Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

بھارت میں مسلم کش فسادات (اسامہ سعید)

بھارت میں مسلم کش فسادات

اسامہ سعید (شمارہ 639)

’’تم ہمارے ملک سے دفع کیوں نہیں ہو جاتے‘‘

 گوپال کے دل میں چھپی نفرت اس کے چہرے سے ظاہر ہونے کے بعد اس کی زبان سے لپٹ گئی۔

یونس کا دل چاہا کہ اسے جان سے ہی مار دے لیکن اس نے یہ بولنے پر ہی اکتفا کیا کہ اپنا منہ بند کرو۔ یہ میرا بھی ملک ہے، تمہارے باپ کا نہیں ہے۔ پھر دونوں ایک دوسرے کی طرف لپکے لیکن اس وقت لوگوں کو تماشا دیکھنے کی فرصت نہیں تھی بلکہ اکثر یوں ہوتا کہ دو لوگ اکھٹے زمین پر کوئی چیز کھوج رہے ہوں تو پورا محلہ اکھٹا ہو جاتا ہے۔

یونس کلکتہ کا شہری تھا۔ کلکتہ کو عام طور پر محلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے آئے روز اسے ایسی باتیں سننا پڑتیں۔ روز کہی نہ کہیں فساد ہوتا۔ ہمیشہ کوئی مسلمان ہی مظلوم بنتا۔ اس ملک میں پیدا ہونے کے باوجود کوئی بھی اسے اس ملک کو اپنا سمجھنے نہیں دیتا ۔وہ باہر نکلتا تو ایسا لگتا کہ جانتے ہوئے بھی لوگ اسے اجنبی سمجھ رہے ہیں۔ ہر طرف سے سوالات آرہے ہوتے ہیں۔ تم کون ہو۔ کہاں سے آئے ہو۔ یہاں کیوں آئے ہو۔ کب جاؤگے۔ کیا کر رہے ہو۔

وہ اکثر اپنے والدین سے شکایت کرتا لیکن والدین کیا کر سکتے تھے۔ وہی تسلیاں اور وہی سب ٹھیک ہو جانے کی باتیں۔ آخر ماں باپ کیا کہتے۔ انہوں نے بھی تو اسی ماحول میں زندگی گزاری تھی اور ان کے اباؤاجداد بھی تو یہیں دفن تھے کون ان کی قبریں چھوڑ کر یہاں سے جاتا۔

گوپال سے جھگڑا ہونے کے بعد وہ سمجھا کہ یہ عام سا جھگڑا تھا کہ ایسے جھگڑے تو روز ہوتے ہیں مگر نہیں گوپال کے دل میں میل اکھٹا ہو گیا تھا۔ انجان تھا کہ تاریخ میں رقم ہونے والا فساد ہونے لگا ہے۔ ہوا یوں کہ یونس کے گھر مہمان آئے اور وہ ان کے لئے گوشت لینے گیا۔ گوشت بکرے کا تھا گوپال نے جب دیکھا تو اسے موقع مل گیا۔ اس نے چیخ کر کہا گاؤ ماتا کا گوشت۔ پھر کیا لوگوں نے آؤ دیکھا نہ تاو یونس پر پل پڑے ادھر سے مسلمان بھی آگئے۔ ایک وسیع پیمانے پر فساد شروع ہو گیا اب جھگڑا صرف ہونس اور گوپال کا نہیں بلکہ دو قوموں کا فساد تھا اور جب فساد شروع ہوتا ہے تو انسان ختم۔

میں بات کر رہا ہوں 1964کلکتہ کی۔ جس میں 107مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ476لوگ زخمی ہوئے۔ 7000لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔اس موقع پر پندرہ ہزار مسلمان ایسے تھے جو گھروں سے نکلے اور انہیں کہیں پناہ بھی نہیں ملی۔ ان کا کیا ہوا؟ یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ وہ مرے، زخمی ہوئے، گھروں کو واپس گئے یا پھر اغوا ہوگئے کوئی نہیں جانتا۔ کیا وہ لوگ غیر محفوظ تھے۔ کیا وہ انسان نہیں تھے۔ کیا ہے آپ کے پاس اس کا جواب۔ ہاں میرے پاس ہے۔ ان لوگوں کو نہ ہی انسان سمجھا جاتا نہ ہی انہیں جینے کا حق ہے۔

بھارت میں 36 کروڑ مسلمانوں کو انسان سمجھا ہی نہیں جاتا۔ وہ ہر روز جیتے ہیں اور ہر روز مرتے ہیں۔ یہ صرف1946ء میں نہیں بلکہ 1875ء سے لیکر آج تک ہوتا رہا ہے اور جب تک بھارت ہے یہ ہوتا رہے گا۔ 1938ء میں بسام کے گاؤں میں تیواری قبیلے کے لوگوں نے 1800مسلمانوں کو قتل کر دیا اس کا حساب کون دے گا۔ 1978ء کو اتر پردیس کے شہر میرت کے محلہ ہاسمپورہ میں 24مسلمان نوجوانوں کو بغیر کسی وجہ کے گولی مار دی گئی۔ 1992ء میں ممبئی میں مسلمانوں پر قیامت ڈھائی گئی بلکہ صرف یہی نہیں 2002ء میں دنیا کا بدترین قتل عام گجرات میں ہوا۔

مودی اسی قتل عام کی وجہ سے اور مسلم دشمنی کی وجہ سے آج وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہے۔ وہاں مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ ہمارے یہاں بھارت دشمنی یا ہندو دشمنی کو انتہا پسندی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کاش ہمارے مسلمان حکمرانوں کو کوئی یہ فرق بتا سکے کہ ہندو کس قدر مسلم اقوام کا دشمن ہے۔ وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کرنا چاہتا ہے۔ وہ جہاں تک ہو سکے گا مسلمانوں کو تہہ تیغ کرتا رہے گا اور انہیں زک پہنچاتا رہے گا۔

وہ نفرت ، عداوت میں جس قدر آگے جا سکیں گے جائیں گے اور ان کے لئے یہ فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔

خداراً اپنے دشمنوں کو پہچانیں اور انہیں کم از کم دوست تو نہ سمجھیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online