Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

سنو ! اے حکمرانو…(۲) (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 655 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Suno aye Hkmurano

سنو ! اے حکمرانو…(۲)

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 655)

(۳)…دور اموی کا نامور خلیفہ عبدالملک بن مروان حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں ہے ۔ اپنے گھر میں پلنگ پر بڑے وقار سے بیٹھا ہے ، اس کے ارد گرد اشراف مکہ ہیں ، اچانک سامنے دروازے سے مشہور تابعی بزرگ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفی ۱۱۴ھ ) داخل ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی خلیفہ کی نظر ان پر پڑی کھڑا ہو گیا ۔ سلام عرض کیا اور نہایت احترام سے پلنگ پر اپنے سامنے بٹھایا اور کہنے لگا :

یا ابا محمد ، ما حاجتک ؟

’’ اے ابو محمد ! اگر کوئی حاجت ہو تو پیش کریں‘‘ ۔

عطا ء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے : حرمین شریفین میں لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی سے بچیں ، ان کے بارے میں اللہ کا خوف کریں ، مہاجرین و انصار کی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کریں کہ آپ انہی کی بدولت اس مرتبہ و مقام پر پہنچے ہیں ۔ جو لوگ سرحدوں پر جہاد میں مصروف ہیں ان کے حقوق کا خیال کریں ، اصل میں یہی لوگ اسلام کا قلعہ ہیں ۔ مسلمانوں کے معاملات اور مسائل میں پوری دلچسپی اور توجہ دیں کہ ان تمام کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے ۔

آپ کے دروازے پر آنے والے حاجت مند آپ کی توجہ کے محتاج ہیں ، ان سے غفلت نہ برتیں اور ہاں ان کے لیے اپنے دروازے کبھی بند نہ کریں ۔ عبدالملک بن مروان کہنے لگا : جو آپ نے فرمایا ہے ایسا ہی ہو گا ۔ تھوڑی دیر کے بعد عطا ء اٹھ کھڑے ہوئے اور چل دیے ۔

اب عبدالملک نے ان کا بازو پکڑ لیا اور کہنے لگا :

انما سألتنا حوائج غیرک وقد قضیناھا ، فحاجتک؟

’’ آپ نے دوسروں کی ضروریات پیش کی ہیں ، جنہیں ہم پورا کریں گے مگر آپ نے اپنی ضرورت تو بتائی ہی نہیں ؟ ‘‘

حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے اپنا بازو چھڑایا اور کہنے لگے:

مالی الی مخلوق حاجۃ

’’ مخلوق میں سے مجھے کسی شخص سے کوئی حاجت اور ضرورت نہیں۔‘‘

یہ کہہ کر چل دیئے۔

عبدالملک نے یہ سن کر کہا :

ھذاوابیک السودد

’’ اللہ کی قسم یہی تو سرداری ہے ۔‘‘

( سیر اعلام النبلاء ، ترجمہ : عطا بن ابی رباح )

(۴)…خلیفہ ہشام بن عبدالملک حج کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا ، ایک دن اہل مکہ سے کہا کہ کوئی صحابی رسول اگر زندہ ہیں تو ان سے ملنے کی خواہش رکھتا ہوں، کہا گیا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وفات پا چکے ہیں،  کہنے لگا : اچھا تابعین میںسے کوئی ، چنانچہ حضرت طائوس بن کیسان یمانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۰۶ ھ) مکہ میں موجود تھے ۔ لوگ گئے اور ان کو خلیفہ کے پاس لے آئے ۔ جب وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئے تو اپنے جوتے قالین کے کنارے سے لگا کر اتارے اور اس کو امیر المومنین کہنے کے بجائے پکارا :

السلام علیکم! پھر اس کے قریب جا کر بیٹھ گئے

ہشام کے چہرے پر غصے کے آثار دکھائی دیئے۔ اس وقت کا دستور تھا کہ خلیفہ کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ امیر المومنین کہہ کر کنیت کے ساتھ پکارا جاتا تھا ، لیکن حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ نے کنیت کی بجائے اس سے کہا :

