Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

یوم آزادی ضروری منائیں۔۔۔ مگر (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 656 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Youm e Azadi Zaroor Manein Magar

یوم آزادی ضروری منائیں۔۔۔ مگر

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 656)

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور اسے تا قیامت سلامت رکھے ۔ اتفاق سے آج ۱۴ اگست ۲۰۱۸ ء ہے اور اس طرح ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک آزادی کے ۷۱برس پورے ہو چکے ہیں ۔ اسی خوشی میں پوری قوم سر شار ہے اور گلی گلی‘ محلے محلے آج یومِ آزادی پورے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے ۔

ہمارے ہاں عام طور پر یومِ آزادی کیسے منایا جاتا ہے ؟ یہ بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔ فارسی میں کہتے ہیں:

عیاں را چہ بیاں

(جو چیز آنکھوں سے نظر آرہی ہو ‘ اُسے بتانے کی ضرورت نہیں )

کاش کہ ناچ گانے کی محفلوں ، آتش بازی کے مظاہروں ، بے ہنگم موسیقی کی سروں اور بے سروپا حرکتوں کے بجائے شہداء آزادی کے ایصالِ ثواب کی محافل منعقد ہوتیں ، مجاہدین ِ آزادی کے عظیم کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کروایاجاتا اور پاکستان کی آزادی کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات سے اہل وطن کو خبردار کیا جاتا ، تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل آزادی کے متعلق اتنی بے شعور نہ ہوتی کہ اُسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے آزادی کس سے حاصل کی تھی؟ آزادی کن مقاصد کیلئے حاصل کی گئی تھی اور اس آزادی کی نعمت کیلئے آتش و خون کے دریا عبور کر کے آنے والوں کے دلوں میں کیا جذبات موجزن تھے۔

ہماری بے خبری کی انتہاء تو یہ ہے کہ ہم تاریخ آزادی ۲۳؍مارچ ۱۹۴۰ کی قرار دادِ پاکستان سے شروع کرتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ صرف سات سال کی جدوجہد سے ۱۹۴۷ء میں ہم آزاد ہو گئے ۔ گویا انگریز جیسی شاطر اور ہندو جیسی مکار قوم نے ہمیں آزادی کا تحفہ اتنی آسانی سے پیش کر دیا ‘ جتنی آسانی سے کوئی کسی کو معمولی چیز بھی نہیں دیتا۔

تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انگریز مؤلفین جب بھی آزادی کی تاریخ لکھتے ہیں تو وہ ان تمام عظیم کرداروں کے نام لیتے ہیں ‘ جن سے انہیں نقصان پہنچا تھا اور جنہیں وہ اپنی زبان میں ’’ غدار‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں ۔ ہندو مصنفین بھی آزادی کی داستان میں ان تاریخ ساز لوگوں کے کردار کو فراموش نہیں کرتے‘ جن کی جدوجہد سے ہمیں آزادی کی نعمت نصیب ہوئی لیکن ہمارے’’انتہاء پسند‘‘مؤرخین کا اصرار ہے کہ تاریخ آزادی میں سے سارے نام نکال کر صرف ان چند ناموں کو باقی رکھا جائے ‘ جن سے یہ خوش ہیں ۔ ان ’’تنگ نظر‘‘ لوگوں کے ہاں ہر وہ عظیم ہستی لائق سزا ہے‘ جو اِن کے خیالات و نظریات سے کچھ بھی مختلف رائے رکھتی ہو ۔ جی ہاں! ان کے یہاں ہر وہ شخص غیروں کا ایجنٹ ہے‘ جس نے عوام میں مقبول عام نعروں کا ساتھ دینے کے بجائے‘ پروپیگنڈے کے سیلاب میں بہنے اور داد و تحسین سمیٹنے کے بجائے اپنی دیانتدارانہ رائے کے اظہار کا جرم کیا ۔

شاید آج مجاہدین آزادی کی روحیں‘ اس قوم کو مخاطب کر کے کہتی ہوں گی:

پتہ پتہ بوٹا بوٹا ، حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے

آپ کو اگر اس حقیقت میں کوئی شک ہے تو آج یومِ آزادی کے بیانات و تقاریر میں کہیں اُس علی وردی خان کا نام دکھا دیں‘ جس نے ۱۷۵۴ء میں انگریز کو شکست دے کر فورٹ دلیم سے انہیں بھگا یا تھا ۔

