Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

انسانیت سے پیار، اور ملحدانہ اَفکار (امداد اللہ سعدی)

انسانیت سے پیار، اور ملحدانہ اَفکار

امداد اللہ سعدی (شمارہ 639)

اصل موضوع سے پہلے بطورِ تمہید ایک بات سمجھیں۔ اُخروی کامیابی اور ترقی کے حصول کے لیے یہ بات لازم ہے کہ ، کامیابی کے حصول کے جو طریقے اورراستے شریعتِ مطہرہ نے متعین و مقرر فرمائے ہیں، اُنہیں کو اختیار کیا جائے، اور جس طرح دنیا میںکسی منزل اور ہدف تک پہنچنے کے لیے اُسی کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے،اِسی طرح آخرت کی منازل اور درجات حاصل کرنے کے لیے بھی اُس کے مطابق محنت اور تگ و دو کی ضرورت ہے،منزل کی مخالف سمت چلنا انسان کو ناکامیوں اور بربادیوں میں تو ڈال سکتا ہے،لیکن منزل تک کبھی نہیں پہنچا سکتا۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، آپ کی سماعتوں سے اس طرح کے ملتے جلتے الفاظ تو بکثرت ٹکراتے ہوں گے،کہ’’ انسانیت سے پیار کرو، انسانیت کی خدمت کرو ، مخلوق کو خوش کرو یہی انسانیت کی معراج ہے، اورخالق کی رضا چاہتے ہوتو مخلوق کو راضی کرو‘‘۔وغیرہ وغیرہ

حقیقت اور شریعت کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ اور اس جیسے دیگر جملے اور انسانیت سے محبت اور خدمتِ خلق کے رنگ برنگے دعوے فی نفسہ درست ہیں،واقعی اللہ تعالیٰ کو اُس کی مخلوق کی خدمت کرنے والے بہت محبوب ہیں بہت پیارے ہیں، اور یقینا ایک شخص مخلوقِ خدا کی خدمت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکتا ہے اور خالقِ کائنات سے بہت سے انعامات و اعزازات پا سکتا ہے۔ لیکن کیا اس کے لیے کوئی حدود، شرائط اور احکامات بھی ہیں کہ اِس خدمت کا معیار کیا ہونا چاہیے ،اورمخلوق کی محبت اور خدمت کو اپنے لیے عنداللہ ماجور اور نفع مند بنانے کے لیے خدمت اور خادم کی نوعیت کیا ہونی چاہیے، یا فقط خدمت ہی خدمت ہے ،و ہ چاہے جو بھی اور جیسی بھی کرے، چاہے خدمت کے دعوے دار کا اپنا ایمان و اعتقاد اور نظریات اِس کھاتے کے ہوں کہ اس کی یہ اَنتھک محنت اورخدمات قبول ہوسکتی ہوں یا وہ اپنے باطل نظریات و افکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض ہو۔اور چاہے اس کے دینی اور دنیوی معاملات جیسے کیسے بھی ہوں۔

ہمیشہ کی طرح ماضی قریب میں بھی اور اب حال میں بھی ایسے بہت سے ’’خُدّام الانسانیت‘‘ پائے گئے ہیں،جن کو دنیا والوں نے ’’محسنِ انسانیت‘‘ جیسے القابات اور تمغوں سے نوازا اور مشرق و مغرب میں اُن کی سخاوت اور خدمتِ خلق کے خوب خوب چرچے ہوئے، جب کہ اُن کے اندر سوائے خدمتِ خلق کے ’’عنصر‘‘ کے اسلام اور ایمانیات کی ہلکی سی رمق بھی نہیں پائی جاتی ،کوئی تقدیر کا منکر ہے تو کوئی حساب و کتاب کا،کوئی جہاد کا منکر ہے تو کوئی کفار و مشرکین اور دشمنانِ اسلام کے بارے نرم گوشہ رکھنے والا،کوئی دین کے بعض احکام و ارکان کو انتہائی غیر اہم اور بے کار سمجھتا ہے تو کوئی دیگر دینی شعائر کی تضحیک کرتا ہے، کوئی اہل اللہ اور دین والوں کو انسانیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے تو کوئی اسلام کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ،ایسے حضرات کے تعارف کا نہ ہی موقع ہے اور نہ ضرورت ،کیونکہ ہمارا مقصود تنقید و تنقیص نہیں،بس رُخ سیدھا کرنا ہے کہ یہ بے لوث محنت اور قربانیاں کسی کام آجائیں۔

