Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

اسلام کے پسندیدہ کھیل (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 651 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Islam k Pasandeeda Khail

اسلام کے پسندیدہ کھیل

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 651)

کہتے ہیں کہ مشہورعباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک شخص آیا جس نے خلیفہ سے ایک دلچسپ کرتب دکھانے کی اجازت چاہی ۔ اجازت پانے کے بعد اس نے اپنے تھیلے میں سے دو سوئیاں نکالیں ، ایک سوئی کافی دور فاصلے پر قالین میں گاڑ دی اور پھر دور سے کھڑے کھڑے دوسری سوئی اتنی مہارت سے پھینکی کہ وہ پہلی سوئی کے ناکے سے پار ہو گئی ۔

دربارِ خلافت میں ہر طرف واہ واہ اور داد و تحسین کے نعرے بلند ہونے لگے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کرتب بھی دلچسپ اور بڑی مہارت کا تھا ۔ خلیفہ ہارون الرشید نے یہ کرتب دیکھنے کے بعد اُس بازی گر سے پوچھا کہ یہ کمال تم نے کتنے عرصے میں حاصل کیا ۔ اس نے جواب دیا کہ امیر المومنین میں نے مسلسل کئی سال مشق اور محنت کی ہے تب جا کر میں یہ کرتب آپ کیسامنے پیش کرنے کے قابل ہوا ہوں ۔

اس پر خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے دربار کے افسر کو حکم دیا کہ اس بازی گر کو دس درہم انعام میں دیے جائیں اور ساتھ ہی دس جوتے بھی لگائے جائیں ۔ یہ عجیب و غریب حکم سن کر تمام اہل دربار حیران ہوئے ۔ بازی گر نے پوچھا کہ امیر المومنین انعام تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ میرے کرتب پر مل رہا ہے لیکن یہ جوتوں کی سزا کس جرم میں مل رہی ہے ؟

خلیفہ ہارون الرشید نے جواب دیا کہ انعام کی وجہ تو تم سمجھ ہی چکے ہو ، سزا کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال ایک ایسے بے کار کام میں لگا دیے جس کا نہ آخرت میں کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی دنیا میں ۔ آخرت میں اس لیے نہیں کہ یہ کوئی اجرو ثواب کا کام نہیں اور دنیا میں اس لیے نہیں کہ اس کرتب سے نہ تو انسان کوصحت کا کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی ذہنی سکون کا ۔

آج کل ہمارے ماحول میں جو کھیل عام ہو چکے ہیں اور عوام و خواص سب ہی زورو شور سے اُن میں حصہ لیتے ہیں ، ان میں سے اکثر اسی طرح کے کھیل ہیں جن پر انعام کم اور سزا زیادہ ملنی چاہیے ۔ لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ اسلام جائز ، با مقصد ، مفید ، صحت بخش کھیل اور تفریح کو منع کرتا ہے بلکہ اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور مکمل طور پر کھیل وکود اور لہوولعب پرمشتمل زندگی کی مذمت کرتا ہے۔ بامقصد زندگی جس کی بنیاد ہر وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی،اور بندوں کے جو حق اپنے ذمے ہوں اُن کی ادائیگی کے احساس اور لہولعب سے اِعراض پر ہو؛ وہ زندگی اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس زندگی کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل ہو اور اُس میں اپنے فرائض کی طرف سے غفلت و بے پرواہی پائی جاتی ہو وہ کفار کی نشانی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:

وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (المومنون)

کہ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔

 لہٰذا شرعی نقطہ نظر سے ہر وہ کام، قابلِ تعریف ہے؛ جو انسان کو مقصدِ اصلی پر گامزن رکھے۔ ہر اس کام کی اجازت ہے، جس میں دنیا وآخرت کا یقینی فائدہ ہو۔ یا کم از کم دنیا وآخرت کا خسارہ نہ ہو۔ کھیلوں میں سے بھی صرف انہی اقسام کی اجازت ہے، جو جسمانی یا روحانی فوائد کا حامل ہو۔ وہ کھیل جو محض تضیعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکرِ آخرت سے غافل کرنے والے ہوں؛ وہ کھیل جو دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں؛ ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 کُلُّ مَا یَلْہُوبِہ الْمَرْء ُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ الَّا رَمْیَۃٌ بِقَوْسِہ وَتَادِیْبُہ فَرَسَہ وَمُلاَعَبَتُہ اِمْرَاتُہ فَانَّہُنَّ مِنَ الْحَقِّ (ترمذی، ابن ماجہ، فتح الباری)

یعنی مرد مومن کا ہر کھیل بیکار ہے سوائے تین چیز کے:(۱) تیر اندازی کرنا (۲)گھوڑے سدھانا(۳) اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، کیونکہ یہ تینوں کھیل حق ہیں۔

