Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اپنے رب جلّ شانہ کو خوش کر دیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 647 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Apne Rabb ko Khush Ker Dein

اپنے رب جلّ شانہ کو خوش کر دیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 647)

آج رات سے رمضان المبارک کا آخری عشرہ (دس دن) شروع ہو رہا ہے ۔ ویسے تو ماہِ مبارک کا ہر دن اور ہر رات ہی بہت قیمتی ہے لیکن آنے والے دن اور رات بہت زیادہ اہم اور قدروقیمت والے ہیں۔ انہی راتوں میں سے ایک رات وہ ہے جسے قرآنِ مجید میں ’’ لیلۃ القدر ‘‘ فرمایا ہے اور اس میں عبادت کا اجروثواب ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر بتایا ہے ۔ ایک ہزار مہینے تقریباً تیراسی (83) سال بنتے ہیں ۔ آج کل اتنی عمر کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور اگر ہو جائے تو بھی کون ہے جو پوری زندگی عبادت میں مصروف رہ سکے ۔

اسی لیے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان دنوں اور راتوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نقل فرماتی ہیں :

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل العشر احیا لیلہ، و ایقظ اہلہ، و جد، وشدمیزرہ

( جب رمضان کے آخری دس دن شروع ہوتے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے ،عبادت میں خوب کوشش فرماتے اور کمر ہمت کس لیا کرتے تھے)

ان دس دنوں کی خاص عبادت تو اعتکاف ہے جس کی آسان تعبیر یہ شعر ہے ـ :

تو اپنا در نہ کھولے گا ، میں تیرا در نہ چھوڑوں گا

حکومت اپنی اپنی ہے ،یہاں میری وہاں تیری

جس شخص کو یہ عاشقانہ اور والہانہ عبادت نصیب ہو جائے تو اُس کے کیا کہنے ، لیکن جو مسلمان اعتکاف نہیں بیٹھ سکے وہ بھی معمولی سی توجہ سے رمضان المبارک کے بقیہ دن اور راتوں کو قیمتی بنا سکتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں یہ چند باتیں عرض کی جا رہی ہیں:

٭… اس ماہِ مبارک میں قرآن مجید کی تلاوت پر خصوصی توجہ دیں۔ رمضان در حقیقت ماہ قرآن ہے اور اس مہینے کو کلام الٰہی سے خصوصی مناسبت ہے ۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے ماہ مبارک میں قرآن مجید کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیں۔ اگر ساتھ ساتھ علماء حق کی مستند تفاسیر میں سے کسی کا مطالعہ اور ان کے حلقۂ درسِ قرآن میں شمولیت کی سعادت بھی مل جائے تو کیا کہنے!

٭… دعا، استغفار ، ذکر الٰہی اور درود شریف کی خوب کثرت کریں۔ چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو ان مبارک کلمات کا عادی بنائیں۔ فضول باتوں اور بیہودہ گوئی سے مکمل پرہیز اور احتراز کریں۔

٭… اپنی استطاعت کے مطابق مسلمانوں کو روزہ افطار کروانے کا اہتمام کریں کہ یہ بہت بڑی نیکی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی اللہ کے راستے میں نیز فقراء و مساکین پر خوب خرچ کریں۔ کیونکہ رمضان المبارک میں صدقات و خیرات کا اجر بھی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

٭… تراویح اور نماز تہجد کو مکمل توجہ اور اہتمام سے ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔ سستی اور غفلت کی بجائے چستی اور تندہی سے تمام عبادات ادا کریں۔

٭…رمضان المبارک کا ایک منٹ کتنا قیمتی ہے؟ اندازہ لگائیں کہ ماہ مبارک کے صرف ایک منٹ میں ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں:

(۱)… ایک منٹ میں آپ سورہ فاتحہ جتنی سورت بآسانی تلاوت کر سکتے ہیں اور قرآن کریم کے ہر حرف پر کم از کم دس نیکیاں تو یقینی ہیں۔ اس طرح ایک منٹ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں نیکیاں جمع کی جا سکتی ہیں۔

(۲)… آپ کوشش کر کے ایک چھوٹی آیت کریمہ ایک منٹ میں زبانی بھی یاد کر سکتے ہیں۔

(۳)… آپ ایک منٹ میں کئی مرتبہ با سہولت یہ کلمہ پڑھ سکتے ہیں:لَا اِلٰہَ اِلاّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرْ

(۴)… ایک منٹ میں آپ با آسانی درجنوں مرتبہ یہ کلمہ پڑھ سکتے ہیں:سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِ ہْ

(۵)… ایک منٹ میں آپ با آسانی بیس سے پچیس مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