سیدھی سی بات ہے اسلام کو ایسے دین بیزاروں کی قطعاً ضرورت نہیں جو خود کو انسانوں اور مسلمانوں کا خادم گردانتے ہوں ،لیکن ان کا اپنا ایمان اور عقیدہ صحیح رُخ پر نہ ہو۔

تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں،جن کی طبیعت ہی ایثار و قربانی تھی،جو اپنے وقت کے حاتم طائی تھے،جن کی سخاوت کا ہر جانب چرچا تھا، لیکن اسلام اور ایمان صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ سب کچھ کسی کام نہ آیا،اور یہ کوئی فرضی اوربے بنیاد بات نہیں،شریعت کا صاف اعلان ہے کہ تمام اچھائیاں اور نیکیاں اُسی وقت کار آمد ہوں گی جب ایمان و عقائد درست ہوں گے۔ افسوس کہ آج ایمانیات کو بالکل آخری درجے میں رکھا جاتا ہے ،اور باطل عقائد کو چھپانے کے لیے ان کی آگے حسین حسین ، پرُکشش اور دل فریب پردے لٹکائے جاتے ہیں۔

لہذا آج اس بات کو سمجھنے اور سمجھانے کی اَشد ضرورت ہے کہ خدمتِ خلق وغیرہ سے پہلے اپنے اِسلامی خطوط کو سیدھا کرنا اور اپنی اعمال و افعال کا قبلہ درست کرنااز حد ضروری ہے، تب ہی باقی سب کچھ اللہ کے ہاں قبول اور مقبول ہو سکتا ہے،ورنہ سراسر خسارا ہی مقدر ہو گا۔

بہت سے لوگ اپنے تئیں آگے کے لیے بہت کچھ سمیٹ کر جائیں گے،لیکن بروزِ حشر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اُن کے یہ سب کے سب اعمال تو کسی کھاتے میں نہیں آئے،سارے کے سارے اَکارد اور برباد کر دیے گئے۔اِس بطلانِ اعمال کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہوں گی وہاں ایک وجہ یہ بھی ہوگی ، کہ کام تو بہت اچھے اچھے کیے ہوں گے لیکن ان کے ساتھ کلمہ طیبہ اور ایمان کی طاقت نہیں ہوگی،جس کی وجہ سے وہ کام کوئی وزن حاصل نہ کر پائیں گے۔قرآن ِ مجید میں ایسے لوگوں کے لیے اللہ رب العزت نے واض طور پرارشاد فرمایاہے،ترجمہ: ’’(اے پیغمبر!) کہہ دوکہ : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں؟، یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیا میں اِن کی ساری دوڑدھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں‘‘ (سورۃ الکہف،آیت: 103,104)

معزز قارئین !انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے کہ سوفیصد ملحدانہ نظریات رکھنے والے اور دین بیزار لوگ بھی خود کو اعلی درجے کا مسلمان اور جنت کا ٹھیکے دار سمجھتے ہیں، اور اسلام کی غلط اور باطل تشریحات کر کے اپنی حرام اور ناجائز سرگرمیوں کو درست اور قابلِ ِتحسین قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں،اور تو اورانتہائی فحش اور بے ہودہ کرداررکھنے والے فلمی اداکار، فنکار اورکھلے عام اسلام اور شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانے والے کامیڈین’’ ڈرامے باز‘‘ تک خود کو بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا کیے بیٹھے ہیں،اُن کا دعوہ ہے کہ ہم اِس غم و پریشانی کے دور میںاپنی’’حرکتوں‘‘ سے انسانوں کو خوش کرکے اور ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پہ مسکراہٹ سجا کر بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online