Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

عید ضرور منائیں لیکن! (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 648 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Eid Zaroor Manaein Lekin

عید ضرور منائیں لیکن!

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 648)

رمضان المبارک بہت سا بیت چکا ہے اور عید الفطر جلوئہ فگن ہونے والی ہے ۔

رمضان کے لمحات کو قدر دانی اور دانش مندی کے ساتھ گزارنے والوں کو خوشیوں کے یہ لمحات مبارک ہوں ۔ اللہ کرے کہ یہ عید ہمارے لیے دنیا و آخرت کی مسرتوں اور بہاروں کی نوید بن جائے ۔ آمین ۔

تہوار ، خواہ کسی بھی قوم کے ہوں ۔ وہ ان کی اجتماعی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ تہوار ان کی شناخت ہوتے ہیں اور لوگوں کے بکھرے ہوئے افراد کی شیرازہ بندی کر کے ان کو ایک لڑی میں یہی تہوار پرو دیتے ہیں ۔

مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ آئے ۔ عید الفطر اور عید الاضحی ان دونوں تہواروں کا سلسلہ بھی اسی وقت سے شروع ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ( جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کر چکی تھی ) دو تہوار منایا کرتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ : یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے ؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے؟) انہوں نے عرض کیا کہ ہم جاہلیت میں (یعنی) اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے( بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلہ میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر کر دیے ہیں( اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں) یوم عید الاضحی اور یوم عید الفطر‘‘۔( سنن ابی دائود)

جیسا کہ معلوم ہے عید الفطر رمضان المبارک کے ختم ہونے پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے اور عید الاضحی ۱۰؍ذی الحجہ کو ۔ رمضان المبارک دینی و روحانی حیثیت سے سال کے بارہ مہینوں میں سب سے مبارک مہینہ ہے ۔

اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا ۔ اسی پورے مہینے کے روزے امت مسلمہ پر فرض کیے گئے ہیں ۔ اس کی راتوں میں ایک مستقل با جماعت نماز کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اور ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کی ترغیب دی گئی ہے ۔

الغرض یہ پورا مہینہ خواہشات کی قربانی اور مجاہدہ کا اور ہر طرح کی طاعات و عبادات کی کثرت کا مہینہ قرار دیا گیا ہے ۔

 ظاہر ہے کہ اس مہینہ کے خاتمہ پر جو دن آئے ایمانی اور روحانی برکتوں کے لحاظ سے وہی سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اس امت کے جشن و مسرت کا دن اور تہوار بنایا جائے ۔

 چنانچہ اسی دن کو عید الفطر قرار دیا گیا اور گویا یہ اللہ کی رضا کی تلاش میں روزہ رکھنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے ۔

رمضان المبارک کے بعد نصیب ہونے والا خوشیوں اور مسرتوں کا یہ دن ، صرف ایک رسمی تہوار ہی نہیں بلکہ اہل ایمان کو اپنی خوشیاں منانے کا ایک ڈھنگ بھی سکھاتا ہے ۔ اس کے آنے سے پہلے تمام صاحب استطاعت لوگوں پر لازم کر دیا جاتا ہے کہ وہ صدقہ ٔ فطر کی شکل میں اپنے ضرورت مند بھائیوں کو ان خوشیوں میں شریک کریں ۔ ایک حدیث پاک کی رو سے انسان کے روزے اس وقت معلق رہتے ہیں اور درجۂ قبولیت نہیں پاتے جب تک وہ صدقہ ٔ فطر نہ ادا کرے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان عید کی نماز کے لیے آنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کریں جو مالدار مسلمان غریب مسلمانوں کو دیں تاکہ غریب بھی عید کا دن اچھی طرح منا سکیں۔ اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہیـ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد پر اور ہر مرد و عورت پر اور ہر چھوٹے اور بڑے پر صدقہ فطرلازم کیا ہے ، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو اور حکم دیا کہ یہ صدقہ فطر نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔

گویا اسلام نے اہل ثروت مسلمان کو یہ درس دیا کہ وہ خوشی کوئی خوشی نہیں جس میں ایک گھر میں شادیانے بج رہے ہوں اور دوسرے گھر میں کھانے پینے کی اشیاء بھی میسر نہ ہوں ۔ایک شخص تو اپنے اہل خانہ میں ‘ نعمتوں ‘ راحتوں اور آسائشوں میں مست و مگن ہو مگر اس کے پڑوس میں رہنے والے فاقہ کشی پر مجبور ہوں ۔ صدقہ ٔ فطر کی شکل میں ہمیں یہ احساس عطا کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی مصیبت اور پریشانی سے لا تعلق ہو کر نہیں رہ سکتا بلکہ وہ دوسروں کی ضرورت اور حاجت کو اپنی خوشی منانے پر مقدم رکھتا ہے ۔

پھر مسلمانوں کا یہ مقدس تہوار اس لحاظ سے بھی ممتاز اور منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس دن کا آغاز دو رکعت نماز عید واجب ادا کرکے کیا جاتا ہے ۔ جس میں چھ زائد تکبیر ات ہوتی ہیں ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔ سب سے پہلے آپ نماز پڑھتے تھے ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تھے اور لوگ بد ستور صفوں میں بیٹھے رہتے تھے ۔