کیف انت یا ہشام؟

ہشام ، تم کیسے ہو؟

اب تو ہشام کو اور زیادہ غصہ آیا اور آپے سے باہر ہو کر بولا :

یا طاؤس ، ما حملک علی ما صنعت ؟

اے طاؤس! آپ کو ایسا کرنے کی جرأت کیسے ہوئی ؟

حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

وما صنعت ؟

میں نے کیا کیا ہے ؟

اب خلیفہ ہشام کے غصے میں اور اضافہ ہو گیا ۔

بولا : پہلی غلطی یہ کہ آپ نے قالین کے کنارے سے لگا کر اپنے جوتے اتارے ( یہ ادب کے خلاف ہے) دوسری غلطی یہ کہ آپ نے مجھے امیر المومنین کہہ کر سلام نہیں کیا اور مجھے میری کنیت سے پکارنے کے بجائے میرے نام سے پکارا ہے ۔ مزید یہ کہ آپ نے کہا : اے ہشام ! تم کیسے ہو ؟ بھلا حکمرانوں کو ایسے پکارا جاتا ہے؟ اور اس پر بھی طرہ یہ کہ میری اجازت کے بغیر میرے پاس آکر بیٹھ گئے؟

حضرت طاؤس ؒ نے فوراً جواب دیا : ہاں ، میں نے تمہارے پاس داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتارے ، مگر سنو ! میں تو ہر روز پانچ مرتبہ اپنے رب تعالیٰ کے گھر کے دروازے پر جوتے اتارتا ہوں اور وہ کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوا ۔

تمہارا یہ کہنا کہ میں نے تمہیں امیر المومنین کہہ کر سلام نہیں کیا ، تو بات یہ ہے کہ تمام لوگ تمہاری خلافت سے راضی نہیں ہیں اور نہ ہی تمام مسلمان تمہیں امیر المومنین مانتے ہیں ۔ لہٰذا اس میں جھوٹ کا احتمال تھا ، اس لیے میں نے تمہیں امیر المومنین کہہ کر سلام نہیں کیا ۔

تمہارا یہ کہنا کہ میں نے تمہیں کنیت کے ساتھ کیوں نہیں پکارا اور نام لے کر کیوں پکارا ہے؟ تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے دوستوں (نبیوں) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے: 

یا داؤد ، یا یحییٰ ، یا موسیٰ 

اور اپنے بد ترین دشمن کا کنیت سے ذکر کیا اور کہا :

تبت یدا ابی لھب ( ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں )

رہا تمہارا یہ کہنا کہ میں بغیر اجازت کے تمہارے پاس آکر بیٹھ گیا ، تو سنو ! میں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :

اذا اردت ان تنظر الی رجل من اھل النار فانظر الی رجل جالس وحولہ قوم قیام

’’ اگر تو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے تو اس آدمی کو دیکھ لے جو بیٹھا ہوا ہو اور اس کے ارد گرد لوگ ادب کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ اس لیے میں کھڑا رہنے کے بجائے بیٹھ گیا ۔‘‘

خلیفہ ہشام بن عبدالملک لا جواب ہو گیا اور غصہ ضبط کرنے کے کچھ دیر بعد بولا:

’’ عظنی‘‘ آپ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔

حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

انی سمعت امیر المومنین علیا ؓ یقول : ان فی جھنم حیات کالقلال و عقارب کالبغال تلدغ کل امیر لا یعدل فی رعیتہ

’’ میں نے امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :

جہنم میں پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح لمبے تڑنگے سانپ ہوں گے اور خچروں کی طرح بڑے بڑے بچھو ہوں گے ، جو رعایا کے ساتھ عدل و انصاف نہ کرنے والے امیر کو ڈسیں گے‘‘۔

(وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان ، ترجمۃ طاؤس)

(۵)… ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۸۳ھ ) اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور محدث تھے ، انہوں نے ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید کو دیکھا کہ وہ سخت پیاس کی حالت میں پینے کے لیے پانی ہاتھ میں اٹھائے ہوئے ہے اور پانی کا گلاس منہ سے لگانے ہی والا ہے ۔ ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ نے آواز دی : اے امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تھوڑی دیر پانی پینے سے رک جائیں؟

جب ہارون رشید نے پانی کا پیالہ زمین پر رکھ دیا تو ابن سماک نے عرض کیا :

استحلفک باللّٰہ تعالیٰ ، لو انک منعت ھذہ الشربۃ من الماء فبکم کنت تشتریھا؟

’’ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کو پانی کے اس گھونٹ سے روک دیا جائے تو آپ کتنی قیمت دے کر اسے خرید لیں گے؟ ‘‘ ۔

ہارون رشید نے جواب دیا : ’’ اپنی سلطنت کی آدھی دولت سے خرید لوں گا‘‘۔

ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ آپ کو خیر و مسرت کے ساتھ رکھے ! پانی پی لیجئے ‘‘۔

جب ہارون رشید نے پانی نوش کر لیا تو ابن سماک نے عرض کیا :

استحلفک باللّٰہ تعالیٰ لو انک منعت خروجھا من جو فک بعد ھذا ، فبکم کنت تشتریھا ؟

’’ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کے پیٹ سے یہ پانی نہ نکلے (پیشاب نہ ہو ) تو کتنی قیمت کے عوض اس کو نکالنے کا علاج کرائیں گے؟ ‘‘۔

ہارون رشید نے کہا : اپنی پوری سلطنت کی دولت اس کے علاج میں لگا دوں گا ۔

ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

یا امیر المومنین ، ان ملکا تربو علیہ شربۃ ما ء لخلیق ان لا ینافس فیہ۔

’’ اے امیر المومنین ! ایسی بادشاہی جو ایک گھونٹ پانی سے کم تر قیمت رکھتی ہے ، بہتر یہی ہے کہ ایسی سلطنت کی طلب میں مقابلہ بازی نہ کی جائے ‘‘۔

علامہ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

یا امیر المومنین ، فما تصنع بشی ء ؟ شربۃ ماء خیر منہ ۔

’’ اے امیر المومنین ! پھر اس سلطنت کو آپ کیا کریں گے کہ پانی کا ایک گھونٹ اس سے زیادہ قیمتی ہے ‘‘۔

خلیفہ ہارون رشید ابن سماک کی بات سننے کے بعد اس قدر زارو قطار رونے لگا کہ اس کی داڑھی کے بال آنسوئوں سے تر ہو گئے ۔

ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ ہی کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ہارون رشید سے کہا :

یا امیر المومنین ، ان اللّٰہ لم یجعل احدا فوقک ، فلا ینبغی ان یکون احد اطوع للّٰہ عزوجل منک ۔

’’ اے امیر المومنین !اللہ تعالیٰ نے ( آپ کے عہد میں) آپ سے زیادہ مرتبہ کسی اور کو عطا نہیں کیا ، اس لیے کوئی بھی شخص آپ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرماں بردار نہیں ہونا چاہیے ‘‘۔

مطلب یہ ہے کہ بندے پر جس قدر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا نزول زیادہ ہو ، اسی قدر اسے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار اور اس کا مطیع و فرمان بردار ہونا چاہیے ، اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنایا ہے اور پوری سلطنت کے آپ اکیلے مالک ہیں ، آپ سے بڑا کوئی نہیں ، کوئی آپ پر حکمران نہیں اور آپ سب پر حکمران ہیں ، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ سب لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمان بردار بنیں اور اس کے آگے جھکیں ۔ ( تاریخ مدینۃ دمشق ، ترجمۃ ہارون الرشید بن محمد المھدی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online