Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

اُحد شریف کے دامن میں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 649 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Uhud Sharif k Daman mein

اُحد شریف کے دامن میں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 649)

شوال ۳ہجری سے ۱۴۳۹ہجری تک کتنا طویل زمانہ ہے ۔ چودہ صدیاں مکمل اور چھتیس سال اوپر ۔ لیکن آج بھی انسان جب مدینہ منورہ کے قریب اُحد شریف کے دامن میں جا کر کھڑا ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے‘ جیسے فاصلے سمٹ چکے ہوں اور وہ سب کچھ جو زندگی بھر اُس نے لوگوں سے سنا تھا اور کتابوں میں پڑھا تھا آج اپنی چشم تصور سے خود دیکھ رہا ہو ۔

کتنا خوش قسمت ہے یہ ۱۰۷۷میٹر بلند پہاڑ‘ جسے زبانِ نبوت سے کتنی اپنائیت کے ساتھ یہ بشارت نصیب ہوئی :

ھذا جبل یحبنا ونحبہ(صحیح بخاری)

’’ یہ اُحد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اُس سے محبت کرتے ہیں‘‘۔

جب شوال کا مہینہ ہو اور اُحد کا حسین منظر سامنے ہو تو بلا اختیار غزوئہ اُحد کی ایمان افروز یادیں تازہ ہوجاتی ہیں اور یہی یادیں درحقیقت مدینہ منورہ کی اصل سوغات ہیں‘ جو ایک عمرہ یا حج کرنے والے کو ساتھ لانی چاہئیں ورنہ چائنہ کی بنی ہوئی چیزیں تو اب دنیا بھر میں دستیاب ہیں۔

غزوئہ اُحد ایک اہم اور مفصل پسِ منظر والا ‘ بے شمار اسباق و حقائق کا حامل غزوہ ہے لیکن ہم تو صرف یہاں وہ ایمان افروز چند مناظر پیش کرنا چاہتے ہیں جو بلا اختیار آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور انسان کے دل کو دینی حمیت کی دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں ۔

غزوۂ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لڑکوں کو ان کی کم عمری کی وجہ سے واپس فرما دیا تھا۔ ان میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان دونوں حضرات کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں تھی۔ رافع کے والد نے اپنے بیٹے کی سفارش کرتے ہوئے عرض کیا:

’’یا رسول اللہ ! میرا لڑکا رافع بہت ماہر تیر انداز ہے‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور رافع کو غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی،پھر سمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے چونکہ وہ بھی کم عمر تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس فرمادیا۔ انہوں نے عرض کیا:

’’حضور! آپ نے رافع کو اجازت دے دی ہے اور مجھے واپس فرما دیا ہے حالانکہ اگر میری ان سے کشتی ہو تو میں ان کو گرا سکتا ہوں۔‘‘

دونوں میں مقابلہ کروایا گیا تو سمرہ نے رافع کو چت کردیا۔ اس طرح ان کو بھی غزوۂ احد میں شرکت کی اجازت مل گئی۔

نماز سے فارغ ہو کر آپ ا  لشکرکی جانب متوجہ ہوئے فوج کی ترتیب اس طرح رکھی کہ مدینہ ان کے سامنے تھا اور احد ان کی پشت کی جانب تھا۔ چونکہ جبل احد کی طرف سے کفار کے حملے کا خطرہ تھا اس لیے آنحضرت ا نے پچاس بہترین تیر اندازوں کا انتخاب کرکے احد کے پیچھے ایک پہاڑی پر جسے ’’جبل الرّماۃ‘‘ کہتے ہیں ان کو بیٹھا دیا اور یہ تاکید کی کہ چاہے ہم غالب رہیں یا مغلوب کسی صورت میں تم کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا ہے، اس دستے کا امیر آپ ا نے حضرت عبداللہؓ بن جبیر کو مقرر فرمایا۔

