Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

ماہِ مبارک میں خوب مزے کریں! (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 645 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd Mah e Mubark mein Maze Karein

ماہِ مبارک میں خوب مزے کریں!

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 645)

رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی جب سر کش شیطاطین قید ہو جاتے ہیں تو کچھ انسان ہی شیاطین کی جگہ سنبھال لیتے ہیں ۔ وہ روزوں پر لطیفے بناتے ہیں ، تراویح کا مذاق اڑاتے ہیں ، تلاوت کو وقت کا ضیاع بتاتے ہیں اور شعائرِ اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ دراصل ان شیطان کے چیلوں کو تکلیف صرف یہ ہوتی ہے کہ دین اسلام آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ کیوں باقی ہے ، چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی ہر سمت قرآن مجید کی صدائیں کیوں گونج رہی ہیں اور دنیاوی لالچوں اور خوفناک دھمکیوںکے باوجود آج بھی مسلمان کیوں اپنے دین کے تحفظ کیلئے سینہ سپر ہے ۔ سب لوگ ان کی طرح کیوں شراب ، کباب اور شباب کی رنگینیوں میں مست ہو کر گندگی کی اس دلدل میں دھنس جاتے، جہاں انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور شیطان بھی ان سے پناہ مانگتا ہے

اللہ تعالیٰ سے محبت اور تعلق …

حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور پیروی …

اسلام جیسے خوبصورت ، معتدل اور متوازن نظام زندگی کو اختیار کرنا …

یہ تینوں کتنی عظیم نعمتیں ہیں کائنات کی تمام چیزیں مل کر بھی ان نعمتوں کے برابر تو کیا ، ان کے ایک ذرے کی قیمت نہیں بن سکتیں ۔ اس لیے آئو ، ایک مرتبہ دل کی گہرائیوں سے کہہ دیں:

رضیت باللّٰہ ربا ، وبا لا سلام دینا ، وبمحمد رسولاً

’’ میں راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ‘‘ ۔

جانتے بھی ہو اگر انسان یہ بات صرف زبان سے نہیں‘ دل کی گہرائی سے کہہ دے تو اس کا کیا مقام اور مرتبہ ہے؟

سیدنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

جس شخص نے یہ کہا (اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جو اس پر راضی ہو گیا ) :

’’ رضیت باللّٰہ ربا ، وبالا سلام دینا ، وبمحمد  رسولاً ‘‘

تو اس کیلئے جنت لازم ہو گئی ۔

حضرت ابو سعید ؓ اس بات سے اتنے خوش ہوئے کہ یہ فرمائش کر دی :

’’ اعدھا علیّ یا رسول اللہ ‘‘

’’ اے اللہ کے رسول! مجھے دوبارہ یہ بات ارشاد فرمادیں ‘‘۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لاڈلے صحابی کی فرمائش پوری فرمائی اور یہی بات دوبارہ ارشاد فرمائی ۔ ( صحیح ابن حبان‘ صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اُسی کی عبادت کرے‘ اُسی سے اپنی امیدیں وابستہ کرے ‘ اسی کے درپر اپنا سر جھکائے اور اُسی سے اپنی دینی و دنیاوی حاجات میں مدد مانگے۔

اسلام کے دین ہونے پر راضی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسلامی عقیدہ اور نظریہ ہی اختیار کرے‘ اسلام جیسی نعمت کے ملنے پر شکر کے جذبات سے سر شار رہے اور اپنی زندگی گزارنے کیلئے کسی اور ’’ازم ‘‘ یا ’’نظریے ‘‘ کی پیروی نہ کرے ۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سے سچی اور گہری محبت کرے‘ آپ کے احکام پر دل و جان سے عمل کرے اور آپ پر دل و جان سے فدا ہو جائے ۔

جس انسان کو یہ نعمتیں نصیب ہو جائیں تو پھر اُس کیلئے پریشانی کی کوئی بات نہیں کہ اُسے دنیا کم ملی یا زیادہ ‘ وہ بڑے بنگلے میں رہتا ہے یا کچی جھونپڑی میں ‘ اُس کی اولاد ہے یا نہیں ‘ وہ مشہور و معروف ہے یا گم نام و بے نشان ۔ اس دنیا میں ہر ایک کا گزارہ ہو جاتا ہے اور اگر دل میں ایمان اور قناعت کی دولت ہو تو بہت اچھی اور شاندار زندگی گزر جاتی ہے ۔

