Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

سنو ! اے حکمرانو… (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 654 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Suno aye Hkmurano

سنو ! اے حکمرانو…

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 654)

اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ، حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے ۔ آج کل ہمارے ملک میں رسمی طور پر حکومت کی تبدیلی کا موسم چل رہا ہے۔ جو پہلے ہنس رہے تھے ، آج رو رہے ہیں اور جو آج ہنس رہے ہیں ‘ وہ کل روئیں گے ۔ اس دنیا کی حکمرانی اور کامیابی دائمی ہے نہ ہی زوال اور ناکامی ۔ یہ دنیا کا تاج و تخت بس جھولے کی ایک سواری ہے ‘جس پر لوگوںنے باری باری چڑھنا اور اترنا ہے ۔ جس کے چڑھنے کی باری ہوتی ہے ‘ وہ خوشی سے خوب چھلانگیں لگاتا ہے اور جس نے اترنا ہوتا ہے ‘ اسے بلا اختیار رونا آرہا ہوتا ہے ۔

 ایسے ماحول میں خود بخود بندہ کا ذہن اُن قیمتی نصائح کی طرف چلا گیا ‘ جو گزشتہ دور میں ہمارے بزرگ اپنے وقت کے حکمرانوں کو بہت ہی دردِ دل کے ساتھ کرتے رہے ہیں ۔ مشہور عالم ، فقیہ اور صوفی بزرگ ابو حامد محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفی ۵۰۵ھ ) نے تو اپنے وقت کے بادشاہ محمد بن ملک شاہ سلجوقی کو بہت ہی مخلصانہ انداز میں ‘ انتہائی قیمتی مواد پر مشتمل پورا ایک رسالہ لکھا تھا ‘ جو اصل تو فارسی زبان میں تھا لیکن اب اس کا عربی ترجمہ ہی دستیاب ہے ‘ جو بیروت کے مشہور ناشر دارالکتب العلمیہ نے ’’ التبر المسبوک فی نصیحۃ الملوک‘‘ کے نام سے ایک سو بتیس صفحات میں شائع کیا ہے ۔

مشہور محدث اور صوفی بزرگ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفی ۱۰۵۲ھ) کی تصنیفات میں بھی ان کے ایک رسالے کا تذکرہ ملتا ہے ‘ جس کا نام ’’ ترجمۃ الاحادیث الاربعین فی نصیحۃ الملوک والسلاطین ‘‘ ہے ۔  اس موضوع پر متفرق بھی جتنی نصائح اور واقعات عربی میں ملتے ہیں ‘ ان سے باآسانی ایک جامع کتاب تیار ہو سکتی ہے ۔

 پھر یہ نصائح ایسی جامع ہیں کہ دین و دنیا کے ہر گوشے پر محیط ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں ہر خاص و عام کیلئے عبرت کا بہت بڑا سامان موجود ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص کچھ نہ کچھ ’’بادشاہ ‘‘ ہوتا ہے اور اس کے ماتحت اُس کی ’’رعایا‘‘ بھی ہوتی ہے ۔ کوئی شخص کسی ادارے ‘ محکمے ‘ شہر یا گائوں کا ’’بادشاہ ‘‘ ہوتا ہے اور کوئی صرف اپنے گھر کا ۔ اس لیے ان نصائح کو یہ سوچ کر نہیں پڑھنا چاہیے کہ یہ صرف ملکی سطح کے حکمرانوں کیلئے ہیں اور ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ‘ بلکہ ہم میں سے ہر ایک ان ہدایات و تعلیمات کا محتاج اور ضرورت مند ہے ۔

بہرحال! اس سلسلے کے چند ایمان افروز نمونے اردو ترجمہ کی شکل میں یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں :

(۱)…امیر المومنین سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھا اور اس میں درخواست کی کہ آپ مجھے کچھ نصیحت اور وصیت فرمائیں لیکن بات مختصر اور جامع ہو ، بہت طویل نہ ہو ، حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ان کو یہ مختصر خط لکھا :

سلام علیک اما بعد فانی سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول من التمس رضاء اللّٰہ بسخط الناس کفاہ اللّٰہ مونۃ الناس  و من التمس رضاء الناس بسخط اللّٰہ و کلہ اللّٰہ الی الناس والسلام علیک