فریقین کی دونوں صفیں آمنے سامنے تھیں، لشکر اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیرؓ کے پاس تھا۔ پہلے انفرادی پھر اجتماعی جنگ شروع ہوگئی۔ دونوں طرف سے نبرد آزما جوہر شجاعت دکھانے لگے، ابھی جنگ کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ مسلمانوں کا پلہ بھاری ہوگیا، صحابۂ کرام بے جگری سے لڑتے رہے جس کی وجہ سے کفار کے قدم اکھڑ گئے اور مشرکین مکہ کا لشکر درہم برہم ہو کر بھاگنے لگا۔ مرد اور عورتیں سب پہاڑ کی طرف میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور مسلمان مال غنیمت جمع کرنے لگے۔

قریش کی طرف سے سب سے پہلے جو شخص میدان جنگ میں نکلا وہ ابو عامر تھا جو زمانۂ جاہلیت میں قبیلہ اوس کا سردار اور اپنے زہد و عبادت کی وجہ سے مشہور تھا۔ جب مدینہ میں اسلام کا غلبہ ہوا تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اور یہ مکہ چلا آیا۔ یہ پہلے راہب کے نام سے مشہور تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق تجویز فرمایا۔ یہ قریش مکہ کے ساتھ اس امید پر آیا تھا کہ قبیلۂ  اوس کے لوگ جب مجھے دیکھیں گے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر میرے ساتھ آ ملیں گے۔چنانچہ معرکۂ احد میں یہ سب سے پہلے نکلا اور للکار کے کہا :

’’اے قبیلۂ اوس ! میں ابو عامر ہوں‘‘

قبیلۂ اوس نے فوراً ہی یہ ایمان افروز اور دندان شکن جواب دیا:

’’اے خدا کے نافرمان!اللہ کبھی تیری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے۔‘‘

ابو عامر یہ جواب سن کر رسوائی سمیٹتا ہوا میدان سے واپس ہوا اور کہنے لگا کہ میرے بعد میری قوم کی حالت بہت بدل گئی ہے۔

اس کے بعد مشرکین کا علَم بردار طلحہ بن ابی طلحہ میدان میں آیااور للکار کے کہا:

’’اے اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہمیں تمہاری تلواروں سے جہنم میں پہنچاتا ہے اور تمہیں ہماری تلواروں سے جنت میں پہنچاتا ہے۔ تم میں سے کون ہے جس کو میری تلوار جلد ہی جنت میں پہنچائے یا اس کی تلوار مجھے جہنم میں پہنچائے؟‘‘

یہ سنتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ مقابلے کیلئے نکلے اور ایسی تلوار چلائی جس سے اس کا پیر کٹ گیا اور وہ منہ کے بل گرا۔

اس طرح پے در پے قریش کے بائیس سردار مارے گئے۔

احد کی پشت پر آپ ا نے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی سرکردگی میں تیر اندازوں کی جو جماعت درہ کی حفاظت کے لیے مقرر فرمائی تھی، انہوں نے جب یہ دیکھا کہ فتح ہوگئی ہے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہیں تو وہ بھی اسی غرض سے اپنی جگہ چھوڑنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے ان کو بہت روکا اور آپ ا کا ارشاد یاد دلایا۔ تو انہوں نے کہا کہ بے شک آپ ا نے ہمیں اس جگہ سے ہٹنے سے منع فرمایا تھا لیکن آپ ا کامقصد اس سے یہ تھا کہ جنگ کے فیصلہ سے پہلے تم مورچہ نہ چھوڑنا اور اب تو فیصلہ ہوگیا اور کفار بھاگ گئے، لہٰذا اب ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے ساتھ صرف دس آدمی رہ گئے ۔

خالد بن ولیدنے، جو اُس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے اور گھڑ سواروں کے ایک دستے کی قیادت کررہے تھے، جب پہاڑ کی طرف نگاہ کی اور پہاڑ کے محافظ کم نظر آئے اورمسلمانوں کو مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول پایا اور ان کی پشت خالی دیکھی تو اپنے سوسواروں کادستہ لے کر پشت کی طرف سے حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے ہمراہیوں نے روکنے کی کوشش کی لیکن روک نہ سکے، چنانچہ حضرت عبداللہؓ بن جبیر اپنے ہمراہیوں کے ساتھ وہیں شہید ہوگئے۔