 آج کل کھیل میں سب سے زیادہ غفلت لباس کے سلسلے میں ہو رہی ہے ، اس لیے لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے درمیان ایسا لباس پہنے، جو ساتر ہو یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے، جن کا چھپانا واجب ہے، یعنی مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لیے ہتھیلی اور چہرہ کو چھوڑ کر پورا جسم ستر میں داخل ہے، ان کا ڈھکا ہوا ہونا واجب ہے۔ لباس اتنا باریک اور چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا نمایاں ہوں۔ اسی طرح اس لباس میں کفّار کے ساتھ ایسی مشابہت نہ ہو کہ اس لباس کو دیکھنے سے کوئی خاص قوم سمجھ میں آتی ہو۔ اور نہ اس لباس کا تعلق غیر اسلامی شعار سے ہو۔ مردوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مَااسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الازَارِ فِی النَّارِ (بخاری، مشکوٰۃ )

کہ جو شخص بھی ٹخنوں سے نیچے پاجامہ پہنے گا، اسے جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔

ایک دوسری روایت میں ہے:کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنے دیکھا، تو آپ نے فرمایا : یہ کفار کا لباس ہے اس لیے اسے مت پہنو۔ (مسلم، مشکوٰۃ )

 حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ (احمد،ابوداود، مشکوٰۃ )

کہ جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی اس کا تعلق اسی قوم کے ساتھ سمجھا جائے گا۔

ان تمام اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے جو بھی مفید کھیل اختیار کیا جائے گا وہ صرف کھیلنے والے کیلئے ہی نہیں قوم اور ملک کے لیے بھی مفید ثابت ہو گا ، جب کہ ایسے کھیل جو شرعی حدود سے نکلے ہوئے ہوں ،ان کے نتیجے میں ایک انسان کا قیمتی ترین وقت تو ضائع ہوتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی معاشرے میں بھی کئی اجتماعی اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ اس لیے آج کی مجلس میں ہم چند ایسے مفید کھیلوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو دین و دنیا کے فائدے اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں ۔ اگر ان کھیلوں کو انفرادی سطح پر اپنے گھروں میں اور اجتماعی سطح پر شہروں میں رواج دیا جائے تو یقیناً ہمارے معاشرے کی بہت سی خرابیاں ختم ہو سکتی ہیں اور ماحول اور صحت کے تمام مسائل بھی باآسانی حل ہو سکتے ہیں :

تیراندازی اور نشانہ بازی:

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ کھیل مستحب اورپسندیدہ ہے بلکہ بعض اوقات تو اس کی بعض صورتیں وجوب تک پہنچ جاتی ہیں۔ نشانہ بازی (چاہے وہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو)۔ احادیث میں اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے۔ یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع اور ملکی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ کھیل جہاں جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں، مثلاً جہاد کے موقع پر دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے:

وَاَعِدُّو لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ (الانفال)

 کہ اے مسلمانو!تمہارے بس میں جتنی قوت ہو، اسے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھو۔

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوۃ کی تفسیر رمی (تیراندازی) سے کی ہے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا:

 الاَ اَنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ (مسلم، مشکوٰۃ )

 یعنی خبردار قوۃ پھینکنا ہے۔

 اس پھینکنے میں جس طرح تیر کا پھینکنا داخل ہے، اسی طرح اس میں کسی بھی ہتھیار کے ذریعہ مطلوبہ چیز کو نشانہ بنانا، راکٹ، میزائل وغیرہ کوٹھیک نشانہ تک پہنچانا بھی داخل ہے اور ان میں سے ہر ایک کی مشق جہاں جسمانی لحاظ سے بہترین ورزش ہے، وہیں باعث اجر وثواب بھی ہے۔ (بذل المجہود)

 ایک حدیث میںرحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک ایک تیر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تین افراد کو جنت میں داخل کردیتا ہے۔ ایک تیر بنانے والا؛ جبکہ وہ تیر بنانے میں ثواب کی نیت رکھے۔ دوسرا تیر پھینکنے والا اور تیسرا پکڑنے والا، پس اے لوگو! تیر اندازی سیکھو (سنن دارمی، مشکوٰۃ )۔

سواری کی مشق:

یہ کھیل بھی اسلام کا پسندیدہ کھیل ہے، اس سے بھی جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرات اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفر میں اور جہاد میں بھی یہ فن خوب کام آتا ہے، اگرچہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے؛ مگر اس میں ہر وہ سواری مراد ہے؛ جو جہاد میں کام آسکے۔