(۶)… ایک منٹ میں آپ سو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی مانگ سکتے ہیں۔اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الْعَظِیْمَ

(۷)… ایک منٹ میں آپ کسی کو کوئی اچھی بات بتا سکتے ہیں یا کسی کو برے کام سے روک سکتے ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا یہ فریضہ ادا کرنے کیلئے اور اس کا اجر و ثواب حاصل کرنے کیلئے فون یا موبائل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

(۸)… ایک منٹ میں آپ کسی مسلمان کے ساتھ غم خواری کر سکتے ہیں، کسی بیمار مسلمان کی عیادت کر سکتے ہیں، کسی فوت شدہ مسلمان کی تعزیت کر سکتے ہیں اور کسی رشتے دار کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتے ہیں۔

(۹)… ایک منٹ میں آپ دین کی کوئی بات ، عبادات معاملات وغیرہ کے بارے میں کوئی دینی مسئلہ یا فتوٰی معلوم کرسکتے ہیں اور اس طرح آپ علم دین حاصل کرنے کا ثواب حاصل کر لیں گے۔

(۱۰)… ایک منٹ میں آپ کئی اچھی نیتیں اور ارادے کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نیک نیت پر بھی ایک اجر ہے۔

یاد رکھیں کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور بندوں کا کام عاجزی اور انکساری ہے ۔عوامی حلقوں میں یہ جملہ زبان زد ِعام ہے’’نوکر کی تے نخرے کی ‘‘ یعنی نوکری اور ملازمت میں نخرے اور بڑائی نہیں چلتی ۔اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’بندہ کی تے نخرا کی‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہو‘ مملوک ہو اور ہر لمحے اس کی نعمتوں سے سرفراز ہو رہاہو ،اسے تکبر اور بڑائی زیب نہیں دیتی ،اس کے ساتھ بندگی ہی اچھی لگتی ہے ۔

اگر ہم سچ مچ اللہ تعالیٰ کے بندے بن جائیں تو ہماری حالت وہ ہی ہوگی ،جو علامہ ابن قیم ؒ نے نقل فرمائی ہے ۔وہ تحریر فرماتے ہیں :

’’ایک عارف (اللہ والے ) ایک گلی سے گزررہے تھے ،انہوں نے دیکھا کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا اور ایک بچہ روتا ،چلاتا ہوا اس میں سے نکلا ۔اس کی ماں اس کو گھر سے دھکے دے دے کر نکال رہی تھی ،جب وہ دروازے سے باہر ہو گیا توماں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ بچہ اس طرح روتا ،بلکتا،بڑبڑاتا کچھ دور تک گیا ،پھر ایک جگہ پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور سو چنے لگا کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر کے سوا کہاں جاسکتا ہوںاور کون مجھے اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔یہ سوچ کر وہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اپنے گھر کی طرف لوٹ آیا ۔دروازے پر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند ہے تو وہ بے چارا وہیں چوکھٹ پر سر رکھ کے پڑگیا اور اسی حالت میں سو گیا ۔

جب ماں باہر آئی ،اس نے دروازہ کھولا اور اپنے بچے کو اس طرح چوکھٹ پر سر رکھ کے پڑا دیکھا تو اس کا دل بھر آیا اور ممتا کا جذبہ اُبھرآیا ۔اس کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے ،بچے کو اس نے اُٹھا کر سینے سے لگایا اور اسے پیار کرنے لگی ۔وہ ساتھ ساتھ یوں کہہ رہی تھی :

’’بیٹے !تو نے دیکھ لیا کہ تیرے لئے میرے سوا کون ہے ۔تو نے نالائقی ،نافرمانی اور نادانی کا راستہ اختیار کر کے اور میرا دل دکھا کے مجھے وہ غصہ دلایا جو تیرے لئے میری فطرت نہیں ہے ۔میری فطرت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ میں تجھے پیار کروں ،تجھے راحت وآرام پہنچانے کی کوشش کروں اور تیرے لئے ہر خیر اور بھلائی چاہوں۔میرے پاس جو کچھ ہے وہ تیرے ہی لئے ہے ‘‘

اس اللہ والے نے بیٹے اور ماں کا یہ ماجراء دیکھا تو اس سے وہ ہی سبق لیا جو ان کے لئے مناسب اور مفید تھا ‘‘(مدارج السالکین)