آپ نے اگر کہیں نواب سراج الدولہ کا تذکرہ سنا ہو تو ہمیں بھی بتا دیں جنہیں ۱۷۵۷ء میں انگریز فوج نے ان کے دارالسلطنت مرشد آباد میں شہید کیا تھا ۔ اب تو یہ لوگ ۱۷۸۲ء میں وفات پانے والے عظیم حریت پسند حیدر علی اور ان کے لائق صد فخر بیٹے سلطان فتح علی خان ٹیپو شہیدؒ جو انگریز کے مقابلے میں ۱۷۹۹ء میں شہید ہوئے تھے ، کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے ۔

تاریخ آزادی کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ اس جدوجہد میں خاندانِ شاہ ولی اللّٰہی کا کتنا عظیم حصہ ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلویؒ (وفات ۱۸۶۲ء) نے اسے آگے بڑھایا ۔ آپ نے ہی ۱۸۰۳ء میں انگریز کے خلاف جہاد کا مشہور فتویٰ جاری کیا ‘ جس میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا گیا تھا ۔ انہی کے مقرر کردہ امیر جہاد حضرت سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاء بالخصوص حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنے مقدس لہو سے آزادی کے خاکے میں رنگ بھرا ۔

ہر سال یومِ آزادی آتا ہے اور گزر جاتا ہے لیکن کالا پانی کے جزیرے کو آباد کرنے والے شمعِ آزادی کے پروانوں اور ہندوستان بھر کے زندانوں کو آباد کر نے والے وفا شعار مجاہدین آزادی کا نام سننے کو بھی کان ترس جاتے ہیں ۔ آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو مولانا محمد جعفر تھانیسری ؒ ، مفتی عنایت احمد کاکوریؒ ، مولانا عبداللہ صادق پوریؒ ، مولانا ولایت علی عظیم آبادیؒ اور مولانا فضل حق خیر آبادیؒ کی آزادی کیلئے پیش کی گئی قربانیوں سے واقف ہیں ۔ پھر ان کے بعد آنے والے قافلہ حریت کے پاسبان سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ ، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری ؒ اور دیگر بے شمار نامور شخصیات بھی ایسی ہیں ‘ جن کا نام لینا بھی ہمیں تاریخِ آزادی میں گوارانہیں۔

اب تو صورت حال یہ ہے کہ مصورِ پاکستا ن اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے ایسے اشعار جن سے لادینیت پر زد پڑتی ہو ، وہ بھی طبع نازک پر گراں گزرتے ہیں ۔ کون ہے جو ان کے یہ اشعار پڑھ کر سنائے :

کون ہے تارک آئین رسول مختار

مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار

ہو گئی کس کی نگاہ طرزِ سلف سے بیزار

قلب میں سوز نہیں‘ روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد(ﷺ) کا تمہیں پاس نہیں

ہاں اب تو تحریکِ پاکستان کے دوران محمد اصغر قدوائی مرحوم کے یہ زباں زد عام اشعار پڑھنا بھی گوارا نہیں ہوتا:

شب ظلمت میں گزاری ہے

اُٹھ وقت بیداری ہے

جنگ شجاعت جاری ہے

آتش و آہن سے لڑ جا

پاکستان کا مطلب کیا؟

 لا الہ الا اللّٰہ

ہادی و رہبر سرور دیں

صاحب علم و عزم و یقین

قرآن کی مانند حسیں

احمد مرسل صل علی

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللّٰہ

۱۴؍اگست کے دن‘ اب تو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے وہ فرامین بھی خاک تلے دفن کر دئیے جاتے ہیں جن میں قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد متعدد مواقع پر انہوں نے قیامِ پاکستان کے مقاصد کو کھول کر بیان کیا تھا۔ مثلاً :

۳۱؍جنوری ۱۹۴۸ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا:

’’ ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا ‘ بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے ، جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔

۲۵؍جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ‘ جو دیدہ و دانستہ شرارت سے یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں‘ جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔ میں ایسے لوگوں کو جو بد قسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں کہ نہ صرف مسلمانوں کو ‘ بلکہ یہاں غیر مسلموں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے‘‘۔