 پھر آپ ان کو خطبہ اور وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور احکام دیتے تھے اور اگر آپ کا ارادہ کوئی لشکر یا دستہ تیار کر کے کسی طرف روانہ کرنے کا ہوتا تو آپ ( عیدین کی نماز و خطبہ کے بعد) اس کو بھی روانہ فرماتے تھے یا کسی خاص چیز کے بارے میں آپ کو حکم دینا ہوتا تو اسی موقع پر وہ بھی دیتے تھے پھر( ان سارے اہم کاموں سے فارغ ہوکر) آپ عید گاہ سے واپس ہوتے تھے۔

 اس حدیث سے معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا کہ عیدین کی نماز آپ مدینہ طیبہ کی آبادی سے باہر اس میدان میں پڑھتے تھے جس کو آپ نے اس کام کے لیے منتخب فرما لیا تھا اور گویا  عید گاہ قرار دے دیا تھا ،اس وقت اس کے گرد کوئی چار دیواری بھی نہ تھی ، بس صحرائی میدان تھا۔ لکھا ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ایک ہزار قدم کے فاصلے پر تھا۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عید کے دن نماز و خطبہ کے بعد عید گاہ ہی میں اعلاء کلمۃ الحق کے لیے مجاہدین کے لشکر اور دستے بھی منظم کیے جاتے تھے اور وہیں سے ان کو رخصت اور روانہ کیا جاتا تھا ۔

 عید کے دن ایک اضافی نماز کے ذریعے گویا مسلمانوںکو یہ سبق سکھایا جا رہا ہے کہ خوشی کا یہ مطلب اور مفہوم نہیں کہ انسان اپنے خالق و مالک کو ہی بھلا بیٹھے اور خوشیاں منانے کی آڑ میں اس کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو جائے بلکہ خوشی کے دن سب سے پہلے اس رب کا شکر ادا کرے جس نے اسے خوشی کا یہ موقع نصیب فرمایا ۔ اسی لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :

لیس العید لمن لبس الجدید

انما العید لمن خاف الوعید

یعنی حقیقی عید اور خوشی اُس شخص کی نہیں جس نے صرف نئے کپڑے زیب تن کر لیئے اور اس دن زرق و برق لباس پہن لیا بلکہ اصل عید اس شخص کی ہے جو رب کی وعید سے ڈر گیا اور اس نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی ۔

اس لئے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں عید ہی نہیں خوشی کے دیگر مواقع جیسے شادی بیاہ وغیرہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی نا فرمانیوں سے بچنا چاہیے اور اپنے آپ کو ان اقوام پر قیاس نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے مذہب کے احکامات کو پس پشت ڈال کر گانے بجانے اور دیگر خرافات کو موجِ مستی کا نام دیدیا ہے ۔ اگر انسان کی ہوس کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو پھر وہ ہی کچھ ہوتا ہے جو آج یورپ میں ہو رہا ہے جس کے بارے میں سن کر بھی انسان کا سر شرم کے مارے جھک جاتا ہے ۔

آج جب ہم اپنے اپنے گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے جا رہے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمانوں کے جسد ملی کا ایک بہت بڑا حصہ ان خوشیوں سے محروم ہے اور وہ کفار کے ظلم و ستم کا شکار اور اپنوں کی بے حسی کا شاہکار بن چکے ہیں ۔ آج فلسطین سے لے کر شام تک اور کشمیر سے لے کر افغانستان تک فرزندانِ توحید جس جبر مسلسل کا شکار ہیں ‘ وہ ایک حساس دل کی نیندیں اڑانے اور اسے بے قرار کرنے کیلئے کافی ہے ۔

ہم عید ضرور منائیں لیکن ساتھ ہی  امت مسلمہ کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے یہ بھی یاد رکھیں گے کہ :

٭ قبلہ ٔ اول مسجد اقصیٰ بھی ابھی تک یہودیوں کے پنجہ  ٔ ستم میں سسک رہی ہے ۔

٭ فلسطینی مسلمان اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے ساٹھ برس سے زیادہ بِتا چکے ہیں مگر تمام دنیاوی طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کر رہی ہیں ۔

٭ افغانستان پر صلیبی پرچم ابھی تک لہرا رہا ہے اور دنیا بھر کے کافر وہاں اسلام کا راستہ روکنے کیلئے متفق و متحد ہیں ۔

٭ کشمیر میں آج بھی مسلمان اپنی آزادی کے لیے اہل پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

٭ شام ‘ انبیاء علیہم السلام کی سر زمین پر ابھی تک مختلف غیر مسلم افواج قابض ہیں اور وہ اس کو ایک باج گزار ریاست کے طور پر ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔

٭ ہاں ! راہ خدا کے قیدی اور کفار کی  جیلوں میں زیر حراست وہ عظیم لوگ جنہوں نے اپنا آج ‘ امت مسلمہ کے کل پر قربان کر دیا ہے ۔ ان کو فراموش کر دینا بھی اخوت اسلامی کی توہین ہے ۔

٭ محاذوں پر بر سرِ پیکار مجاہدین اور اپنی جوانیاں راہِ وفا میں لٹانے والے شہداء کرام کے گھرانے اس خوشی کے دن میں ہمارے توجہ کے زیادہ مستحق ہیں ۔

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو حقیقی خوشیوں بھری سینکڑوں عیدیں نصیب فرمائے ۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online