مسلمانوں کی اس حالت کو دیکھ کر عکرمہ بن ابوجہل نے (جو ابھی تک مسلمان نہ ہوئے تھے) بھی دوسری طرف سے اپنے سواروں کادھاوا بول دیا اور ساتھ میں ابوسفیان بھی اپنے آدمیوں کو سمیٹ کر سامنے سے حملہ آور ہوا۔ مسلمانوں پر یہ تمام حملے یکے بعد دیگرے اچانک ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی کا رنگ بدل گیا۔ مسلمان ہر طرف سے کفار کے نرغے میں آگئے۔ یہاں تک کہ دشمنانِ خدا رسول اللہ ا کے نزدیک آپہنچے۔

مسلمانوں کے علمبردار حضرت مصعبؓ بن عمیر آپ ا کے قریب تھے۔ دو سو کافروں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔ اچانک کفارکے ایک مشہور شہسوار ابن قمیہ نے حضرت مصعب ؓ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ چونکہ حضرت معصب ؓ آپ ا کے مشابہ تھے اس لیے ابن قمیہ نے ایک بلند مقام پر چڑھ کر بلند آواز سے کہا ’’قدقتلت محمداً‘‘ (میں نے محمد(ا) کو قتل کر دیا)

اس افواہ سے مسلمانوں کے اندر پریشانی اور اضطراب پھیل گیا اورسب کے سب بدحواس ہوگئے۔ اس مدہوشی کے عالم میں دوست و دشمن کا بھی امتیاز نہ رہا اور آپس میں ایک دوسرے پر تلوار چلنے لگی۔ حضرت حذیفہؓ کے  والد یمان  ؓ بھی اس کشمکش میں آگئے اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوگئے۔

اس ناگہانی حملہ سے اگرچہ بڑے بڑے دلیروں کے پائوں اکھڑ گئے مگرنبی کریم ا کے پائے ثبات اور قدم استقلال میں ذرہ برابر بھی تزلزل نہیں آیا اور آپ کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہے۔ جونہی مسلمانوں کی نظر آپ ا پر پڑی تو دل کو سکون آیا۔ اور پروانہ وار آپ کے گرد جمع ہونے لگے۔

اس ہلچل اور اضطراب میں چودہ صحابی  ؓ آپ ا کے ساتھ رہے اور آپ کے گرد ایک حلقہ بنا لیا۔ سات مہاجرین میں سے اور سات انصار میں سے تھے۔ اس موقع پر ان صحابہ کرام نے بڑی دلیری کامظاہرہ کیا حضرت ابودجانہؓ نے آپ کی طرف منہ کرکے اپنی پشت کو ڈھال بنالیا۔ پشت کو ڈھال بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر منہ کفار کی طرف اور پشت آپ کی طرف ہوتی تو ممکن تھا کہ تیرکو آتے ہوئے دیکھ کر فطری طور پر جھجک پیدا ہو اور اپنے جسم کو بچائیں۔ چنانچہ ان کی پشت تیروں سے چھلنی ہوگئی اور وہ اس طرح کھڑے رہے۔

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص ، حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت عبدالرحمن ؓبن عوف آپ ا کی حفاظت کے لیے آہنی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور تیر و تلوار چلا چلا کر دشمنوں کو روکتے رہے۔ حضرت طلحہ ؓ دشمنوں کی تلواروں کو اپنے ہاتھ سے روکتے یہاں تک کہ ان کا ہاتھ زخموں کی کثرت کی وجہ سے شل ہوگیا۔ حضرت زیاد بن سکن انصاری ؓ مع اپنے پانچ ہمراہیوں کے آپ ا کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ حضرت عمارہؓ بن زیاد بھی آپ ا کی حفاظت میں پروانہ وار شہید ہوگئے۔

اس دوران سعد بن ابی وقاص ؓ کے بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے موقع پا کر رسول اللہ ا پر ایک پتھر پھینکا جس سے نیچے کا دانت مبارک شہید ہوگیا اور نیچے کالب زخمی ہوگیا۔ عبداللہ بن قمیہ نے آپ ا پر اس زور سے حملہ کیا کہ رخسار مبارک زخمی ہوگیا اور خود (جنگی ٹوپی)کے دو حلقے رخسار میں گھس گئے اور عبداللہ بن شہاب زہری نے پتھر مار کر پیشانی مبارک کو زخمی کیا۔ چہرئہ انور پر جب خون بہنے لگا تو مالک بن سنان ؓ نے تمام خون کو چوس کر چہرئہ انور کو صاف کر دیا۔