اگر ہم دنیاوی بکھیڑ وں سے چند لمحات نکال کر یہ سوچنا گوارا کر لیں کہ جس طرح بچے کا گزارہ ماں باپ کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلا ہمارا گزارہ اپنے رب جل شانہ کے بغیرکیسے ہو سکتا ہے ۔اُسی نے ہمیں پیدا کیا ،اُسی نے ہمیں ایمان ،روزی ،عزت اور دیگر تمام نعمتوں سے نوازا ۔ وہ چاہے تو لمحوں میں ہمیں صفر پر پہنچا دے ۔وہ چاہے تو عقل وشعور چھین کر ہمیں پاگلوں کی صف میں کھڑا کر دے ۔وہ چاہے تو سیکنڈوںمیں ہماری سانس کی ڈور کٹ جائے اور ہم پیوند خاک ہو جائیں ۔پھر یہاں بھی تو قصہ ختم نہیں ہو گا ،آگے بھی تو اُسی کریم رب جل شانہ سے واسطہ پڑنا ہے ۔اُسی کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور صرف اُسی کے کرم سے ہمارا کام چل سکتا ہے ۔

افسوس کہ ہم دنیا میں تو ہر اُس شخص سے تعلق بنانے کی کو شش کرتے ہیں ،جس سے مستقبل میں واسطہ پڑنے کی کوئی موہوم سی امید بھی ہوتی ہے لیکن اُس رب جل شانہ سے تعلق بنانا بھول جاتے ہیں ،جس کے کرم سے ہی ماضی میں ہمارا ہر کام بنا ،اُ سی کی مہربانی سے ہمارا حال لاکھوں کروڑوں انسانوں سے اچھا گزررہا ہے اور مستقبل میں تو بس وہ ہی ہے اور کوئی نہیں ۔کوئی ظاہری سہارا بھی اُس کے سوا نہیں ۔ایسی ذات پاک سے زیادہ کس سے تعلق بنانے کی ضرورت ہو گی ۔ہم بھول جاتے ہیں کہ :

ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے

مکین ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے

ہوئے نام ور بے نشاں کیسے کیسے

زمین کھا گئی ،آسماں کیسے کیسے

سوچیں! کیا ایسے حالات میں بغیر رب تعالیٰ کے تعلق کے گزارہ چل سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔پھر رب تعالیٰ شانہ کتنے مہربان ہیں اور ہماری توبہ کو کیسے قبول فرماتے ہیں ، اُس کا اندازہ اس حدیث پاک سے ہوتا ہے :

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے :خدا کی قسم !اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کی توبہ سے اس مسافر آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو (اثنائے سفر میں ) کسی ایسی غیر آباد اور سنسان زمین پر اُتر گیا جو سامان حیات سے خالی اور اسباب ہلاکت سے بھر پور ہو اور اس کے ساتھ بس اُس کی اونٹنی کی سواری ہو ‘ اُسی پر اُس کے کھانے پینے کا سامان ہو ‘ پھر وہ (آرام لینے کیلئے ) سر رکھ کے لیٹ جائے ‘ پھر اُسے نیند آجائے ‘ پھر اُس کی آنکھ کھلے تو دیکھے کہ اس کی اونٹنی ( پورے سامان سمیت) غائب ہے ‘ پھر وہ اس کی تلاش میں سرگردا ںہو ‘ یہاں تک کہ گرمی اور پیاس وغیرہ کی شدت سے جب اس کی جان پر بن آئے تو وہ سوچنے لگے کہ (میرے لیے اب یہی بہتر ہے کہ ) میں اُسی جگہ جا کر پڑ جائوں (جہاں سو یا تھا ) یہاں تک کہ مجھے موت آجائے ‘ پھر وہ ( اسی ارادے سے وہاں آکر ) اپنے بازو پر سر رکھ کر مرنے کیلئے لیٹ جائے ‘ پھر اس کی آنکھ کھلے تو وہ دیکھے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس موجود ہے اور اس پر کھانے پینے کا پورا سامان ( جوں کا توں محفوظ) ہے تو جتنا خوش یہ مسافر اپنی اونٹنی کے ملنے سے ہو گا ‘ خدا کی قسم! مؤمن بندے کے توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں‘‘( بخاری و مسلم)

اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذوق و شوق اور توفیق مل جانا ایک عظیم الشان نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے سے راضی ہوتے ہیں ‘ جسے اپنا بنانا چاہتے ہیں‘ جسے دنیا و آخرت کی سعادتوں سے نوازتا چاہتے ہیں اور جسے کامیابی کے اعلیٰ ترین مراتب پر فائز کرنا چاہتے ہیں ‘ بس اُسی کو یہ نعمت عطا فرماتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ لازوال نعمت نصیب فرمائے اور ماہِ مبارک کے بقیہ دن اور راتوں کو پوری امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین ثم آمین)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online