ظاہر ہے کہ جو لوگ اپنے قائدین کے فرامین سے ہی نا واقف ہوں ، اُن سے یہ توقع کرنا کہ وہ تحریک پاکستان میں بنیادی کردار ادا کرنے والی شخصیت حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، مغربی پاکستان کے اُس وقت کے دارالحکومت کراچی میں سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرانے والے مفسرِ قرآن مولانا شبیر احمد عثمانیؒاور مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرانے والے عظیم عالم دین مولانا ظفر احمد عثمانی  ؒ اور مختلف مکاتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والی دیگر نامور ہستیوں کے کارناموں کا اعتراف کریں گے، محض فضول اور بیکار ہے۔

تاریخ کا یہ کتنا بھیانک اور نا قابل معافی جرم ہے کہ جس مقصد پر بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنی جان و مال کی قربانی پیش کی ‘ جس نظریے کی خاطر ہزاروں مسلمان مائیں‘ بہنیں اور بیٹیاں قربان ہو گئیں‘ جس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ہجرت کی وہ لازوال داستان رقم کی گئی ‘ جس کی مثال صدیوں میں نہیں ملتی ‘ آج اُسی مقصد ‘ اُسی نظریے اور اُسی ہدف کو نئی نسل کی نظر میں مشکوک اور ان کے دل و دماغ میں مبہم بنایا جا رہا ہے

ایک ایسا ملک جو خالص نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آیا ‘ ایک ایسی ریاست جسے نفاذِ اسلام کیلئے حاصل کیا گیا اور ایک ایسا خطۂ ارضی جسے مسلمانوں کی بقاء کی ضمانت ٹھہرایا گیا ‘ آج وہاں کی پارلیمنٹ سے لے کر عدالتوں تک ‘ ایوانوں سے لے کر بازاروں تک اور درسگاہوں سے لے کر میدانوں تک ہر جگہ ہر وقت اسی نظریئے اور بنیاد کو فراموش کیا جا رہا ہے بلکہ جو شخص بھولے سے اسلام کا نام بھی لے لے ‘ الٹا اسے ہی مطعون کہا جاتا ہے اور قابل گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے ۔

اگر ہماری نظریاتی بنیادیں مستحکم ہوتیں اور ہم اسلام کے زریں اصولوں کو نبھا رہے ہوتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ ہمارے قانون ساز اداروں میں اسلام کے صریح احکام کے خلاف قانون سازی ہوتی ‘ ہماری معاشرتی نا انصافی ‘ غربت ، بے روزگاری اور سماجی ناہمواریوں کا دور دورہ ہوتا ‘ ہم اپنے ہی برادر اسلامی ممالک کے خلاف عالمی کفریہ طاقتوں کو اپنا کندھا پیش کرتے ‘ ایک وقت میں جب ہالینڈ کے گستاخ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی بد ترین توہین کر رہے ہیں، ہمارے تمام ادارے چپ سادھ لیتے اور کشمیر جسے ہماری شہ رگ کہا گیا تھا ‘ اس کے بارے میں ہم مجرمانہ غفلت کا شکار ہو جاتے ۔

یوم آزادی کو تو ساری قوم کا مزاج جشن منانے کا ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر یہ ناگوار باتیں کرنا بظاہر رنگ میں بھنگ ڈالنے اور کباب میں ہڈی بننے کے مترادف معلوم ہوتا ہے لیکن :

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر

کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

ہمیں یومِ آزادی ضرور منانا چاہیے اور اللہ کرے کہ اہل وطن کو آزادی کی خوشی اور شکر کے بے شمار دن نصیب ہوں ۔ صحیح بخاری میں حدیث شریف (حدیث نمبر:۳۱۵۰) موجود ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے دس محرم کا روزہ رکھنے کی وجہ معلوم کی تو انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کا دن ہے اس دن ہماری قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مظالم سے نجات دی تھی ، جس پر ہمارے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا ۔ تب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم تم لوگوں کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ اس سے پتہ چلا کہ شرعی اور اخلاقی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے اگر ایسے خوشی کے دن میں بغیر کسی التزام کے خوشی منائی جائے تو بہت مناسب بات ہے لیکن ۱۹۷۱ء کو سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں ہم ایسے جرائم کی پاداش میں اپنا آدھا ملک کھو بیٹھے ہیں اور اگر زوال کا یہ سفر نہیں رکتا تو یقین جانیں ہماری ملکی بقاء پر منڈلاتے ہوئے خطرات صرف خوش کن نعروں سے نہیں ٹالے جا سکتے اور نہ ہی صرف خوشنما باتیں ملک و ملت کی نجات کا باعث بن سکتی ہیں ۔

اللہ کریم وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور ہر شر و شریر سے اس کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online