’’ سلام ہو تم پر ۔ اما بعد ! میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جو کوئی اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہے لوگوں کو اپنے سے خفا کر کے ، تو اللہ لوگوں کی طرف سے اُسے کافی ہو جاتے ہیں یعنی اُسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں ، اور جو کوئی بندوں کو راضی کرنا چاہے گا اللہ کو ناراض کر کے تو اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے سپرد کر دیں گے یعنی انہی لوگوں کے ذریعے پھر اس کی ذلت کا سامان ہو گا ‘‘ ۔ (سنن ترمذی ، ابواب الزہد)

(۲)…اپنی حکومت کو خلافت راشدہ کے طرز پر عد ل و انصاف سے چلانے والے عظیم حکمران حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے منصب ِ خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس خط روانہ کیا کہ وہ انصاف کرنے والے حکمران کے اہم اوصاف اور امتیازی خصوصیات لکھ کر ان کو بھیج دیں ، چنانچہ حضرت حسن بصری ؒ نے ان کے نام اپنے خط میں لکھا :

اے امیر المومنین ! آپ جان لیجئے اللہ رب العزت نے امام عادل (انصاف پسند حکمران)کو ہر ٹیڑھے کو سیدھا کرنے والا ، ہر ظالم کو راہِ راست پر لانے والا ، ہر فاسد کی اصلاح کا ذریعہ ، ہر ضعیف کی قوت ، ہر مظلوم کے لیے انصاف اور ہر غم زدہ کی پناہ گاہ بنایا ہے ۔

اے امیر المومنین ! امام عادل (انصاف پسند حکمران)اُس چرواہے کی طرح ہے جو اپنے اونٹوں پر شفقت کرنے والا اور ان کے ساتھ نرمی کا برتائو کرنے والا ہو ، جو ان کے لیے بہترین چراگاہ کا متلاشی رہتا ہو ، ہلاکت کی چراگاہوں سے انہیں دور رکھتا ہو ، درندوں سے ان کی حفاظت کرتا ہو اور گرمی و سردی کی تکلیف سے انہیں بچاتا ہو ۔

اے امیر المومنین !امام عادل (انصاف پسند حکمران)اُس باپ کی طرح ہوتا ہے جو اپنی اولاد پر شفقت کرتا ہے ، کم عمری کی حالت میں ان کے لیے دوڑ دھو پ کرتا ہے ، بڑے ہونے کی حالت میں ان کو تعلیم دیتا ہے ، زندگی بھر اُن کے لیے روزی کماتا ہے اور مرنے کے بعد انہیں کے لیے جمع کر جاتا ہے ۔

اے امیر المومنین ! امام عادل (انصاف پسند حکمران)اُس شفیق نیک اور اپنے بیٹے کے ساتھ مہربان ماں کی طرح ہے ، جس نے اسے بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا ، بڑی مشقت کے ساتھ اسے جنا اور بچپن میں اسے پالا ۔ اُس کے جاگنے سے وہ ماں خود بھی جاگتی ہے ، اُس بچے کے سکون سے اسے بھی سکون ملتا ہے ، کبھی اسے دودھ پلاتی ہے اور کبھی چھڑاتی ہے ، اس کے آرام سے خوش ہوتی ہے اور اس کی تکلیف سے خود بھی غم زدہ ہو جاتی ہے ۔

اے امیر المومنین ! امام عادل (انصاف پسند حکمران)یتیموں کا والی ، مسکینوں کی خاطر ذخیرہ کرنے والا ہوتا ہے ، وہ اُن کے چھوٹوں کی پرورش کرتا ہے اور بڑوں کی کفالت کرتا ہے ۔

اے امیر المومنین ! امام عادل (انصاف پسند حکمران)اس دل کی طرح ہے جو پسلیوں کے درمیان ہے ، جس کی درستگی سے تمام اعضاء درست رہتے ہیں اور اس کے بگڑنے سے تمام اعضاء بگڑ جاتے ہیں ۔

اے امیر المومنین ! امام عادل (انصاف پسند حکمران)اللہ اور بندوں کے درمیان منتظم ہوتا ہے ، اللہ کا کلام سیکھتا ہے اور بندوں کو سکھاتا ہے ، اللہ کو دیکھتا ہے اور انہیں دکھاتا ہے ، اللہ کا مطیع ہوتا ہے اور انہیں مطیع بناتا ہے ۔

