Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

دل آزاری (بنت ڈاکٹر سیف الرحمن)

دل آزاری

بنت ڈاکٹر سیف الرحمن (شمارہ 639)

’’کسی کا دِل اتنا مت دُکھاؤ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارا نام لے کر رو پڑے‘‘

جب یہ جملہ میں نے پڑھا تو مجھے لگا کہ ہم کتنے گناہ گار ہیں کہ ہم تو ہزاروں لوگوں کے دِل دُکھاتے ہیں اور اس کی پرواہ تک نہیں ہوتی۔ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم کتنی بڑی غلطی کر رہے ہوتے ہیں؟ پھر کود سوچیں کہ کسی کا دل دُکھا کربھلا ہم خود کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟ جب ہماری بداخلاقی کی وجہ سے ہماری زندگی کی کایا اچانک پلٹتی ہے تو پھر ہم سوچتے ہیں کہ اچانک اتنے غم ہمیں کیسے مل گئے؟ ہم اداس کیوں رہتے ہیں،اور ہر طرف بے سکونی نے ہمیں کیوں گھیر لیا ہے۔ ایسے موقع پر ہمیں چاہئیے کہ کبھی ۵ منٹ بیٹھ کر سوچیں کہ آیا ہم نے کسی کا دل تو نہیں دُکھایا،کہ جس کی سزا ہمیں مختلف طریقوں سے ملنا شروع ہوئی ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی ہم اکثر سمجھ نہیں پاتے۔ یہ زندگی ہے چلتی رہتی ہے۔ ہزاروں لوگ آتے ہیں اور ہزاروں چلے جاتے ہیں۔ ان ہزاروں لوگوں میں کوئی اپنے آپ کو سمجھ بھی نہیں پاتا کہ پھر اچانک وہ اس دنیا سے رخصت بھی ہو جاتا ہے۔

بہت کم لوگ اس کا احتساب کرتے ہیں کہ ہماری باتوں سے کس کی کتنی دل آزاری ہوئی ہے، کوئی کتنا اندر سے ٹوٹا ہے اور ٹوٹے دل جب اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہیں تو عرش ہل جاتا ہے۔ دعائیں ٹوٹے دلوں کی رد نہیںہوا کریں۔ تو کیاہم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے؟ کیا ہمارے انسداد ضمیر کی عدالت بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی غور کریں اور دوسروں کی دل آزاری والے جملوں کا استعمال چھوڑ دیں تو ہمارا معاشرہ صحیح معنوں میں ایک اچھا اور پُرسکون معاشرہ بن جائے گا۔

لیکن افسوس کہ ہویہ رہا ہے کہ یہاں ہزاروں لوگ ہزاروں لوگوں کی دل آزاری کر جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں تو خندہ پیشانی سے بات کرنا بھی صدقہ ہے لیکن ہم کیا کر رہے ہیں کہ فلاں نے ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے بات نہیں کی  میں کیوں کروں۔ یہ انا پرستی انسان کو لے ڈوبتی ہے اور انسان، انسان نہیں رہتا۔انسانوں کو تو رب نے اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور ہم انسان اپنی بدعملیوں کی وجہ سے جانوروں جیسے ہو چکے ہیں۔ جب دلوں میں میل پیدا ہو جائے تو محبتیں ختم ہو جایا کرتی ہیں، نفرتیں پھلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہیں اور یہاں تک کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ گھروں کے گھر بکھر جاتے ہیں دل آزاری کرنے میں سب سے زیادہ ہمارے الفاظ ہوتے ہیں ۔ جو الفاظ ہمارے منہ سے ادا ہوتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ آیا کس طرح کے الفاظ ہم استعمال کر رہے ہیں؟ ان الفاظ اورگفتگو سے ایک لفظ بنتا ہے اخلاق۔ ہمارے اخلاق کیسے ہیں؟ ہم دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں؟ تو سب سے پہلا کام اپنے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ اور اخلاق پہ غور و فکر کرنی ہو گی۔ ہم معاشرے کو ٹھیک نہیں کریں گے بلکہ معاشرہ ہم سے ٹھیک ہو گا کوشش ہم کریں گے معاشرہ خود بخود ٹھیک ہوتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم مخلوق بنا کر بھیجا ہے تو کیا یہ ہمارا حق ہے کہ ہم دوسروں کی دل آزاری کریں۔

