا…؟

تو انسانی ماں کو ایک بچے سے کیسا پیار ہوتا ہوگا…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

بچے کیسے جوان ہوتے ہیں…

ایک نسل کے بچوں کو جوان کرتے کرتے دو نسلیں بوڑھی ہوجاتی ہیں…

تمہیں کیا معلوم کہ

نئی نسل کیسی کیسی امیدوں کے پندار لئے عہد شباب میں قدم رکھتی ہے…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

الم سے والناس تک قرآن کیسے حفظ ہوتا ہے…

اس نعمت کو سمونے میں کیسے اک عمر کی ریاضت درکار ہوتی ہے…

صبح پوپھٹنے سے بھی بہت پہلے سے لے کر رات گئے تک جہد مسلسل،

اک عمر گھسٹتے گھسٹتے ٹخنے پھول جاتے ہیں،

چمڑیاں سخت ہوجاتی ہیں،

گلے سوکھ جاتے ہیں،

تب کہیں جاکر سینے منور ہوتے ہیں…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

بچے کی آمین کے وقت…

ماں کیسے اسے تیار کرتی ہے…

سفید پوشاک میں دلہا بنا کر اپنے لعل کی نظر اتارتی ہے…

پھر سینے سے لگا کر ماتھا چومتے ہوئے دعاوں سے وداع کرتی ہے…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

آسمان سے آگ کیسے برستی ہے…

پہلے پہل گونج سے کانوں کے پردے پھٹتے ہیں…

پھر لوہے کے ٹکڑوں سے اعضاء الگ ہوتے ہیں،

پھر گوشت جلتا ہے،

پھر اسی سڑاند میں پورے ہوش و حواس میں سسک سسک کر جان جاتی ہے…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

گھر کیسے اجڑتے ہیں…

جس گھر کے غنچے مرجھاجائیں…

وہ ماتم کدہ بن جاتے ہیں…

جو اجڑ جاتے ہیں…

ان کے ہونٹوں سے مسکان عنقا ہوجاتی ہے…

وہ سراپا غم بن جاتے ہیں…

ان کیلئے زندگی بے معنی ہوجاتی ہے…

متاع حیات ہی چھن جائے …

تو پھر باقی کچھ نہیں رہتا…

آؤ تمہیں بتاؤں!!

انتقام کیا ہوتا ہے

اس اک لفظ پرنسلیں قربان ہوجاتی ہیں…

جو ایک بار اجڑ جائیں،

پھر کبھی آباد نہیں ہوتے،

کسی کو بستا نہیں دیکھ پاتے،

وہ ساری عمر دشمن کی تعیین میں فنا کردیتے ہیں،

اگر کامیاب نہ ہوپائیں،

تو وصیت میں یہی انتقام اگلی نسل کو منتقل کرتے جاتے ہیں…

انتقام انسان کی روایت کا ایسا مضبوط حصہ ہے…

جس پر سب کچھ قربان کیا جاسکتا …

اور بے شک تم سے ضرور بالضرور

انتقام لیا جائے گا…

کسی نہ کسی شکل میں…

گرتے پڑتے، کبھی روتے کبھی ہنستے…

ایک نہ ایک دن … تم سے حساب لیا جائے گا…

آؤ کچھ دیر ہم بھی …

دشت آرچی کے معصوموں کا غم بانٹیں …

کہ ہمارے سینوں میں انتقام کی بجھی آگ…

شاید کہ جل اٹھے… تڑپ اٹھے…

آؤ تمہیں بتاؤں…

کہ

اپنی جان پر کھیل جانے والے کیسے بنتے ہیں…

جب آسمان سے بغیر تعیین کے آگ برستی ہے…

تو زمین پر وہ آگ اکٹھی ہوکر بگولہ بن جاتی ہے…

اور

وہ بگولہ کسی دن پھٹ جاتا ہے…

جب کبھی ماں ، بہن ، بیٹی، بھائی کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے…

 وہ بیڑیاں نہ بھی توڑ پائیں …

مگر خود کو قربان کر جاتے ہیں…

خود کو غم سے آزاد کر جاتے ہیں…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online