جہاد کے اس اعلیٰ مقصد کے پیش نظر جو شخص گھوڑا پالے اس کے لیے بڑی بشارتیں ہیں۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑے کو باندھ کر رکھا، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے وعدہ کی تصدیق کرتے ہوئے، تو اس گھوڑے کا تمام کھانا پینا حتی کہ گوبر، پیشاب، قیامت کے دن اس شخص کے نامہء اعمال میں نیکی کے طور پر شمار ہوگا۔ (بخاری، مشکوٰۃ)

 احادیث طیبہ میں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اگرچہ گھوڑوں کے فضائل مذکور ہیں، مگر اشتراکِ علت کے پیش نظر ہر وہ سواری جو جہاد میں کام آتی ہو، یا ذاتی تحفظ اور اچھے مقاصد کے لیے آمد ورفت کے کام آتی ہو۔ اگر اسے بھی اچھی نیت سے چلانے کی مشق کی جائے؛ تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگی۔ جیسے: ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز، بحری جہاز، لڑاکا طیارہ، ٹینک، بکتربند گاڑیاں، جیپ کار، بس، موٹر سائیکل، سائیکل وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اور ٹریننگ اسلامی نقطہ نظر سے پسندیدہ کھیل ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیا جائے۔

دوڑلگانا:

 اپنی صحت اور توانائی کے مطابق، ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماء اور ڈاکٹر متفق ہیں۔ احادیث سے بھی اس کا جواز، بلکہ استحباب معلوم ہوتا ہے۔ پیدل دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہء کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔پیدل دوڑ میں مثالی شہرت رکھنے والے صحابی حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ ہم ایک سفر میں چلے جارہے تھے، ہمارے ساتھ ایک انصاری نوجوان بھی تھا، جو پیدل دوڑ میں کبھی کسی سے مات نہ کھاتا تھا، وہ راستہ میں کہنے لگا، ہے کوئی؟ جو مدینہ تک مجھ سے دوڑ میں مقابلہ کرے، ہے کوئی دوڑ لگانے والا؟ سب نے اس سے کہا: تم نہ کسی شریف کی عزت کرتے ہو اور نہ کسی شریف آدمی سے ڈرتے ہو۔ وہ پلٹ کر کہنے لگا ہاں! رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ میں نے یہ معاملہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھتے ہوئے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے کہ میں ان سے دوڑلگاوں۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، اگر تم چاہو؛ چنانچہ میں نے ان سے مدینہ تک دوڑلگائی اور جیت گیا۔ (صحیح مسلم)

نیزہ بازی:

نیزہ زنی اور بھالا چلانا ایک مستحسن کھیل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے۔ جب کہ کچھ حبشی نیزوں کے ساتھ مسجد کے باہر صحن میں نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپارہے تھے اور میں آپ کے کان اور کندھوں کے درمیان حبشیوں کو کھیلتے دیکھ رہی تھی۔ (صحیح بخاری مع الفتح)

تیراکی:

تیرنے کی مشق ایک بہترین اور مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضا وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے۔ سیلاب آنے کی صورت میں ایک ماہر تیراک انسانیت کی بہترین خدمت کرسکتا ہے۔ نشیبی علاقوں میں عام طور پر قریب میں ندی نالے تالاب وغیرہ ہوتے ہیں اور ان میں ڈوبنے کے واقعات بھی عام طور پر پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسے حادثاتی مواقع پر ماہر تیراک لوگوں کی جان بچانے کی کامیاب کوشش کرسکتا ہے۔ اس سے جہادی تربیت کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے؛ کیوں کہ کسی بھی جنگ میں ندی نالے، تالاب اور دریا کو عبور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ ایک طبعی امر ہے۔ آج کل کی جنگوں میں سمندر کی ناکہ بندی کو دفاعی نقطہ نظر سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا تیراکی جہاں تفریحِ طبع اور جسمانی ورزش کا عمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی ودماعی فوائد کا حامل بھی ہے۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن کا بہترین کھیل تیراکی ہے اور عورت کا بہترین کھیل سوت کاتنا۔ (کنزالعمال) اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف یہ کہ تیراکی کے ماہر تھے؛ بلکہ بسا اوقات تیراکی کا مقابلہ بھی کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حالتِ احرام میں تھے کہ مجھ سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کہنے لگے آؤ!میں تمہارے ساتھ غوطہ لگانے کا مقابلہ کروں، دیکھیں ہم میں سے کس کی سانس لمبی ہے (عوارف المعارف للسہروردی)

ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اپنے گھروں اور اپنے ماحول میں ایسے ہی مفید کھیلوں کو رواج دیں اور ایسے کھیل کود جو ہماری نسلوںکیاخلاق اور صحت دونوں کو ہی تباہ کر رہے ہیں ، ان سے مکمل طور پر خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کریں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا میں بامقصد زندگی اور آخرت میں کامیابی و کامرانی نصیب فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online