جب انسان کو یہ تین نعمتیں مل جائیں اور دل میں ان کی قدرو قیمت بیٹھ جائے تو پھر اُسے ایمان کی لذت ‘ حلاوت اور مٹھاس محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ پھر روزے میں جتنی گرمی ستائے اُتنا ہی مزا آتا ہے ، تراویح جتنی لمبی ہو جائے اتنی ہی دلچسپی بڑھتی ہے اور دین کے کاموں میں جتنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑے اس کا دل اتنا ہی خوشی محسوس کرتا ہے ۔ محبوب جتنا زیادہ قبول کر لے ‘ سچے عاشق کے دل میں اتنے ہی شکرگزاری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں بلکہ سچا عاشق تو ہوتا ہی وہ ہے جو محبوب کے در پر اپنی جان‘ اپنا مال ‘ اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں خوشی خوشی نچھاور کر دیتا ہے اور پھر بھی اُس کی زبان پر یہی ہوتا ہے کہ :

’’ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ‘‘

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو کتنے پیارے انداز سے سمجھایا ہے ۔ آپ کے چچا سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ذاق طعم الایمان من رضی باللّٰہ رباً ، وبالا سلام دیناً ، وبمحمد رسولاً (صحیح مسلم)

’’ اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا ، جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا ‘‘ ۔

ویسے تو ایمان کی حلاوت اور مٹھاس ، ہر وقت ہی صاحب ِ ایمان کو محسوس ہوتی ہے لیکن رمضان کا مہینہ تو گویا خاص بنا ہی اسی لطف اور مزے کیلئے ہے ۔

آخر گرمی کے روزوں میں کچھ تو لذت اور مزہ تھا ‘ تب ہی تو اسلاف میں سے کئی بزرگ ایسے روزوں کی حسرت ، تمنا اور آرزو کرتے تھے ۔

مشہور تابعی عامر بن عبد قیس ؒ جب بصرہ سے شام آئے تو امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ آپ کو کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتا دیں ، انہوں نے کوئی ضرورت نہیں بتائی ، جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا تو وہ کہنے لگے:

’’ حاجتی ان تردعلی من حرالبصرۃ ، لعل الصوم ان یشتد علی شیاء فانہ یخف علیّ فی بلاد کم ‘‘( لطائف المعارف ، ۴۴۷)

’’ میری ضرورت یہ ہے کہ بصرہ کی گرمی مجھے لٹا دیں‘ تاکہ یہ روزہ کچھ تو مجھ پر سخت ہو جائے ‘ آپ کے شہر (شام) میں تو روزہ میرے لیے بہت آسان ہے ‘‘ ۔

اسی طرح حضرت ابو زید العجلی ؒ فرمایا کرتے تھے:

’’ لو لا ثلاث : ظمأ الھواجر و طول لیل الشتاء ولذۃ التھجد بکتاب اللہ عزوجل ، مابالیت ان اکون یعسوبا‘‘ ( حلیۃ الاولیاء ۴؍۱۵۹)

’’ اگر تین باتیں نہ ہوتیں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ میں انسان کے بجائے یعسوب (شہد کی بڑی مکھی) ہوتا :

(۱)… سخت گرمی میں شدت کی پیاس ( یعنی گرمیوں کا روزہ )

(۲)… سردیوں کی لمبی راتیں (یعنی اُن میں نماز و مناجات )

(۳)… کتاب اللہ کے ساتھ تہجد میں نصیب ہونے والی لذت ۔

ماہِ رمضان آتا ہے تو اپنے ساتھ مختلف ایمانی لطف اور رنگارنگ مزوں کی بہاریں لے کر آتا ہے ۔ پھر رمضان تو ماہِ قرآن بھی ہے۔ اس مہینے میں تلاوتِ قرآنِ مجید کے ذریعے اہل ایمان اللہ تعالیٰ کا جو قرب حاصل کرتے ہیں ، اُس کے تو کیا کہنے ۔ ایسے واقعات جن سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دور میں اللہ کے نیک بندے پوری پوری رات مزے لے کر قرآن مجید پڑھتے تھے، وہ تو بے شمار ہیں مگر چودہویں صدی میں ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ نے اپنی مزے کی کیفیت کو ایک مرتبہ یوں فرمایا :

’’ جو لذت ہم کو قرآن میں آتی ہے ، اگر تم کو وہ لذت ذرہ بھر بھی آئے تو ہماری طرح نہ بیٹھ سکو ۔ کپڑے پھاڑ کر جنگل کو نکل جائو ‘‘ ۔