لہٰذا اے امیرا لمومنین! آپ ان چیزوں میں جن کا اللہ نے آپ کو مالک بنایا ہے اُس غلام کی طرح مت ہو جائیں جس کو اس کے آقا نے امین بنا دیا اور اس سے اپنے مال کی حفاظت چاہی اور اس نے مال تباہ و برباد کر دیا ، اہل و عیال کو دھتکار دیا اور گھر والوں کو محتاج بنا دیا اور اس کے مال کو تقسیم کر دیا ۔

اے امیر المومنین ! یہ بھی جان لیں کہ اللہ رب العزت نے کچھ حدود نازل فرمائی ہیں ، تاکہ ان کے ذریعے بے حیائی اور برے کاموں سے روکا جائے ، تو کیا حال ہو گا اگر حاکم ہی ان برائیوں کا مرتکب ہو ؟ اور یہ کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے لیے قصاص کو زندگی کا ذریعہ بنایا ہے تو کیا حال ہو گا اگر وہی شخص قاتل بن جائے جو ان سے قصاص لینے والا ہو ۔

اے امیر المومنین !موت اور اس کے بعد کو اور اُس وقت اپنے بے یارو مددگار ہونے کو یاد کریں ، لہٰذا موت اور اُس کے بعد سخت گھبراہٹ کے وقت کے لیے سامان جمع کرلیں۔

اے امیر المومنین ! جان لیں کہ آپ کے لیے آپ کے اُس گھر کے علاو ہ جس میں آپ ہیں ایک گھر اور ہے ، جس میں آپ کو طویل مدت تک ٹھہرنا ہے ، آپ کے احباب آپ کو تن تنہا اس گھر کے ایک گڑھے کے سپرد کر کے آپ سے جدا ہو جائیں گے ۔ لہٰذا اُس دن کے لیے آپ ایسے اعمال تیار کر لیں جوآپ کا ساتھ دیں ، وہ ایسا دن ہو گا جس دن آدمی اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے ، اپنے باپ سے ، اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا ۔

اے امیر المومنین !یاد کریں کہ جب قبروں میں موجود مردے زندہ کیے جائیں گے اور جو کچھ دلوں میں ہے وہ سب ظاہر ہو جائے گا اور تمام چھپے ہوئے راز کھل جائیں گے ۔ نامۂ اعمال انسان کے کسی چھوٹے عمل کو چھوڑے گا اور نہ ہی بڑے عمل کو ۔

اے امیر المومنین ! اپنے مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اور زندگی کی امیدوں کے ختم ہو جانے سے پہلے آپ مہلت کے وقت میں ہیں ۔ آپ نہ تو جاہلوں جیسا فیصلہ کریں نہ ہی لوگوں کو ظالموں کے راستے پر چلائیں اور نہ ہی طاقت ور لوگوں کو کمزوروں پر مسلط ہونے دیں کہ یہ ظالم لوگ کسی مومن کے بارے میں نہ تو رشتہ داری کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی عہد و وعدہ کا ۔

یاد رکھیں ! آپ ہی اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور ساتھ ہی اُن لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی برداشت کریں گے جنہوں نے آپ کے کہنے پر گناہ یا ظلم کیا ۔ آپ اُن لوگوں کے دھوکے میں ہرگز نہ آئیں جو ایسے مال سے عیش کرتے ہیں جس میں آپ کا نقصان ہے اور وہ لوگ آپ کی آخرت کو برباد کر کے دنیا کی لذتوں میں مزے اڑاتے ہیں ۔ آپ اپنی آج کی طاقت کو نہ دیکھیں بلکہ اپنی اُس وقت کی حالت کو دیکھیں جب آپ موت کے جال میں پھنسے ہوں گے یا پھر اُس وقت کو یاد رکھیں جب آپ فرشتوں اور انبیاء علیہم السلام کے مجمعے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے ، اس حال میں کہ تمام چہرے اللہ حیّ و قیوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔

اے امیر المومنین ! میں آپ کو ویسی نصیحت تو نہیں کر سکا جیسے مجھ سے پہلے عقل مند لوگوں نے اپنے وقت کے حکمرانوں کو کی تھی ،لیکن میں نے شفقت اور آپ کی خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ آپ اس خط کو اُس مہربان طبیب کی طرح سمجھیں جو مریض کو کڑوی دوائیں صرف اس لیے پلاتا ہے کہ اُسے مریض کی عافیت اور صحت کی اس سے ہی امید ہوتی ہے ۔

والسلام علیک یا امیرالمومنین ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

(العقد الفرید ، ابن عبدربہ )

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online