حضور پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن میزان عدل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی عمل نہیں ہو گا۔ حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ ’’ بے شک میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔ ایک اور جگہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسان اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کے اجر کو حاصل کر لیتا ہے۔ سبحان اللہ ! انسان اگر اپنے اخلاق درست کر لے تو وہ اتنا زیادہ اثر حاصل کر سکتا ہے اتنی نیکیاں کما سکتا ہے تو کیوں ہم پیچھے ہیں کیوں ہم دوسرں کو دکھ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ ہماری زندگی کے کچھ بہتر لمحات اکثر کسی کی بددعاؤں سے ویران ہو جاتے ہیں اور ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا کہ ہم نے کیا کیا تھا۔ کہتے ہیں دکھی دلوں کی دعا کبھی رد نہیں ہوا کرتی تو ہم کسی کا دل دکھا دیتے ہیں۔ ہماری خوشیوں کے چند لمحات کسی کی دل آزاری کرنے سے ویران ہو جاتے ہیں اور تب ہم روتے ہیں کہ اے اللہ! ہم سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا کہ ساری سزا ہمیں ہی ملی۔

رات کو سونے سے پہلے یہ سوچا کرو کہ کہیں ہم دوبارہ صبح کو نہ اٹھ سکیں۔ عام لوگوں کو دل سے معاف کر دیا کریں، اپنے آپ میںگم رہنے سے بہتر ہے کہ ان لوگوں کو تسلی دے دیا کرو جو کسی بہت بڑے غم میں مبتلا ہوں۔ لوگ اکثر ان لوگوں کی دل آزاری کر جاتے ہیں جو بہت خوش اخلاق ہوتے ہیں۔ لوگ ان کی دل آزاری کر رہے ہوتے ہیں اور وہ بس صرف مسکراتے ہیں ۔

کوئی مسلمان بھائی ہمارے ساتھ تھوڑی بھی زیادتی کرتا ہے تو ہم اُس سے دگنا بدلہ لینے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی بہت تیزی سے روانہ ہے انسان نہ جانے کب ختم ہوجائے اور ہم نے کچھ تیار بھی نہ کیا ہو اور آخرت کار لمبے سفر پر روانہ ہوجائیں، اس سے پہلے کہ ہم اپنے اپنے دل دوسروں کے لئے صاف کرلیں اپنی سوچ کو دوسروں کے لئے مثبت کردیں کیونکہ حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا اپنی سوچ کو پانی کے قطروں کی طرح شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے مل کر دریا بنتا ہے اس طرح سوچوں سے مل کر ایمان بنتا ہے بس ہماری زندگی کا کل سرمایہ ہمارے پاس ہمارا ایمان ہے اور ہمیں ہر حال میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے ایمان کو بچانا ہے۔

 باہمی دل آزادی کی وجہ سے دلوں میں منافقت اُبھرتی ہے اور نسلوں کی نسلیں تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں۔ لہجے اور رویے تبدیل ہوجاتے ہیں خونی رشتوں کی قدروقیمت کا کوئی احسان نہیں رہتا اور جب ایک انسان کے اندر سے احساس ختم ہوجائے تو انسان اورجانور میں پھر تو کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔ بغیر احساس کے جینا کوئی زندگی ہے؟ یہ بھی کوئی زندگی ہے جس میں احساس نہ ہو؟ ایک شاعر نے اسی بات کو کیا ہی خوب نظم کیا ہے اور کاش کہ ہم بھی اسے اپنے پلے باندھ لیں:

دیا ہے درس یہ مجھ کو میرے پیارے محمدﷺنے

محبت بانٹ دینے سے، محبت کم نہیں ہوتی

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online