ایک مرتبہ فرمانے لگے :

’’ ہم کو قرآن شریف کے بدلے جنت بھی ملے تو منظور نہیں ۔ اگر قرآن شریف ساتھ ہو تو پھر کیا مضائقہ ہے ۔ ہمارے پاس جنت میں حوریں آئیں گی تو ان سے ہم کہیں گے کہ آئو بی بی بیٹھ جائو ! تم بھی قرآن شریف سنو ‘‘ ۔

اللہ تعالیٰ نے جو مزے ایمان والوں کو پاکیزگی کے ساتھ عطا فرمائے ہیں‘ اہل دنیا جو ناجائز آلات اور اسباب میں مزے ڈھونڈتے ہیں‘ وہ ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔امام ابن قیمؒ نے اپنی کتاب ’’ مدارج السالکین‘‘ میں اپنے استاذ امام ابن تیمیہ ؒ کی جو بات نقل کی ہے ‘ اس کا بھی یہی مطلب ہے ۔ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے تھے:

ان فی الدنیا جنۃ من لم ید خلھا لم یدخل جنۃ الآخرۃ

’’ بے شک دنیا میں بھی ایک جنت ہے اور جو اس میں داخل نہ ہوا ‘ وہ آخرت کی جنت میں نہیں داخل ہو گا ‘‘

امام ابن تیمیہ ؒ کو جب قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور بظاہر بڑے سخت حالات پیش آئے تو کچھ خیر خواہوں نے آپ کو اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنے کیلئے راضی کرنا چاہا ‘ تب آپ نے فرمایا :

’’ ما یصنع اعدائی بی ، ینتقمون منی بای طریقۃ؟سجنی خلوۃ و نفیی سیاحۃ و قتلی شہادۃ ‘‘

’’ میرے دشمن میرا کیا بگاڑ لیں گے اور مجھ سے کیسے انتقام لیں گے؟ اگر وہ مجھے جیل میں قید کر دیں تو مجھے (عبادت کیلئے) تنہائی مل جائے گی ، اگر وہ مجھے جلا وطن کر یں گے تو مجھے (مخلوق خدا میں غور و فکر کیلئے) سیاحت کا موقع مل جائے گا اور اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو مجھے شہادت نصیب ہو جائے گی ( جس سے بڑھ کر میرے لیے کوئی اعزاز نہیں )‘‘۔

ایمان اور ایقان سے نکلے ہوئے یہ جملے بتا رہے ہیں کہ ایمان والے تو سخت سے سخت حالات میں بھی مزے کر رہے ہوتے ہیں اور عوامی زبان میں کہا جائے تو عیاشی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اسی لیے کئی اولیاء اللہ سے یہ بات منقول ہے:

لو علم الملوک و ابناء الملوک مانحن فیہ لجادلونا علیہ بالسیوف

’’ اگر یہ بادشاہ اور شہزادے ان مزوں کو جان لیں جن میں ہم رہ رہے ہیں تو یہ ہم سے وہ مزے چھیننے کیلئے تلواریں لے کر جنگ کرنے آجائیں‘‘۔

اے ایمان والو!

رمضان تمہارے لیے آیا ہے ‘ تمہیں بنانے اور چمکانے کیلئے آیا ہے ‘ تمہیں بہت کچھ دینے اور نوازنے کیلئے آیا ہے ۔ اس لیے خوب ذوق و شوق سے گرمی کے روزے رکھو ۔ پوری یکسوئی اور اطمینان سے طویل نماز تراویح پڑھو ۔ دن رات قرآن مجید پڑھو ‘ سمجھو اور اس پر عمل کرو ۔ اعتکاف کے ذریعے درِ محبوب پر پڑے رہنے کا سکون پائو ۔ صدقہ و خیرات کے ذریعے اپنے ماحول کو جنت بنائو۔ دین کی محبت کیلئے ایسی زبردست قربانی پیش کرو کہ اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والوں کے دل دہل جائیں ۔ دعائوں اور مناجات کے ساتھ سحر و افطار کے مزے اڑائو ، اس فانی زندگی کا خوب پاکیزہ لطف اٹھائو ، خوب روحانی مزے کرو اور خوب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو

اللہ کریم ان اقوال کو ہمارا حال بنا دے اور اس ماہِ مبارک کو پوری امت مسلمہ کیلئے رحمتوں‘ برکتوں اور خوشیوں کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online