جسم مبارک پرچونکہ دو آ ہنی زرہوں کا بھی بوجھ تھا اس لیے آنحضرت ا ایک گڑھے میں گر گئے (جس کو ابو عامر فاسق نے مسلمانوں کے لیے بنایا تھا) حضرت علیؓ نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور حضرت طلحہ ؓ نے کمر تھام کر سہاراتب آپ کھڑے ہوئے۔ حضور علیہ السلام اٹھ کر ایک چٹان پر چڑھنا چاہتے تھے لیکن ضعف اور نقاہت اور دو زرہوں کے بوجھ کی وجہ سے آپ خود چڑھ نہ سکے اس وقت حضرت طلحہ  ؓ آپ کے نیچے بیٹھ گئے، آپ ان پر اپنے پیر رکھ کر اوپرچڑھے۔

 اب کفار کے حملوں میں سستی پیدا ہونے لگی اور صحابۂ کرام  ؓ کفار کومار مارکر ہٹا رہے تھے۔ اس حالت میں حضور علیہ السلام نے پہاڑ کی جانب متوجہ ہونے کاحکم دیا، تاکہ کفار کے نرغے سے نکل کر پہاڑ کو پشت پر لیں اور لڑائی کا ایک محاذ قائم ہو جائے۔ چنانچہ یہ تدبیر بہت مفید ثابت ہوئی۔ ابوسفیان اپنی جماعت کو لے کر اس مقام پر پہنچنا چاہا تو آپ انے حضرت عمر فاروق  ؓ کو حکم دیا کہ ان کو اوپر چڑھنے سے باز رکھو۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ چند ہمراہیوں کے ساتھ اس طرف روانہ ہوئے اورر ابوسفیان کی جماعت کو نیچے دھکیل دیا۔ اب مسلمانوں کی جمعیت بہت جلد بڑھنے لگی، مسلمان جو منتشر ہوگئے تھے پہاڑ کی اس بلندی پر آ  کر آپ ا کے گرد جمع ہونے لگے، کفار کو اب یہ جرأت نہ ہوئی کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوں چنانچہ وہ واپس ہونے لگے۔

قرآن ِ مجید کی سورئہ آل عمران میں تفصیل سے اس غزوہ کے معارف کو بیان کیا گیا ہے ۔اس غزوہ میں سترمسلمان شہید اور بہت سے زخمی ہوئے۔ نبی اکرم ا کے حقیقی چچا، دودھ شریک بھائی، بے تکلف دوست اور جاں نثار صحابی حضرت حمزہ ؓ کی شہادت، اس غزوہ میں پیش آنے والا زبردست سانحہ ہے۔ مشرکین مکہ نے اس جنگ میں درندوں اور خونخوار حیوانوں کی طرح مسلمانوں کی نعشوں تک کے ناک کان کاٹ ڈالے اور پیٹ چاک کرکے دل و جگر کو نیزوں کی انّی سے چھید چھید کردل کا غبار نکالا۔

اس جنگ کے بارے میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی لیکن یہ بات مکمل طور پر صحیح نہیں کہی جا سکتی۔ مسلمانوں نے کفار کو اپنے سامنے سے بھگا دیا تھا اور کفار شکست پا چکے تھے، بعد میں وہ پھر حملہ آورہوسکے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے میدان نہیں چھوڑا، کفار ہی نے جنگ کو آئندہ سال پر ملتوی کیا نیز میدان سے اول کفار ہی مکہ کی طرف روانہ ہوئے، بعد میں مسلمان وہاں سے مدینہ کی طرف چلے تھے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ تیر اندازوں کی طرف سے رحمت دو عالم ا کے فرمانِ مبارک کی تعمیل میں جو کوتاہی ہوئی تھی، اُس کا انجام سب نے دیکھ لیا اور آئندہ کے لیے صحابہ کرام ؓ میں اطاعتِ رسول کا جذبہ مزید مضبوط اور قوی ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ شہداء اُحد اور شرکائِ غزوئہ احد کے درجات کو بلند فرمائے اور اپنے فضل و احسان سے ہمیں بھی ان کے ایمانی جذبات کا کچھ حصہ نصیب فرمائے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online