Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

مولوی اور ہم (رضوان چوہان)

مولوی اور ہم

رضوان چوہان  (شمارہ 644)

ہر طرف ناچ ، گانے ، فلمیں ، عریانی و فحاشی ، بے شرمی اور بے حیائی ، بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل اور ان پر لگے مختلف پاسو رڈز ، بھانڈ میراثی لوفر لفنگے اداکار اور کھلاڑی سلیبریٹیز اور اسٹارز، عیش و آرام کے رسیا آسائشوں کے خوگر واہ واہ ہٹو بچو کے دلدادہ متکبر سیاسی لیڈران عوام کے غموں میں ہلکان اور مسیحائی کے دعویدار ، مقننہ ، عدلیہ ، وکلا ، صحافی اور افسران سے لے کر چپراسی تک اور دکاندار سے لے کر ٹھیلے والے تک سب پیسے کی دوڑ میں مصروف جائز ناجائز کی کوئی تفریق نہیں۔ سب کا ایمان پیسہ، ہماری پوری سماجی سرگرمیوں میں کفریہ تہذیب کی آمیزش اور یلغار، تعلیمی و طبی اداروں سے لے کر فلاحی تنظیموں تک بیوپار اور سب سے منافع بخش یہی کاروبار، ہر طرف آسائشوں ، عیاشیوں ، مال و منصب اور نام و نمود کی دوڑ، پورے کے پورے معاشرے میں اکثریت کے بدتر اخلاق ، بگڑے باطن اور بدتر خیالات، ماں بہن کی ننگی گالیاں عام گفتگو کا حصہ، دل غلاظتوں سے اَٹے، حسد ، بغض اور کینوں سے بھرے، ہر کوئی اپنی فلاح کا طلبگار اور دوسروں کی تباہی کا آرزو مند، زبان اور وعدوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ، لین دین میں صرف اپنا مفاد مطلوب چاہے دوسرا تباہ ہو جائے یا اپنی بوٹی کے لئے دوسروں کا بکرا حلال ہو جائے کوئی پرواہ نہیں، ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے کی دھن میں مگن، سرکاری ملازمین ہوں یا پرائویٹ، آجر ہوں یا اجیر ہر طرف خیانت،  چوری، لوٹ ماری، ملاوٹ، دھوکا و فراڈ، لوگوں کی اکثریت کا دہرا  تہرا معیار اور ہر معاملے میں ڈبل ٹرپل اسٹینڈرڈ، اخلاص و ایثار اور ہمدردی و اپنائیت کا گراف انتہائی پست اور خود غرضی و  مفاد پرستی اور دشنام طرازی کا بازار گرم یہی ہے ہمارا اصل چہرہ اور یہی ہیں ہم .

 دوسری طرف انتہائی کم خواہشوں کے ساتھ اپنے غریبی کے حال میں راضی اور دس بارہ ہزار میں گزارہ کرنے والا مولوی، سادے لباس اور سادی زندگی کے ساتھ معاشرے کی تباہ بنیادوں کی تعمیر میں بغیر ناغے اور بغیر پرافٹ مارجن کے سرگرم، ہاں یہی مولوی ہمارے اخلاقی اور روحانی کینسر کے علاج کے لئے مفت میں چہار اطراف مصروف عمل، یتیم و مسکین بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار، ہر طرف سے طعن و تشنیع سہنے کے باوجود سماج میں اخلاقی قدروں کی ڈوبتی سانسوں کا سہارا یہ مولوی، کہیں مدارس کہیں مسجدیں کہیں خانقاہیں، وعظ و نصیحت اور کہیں تبلیغ تو کہیں جہاد کی صورت پوری امت کے لئے سینہ سپر اور بغیر تنخواہ اور بغیر مراعات کا بے غرض سپاہی، فلاحی و رفاہی کاموں و خدمات میں سب سے آگے، ہاں مغرب کی نقالی میں اس مادر پدر آزاد ہوتے معاشرے میں ، حرص و ہوس کے پجاریوں کے درمیان ، کینہ ، حسد و بغض رکھنے والے انسان نما شیطانوں کے معاشرے کے بیچ میں، آسائشوں و عیاشیوں اور نام و نمود کے ندیدوں کے درمیان اگر کوئی مسیحا نظر آتا ہے تو وہ ہے صرف مولوی اور اس کا مدرسہ اور اس کی خانقاہ اور اس کی تبلیغ اور اس کی معاشرے کی اصلاح کے لئے تڑپ اور اس کا جہاد جو ہر جگہ بغیر حساب کتاب بغیر ناپ تول اور کاروباری لوس پرافٹ کیلکیو لیشن سے بالکل ہٹ کے بے لوث ہے۔ ملک و ملت کے لئے مولوی نے نہ اپنی آل اولاد کی پرواہ کی نہ ماں باپ کی ہر محاذ پر کٹ مرنے والا مولوی اور یہی مولوی ہے جو اندھیرے میں روشنی کا چراغ ہے امیدوں کا آسرا ہے جو شدید دھوپ میں چھاؤں ہے یہی مولوی ہے جو گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں سحر کی نوید ہے.

انتباہ

بعض لوگوں کے خیال میں مولوی کو فرشتہ ہونا چاہیے تو وہ خام خیالی کا شکار ہیں مولوی بھی ہماری طرح انسان ہے معاشرے میں ہر طرف زہر پھیلا ہے اب مولوی اس زہریلی فضا اور گناہ سے لتھڑے معاشرے سے دور کس فضا میں سانس لے؟ اس پر بھی تمناؤں کے خواہشات کے سائے چھا جاتے ہیں وہ بھی خطا کرتا ہے جب انسان ہے ہی خطا کا پتلا تو مولوی سے بے خطا ہونے کی ڈیمانڈ کیوں؟  مولوی کی اس معاشرے میں مثال ایسی ہے کہ جیسے دریا کی مخالف سمت تیرتا ہوا شخص اب یہ شخص پورے معاشرے سے الگ رُخ پر تیر رہا کیا یہی غنیمت نہیں؟ لیکن ہم چاہتے ہیں وہ اسپیڈ بوٹ کی رفتار پکڑ لے اور انسانوں کے درمیان فرشتوں کا نزول ہو۔ ایسا ممکن نہیں ہے بس جو بنیادی طور پر حق کے ساتھ ہے وہ چاہے جیسا مولوی کیوں نہ ہو ہمارے سر کا تاج ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ یہ حق کے ساتھ ہونے کو بنیادی و ضروری سطح پر دیکھنا ہوگا ورنہ تمام مسالک اور گروپوں کی نظر میں صرف انہی کے مولوی قابل قدر ٹھہریں گے بس مولویوں کو چاہیے کہ وہ خود پر خوب محنت کریں اور ہمیں چاہیے کہ مولوی کو خود سے بہتر سمجھیں ہاں یقیناً وہ ہم سے بہتر ہی ہیں کیوں کہ انہوں نے آقا کے پیارے دین کی کم سے کم ظاہراً تو لاج رکھی ہے اور ہم وہ مسٹر نما مسلمان ہیں کہ بس آدھا ہندو اور پورا فرنگی بننے میں تھوڑی ہی کسر باقی رہ گئی ہے جسے چند عبادات اور ہماری مذہبی سوچ نے روکے رکھا ہے اور اس کا سبب بھی یہی مولوی ہے جس کے سہارے ہمارے جیسے آدھے ادھورے مسٹر نما مسلمان زندہ ہیں اور اسلام کے نام لیوا ہیں.

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online